ملاکنڈڈویژن کو مزید دس سال تک ٹیکس سے استشنیٰ دیا جائے اور اس دوران غربت کے خاتمے، انفراسٹرکچر کی بہتری، تعلیم وصحت و دیگر ضروریات زندگی کے لیے بڑے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے۔عنایت اللہ خان
ملاکنڈڈویژن کو مزید دس سال تک ٹیکس سے استشنیٰ دیا جائے اور اس دوران ملاکنڈ ڈویژن میں غربت کے خاتمے، انفراسٹرکچر کی بہتری، تعلیم وصحت و دیگر ضروریات زندگی کے لیے بڑے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے۔عنایت اللہ خان
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز)جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نائب امیر و ممبر صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے حقوق کے حصول کے لئے تحریک شروع کررہے ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن ملکی معیشت میں زرمبادلہ، بجلی کے منصوبوں، سیاحت، زراعت اور معدنیات کی صورت میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے لیکن اسے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ الحاق کے وقت ریاست کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگا لیکن اب حکومت ٹیکسوں کے نفاذ کے لیے پر تول رہی ہے۔ مختلف اشیاء پر ٹیکس لاگو کیا جارہا ہے اور ٹیکس کے اداروں کو مستحکم کیا جارہا ہے یہ دستور پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملاکنڈڈویژن کو مزید دس سال تک ٹیکس سے استشنیٰ دیا جائے اور اس دوران ملاکنڈ ڈویژن میں غربت کے خاتمے، انفراسٹرکچر کی بہتری، تعلیم وصحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور دیگر ضروریات زندگی کے لیے بڑے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے۔
22 نومبر کو بٹخیلہ میں ملاکنڈ ڈویژن کے مسائل اور حقوق کے حوالے سے منعقد ہونے والے گرینڈ جرگہ میں آئندہ کا لائحہ عمل اور روڈ میپ دیں گے۔ اس میں اضلاع کی سطح پر جرگے، شٹرڈاؤن ہڑتال اور دھرنے سمیت احتجاج کا ہر پُرامن طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ ہم اپنی اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے المرکز الاسلامی سواڑی بونیر میں حقوق ملاکنڈ ڈویژن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی بونیر کے امیر محمد حلیم باچا، انجینئر ناصر خان، سابق سپیکر بخت جہان خان اور دیگر جماعتوں، تاجر تنظیموں کے نمائندگان اورسوشل ورکرز شریک تھے۔ عنایت اللہ خان نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن میں ایک بار پھر بدامنی سراٹھارہی ہے ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے ملاکنڈڈویژن کی شاہراہوں کی صورتحال ابترہے۔ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کی حکومتوں نے ملاکنڈڈویژن کو سی پیک میں شامل کرانے کا وعدہ کیا تھا لیکن دونوں جماعتوں کی حکومتوں نے وعدہ خلافی کی۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ملاکنڈڈویژن کی شاہراہوں کی حالت زاربہتر بنائے اور مزید دس سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ دے۔
انھوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع سے بھی ترقی میں بہت پیچھے ہے۔ حکومت ملاکنڈ ڈویژن کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان کرے، جس طرح سابقہ فاٹا کے اضلاع کو 100 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج دیا گیا، ہمیں بھی آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے ترقیاتی پیکج دیا جائے۔انھوں نے کہا کہ امن، ٹیکسیشن اور حقوق، ملاکنڈ ڈویژن کے مشترکہ مسائل ہیں اور اس میں ہم ہر جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی ملاکنڈ ڈویژن کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے، آئندہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔