The Voice of Chitral since 2004
Monday, 4 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ وہی خدا ہے ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ وہی خدا ہے ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں زمین پر فطری مناظر سے لبالب بصری جنت کا نظارہ کر رہا تھا چاروں طرف فطرت کے جلوے ہی جلوے کرشمے ہی کرشمے نظارے ہی نظارے ہر منظر اتنا دلکش جامع اور بھرپور کہ دنیا کا بڑے سے بڑا منکر خدا بھی اگر دیکھ لے تو کروڑوں ایمان لے آئے میرے سامنے خدا کے وجود کی شہادتوں کا ایک انبار موجود تھا میں خالق کا ئنات کے حیرت انگیز تخیل پر عالم محویت میں تھا۔فطرت کا خاص امتیاز اس کا سحرانگیزحسن ہے جس کا نظارہ کرتے ہمارا جمالیاتی ذوق حرکت میں آجاتا ہے میرے چاروں طرف رنگ برنگے پھول مسکرا رہے تھے ناچ رہے تھے میرا شعور سائنسدانوں کی اس بات پر ماتم کناں تھا جب وہ کہتے ہیں کہ ہماری زمین آگ برساتے سورج سے نکلی تھی تو عقل ان تبدیلیوں پر حیران رہ جاتی ہے جس کی آخری کڑی مسکراتے ناچتے پھول تھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے آگ برساتے شعلوں کورام کر کے مسکراتے ناچتے پھولوں میں تبدیل کر دیا ہو میں نے غیرارادی طور پر ایک پھول توڑ لیا غور سے دیکھا تو اس پر باریک ننھے منے کیڑے یا چیونٹیاں نظر آ رہی تھیں لیکن میں نے جیسے ہی پھول کو سونگھنے کی کوشش کی تو ننھی منی چیونٹیاں ہوا میں پرواز کر گئیں شدید حیرت ہوئی کہ یہ تو اڑنے والی باریک مکھیاں ہیں جن کے سر پاں نظر نہیں آرہے تھے ان کی ٹانگیں ہاتھ پاں اور پر بلکل بھی نظر نہیں آ رہے تھے

خالق کائنات کی خالقیت کا نقطہ عروج ملاحظہ فرمائیں کہ نظر نہ آنے والے ہاتھ پاں اور پروں میں کس طرح نظام خون کا جال بچھایا تو پاں پنکھ نظر نہ آنے کے باوجود وہ مکمل تھیں ان کے پیٹ میں انتڑیاں سینے میں دھڑکتا دل یہ کس طرح کھاتی پیتی سوتی افزائش نسل کے مراحل سے گزرتی ہونگی خالق کائنات نے ان کے باریک پر ہاتھ پاں بنانے کیلئے کونسے آلات استعمال کئے ہونگے۔واہ سبحان اللہ۔انسان کی بنائی ہوئی مشینیں نہ خود چلتی ہیں نہ ہی اپنی مرمت کر سکتی ہیں لیکن خدا کی تخلیق کا اعجاز دیکھیں خود ہی مرمت خود ہی چلتی ہیں امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے مین گیٹ پر کیا خوب لکھا ہوا ہے اے خدا میری آنکھیں کھول دے کہ میں تیری تخلیق کے عجائبات دیکھ سکوں منکرین خدا کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے وہ غور کریں تو دیکھیں تو روز اول سے ہی مشاہدہ جاری ہے کہ زندگی سے زندگی کا سفر جاری ہے کائنات کا چپہ چپہ چھان ماریں غور کرلیں کوئی ایک بھی ایسی مثال موجود نہیں کہ زندگی سے موت نمودار ہوتی ہو،شروع میں جب زمین آگ برساتے سورج سے الگ ہوئی تو سورج کی طرح دہکتا ہوا جہنم بھی اور پھر اس جہنم پر زندگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا بعد میں اس پر زندگی کیسے آگئی سائنس دانوں کے پاس اس سوال کا جواب آج بھی نہیں ہے

کائنات پر جب آپ غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک وحدت اور ہم آہنگی نظر آتی ہے اربوں سیارے مقررہ رفتار سے محو سفر ہیں،مقررہ اوقات پر مشرق سے نکل کر مغرب کی طرف جا رہے ہیں،زمین پر مقررہ وقتوں پر مخصوص موسم آتے ہیں انسان کا دل ایک منٹ میں 72بار دھڑکتا ہے پھیپھڑے ایک منٹ میں سترہ اٹھاراں بار پھیلتے سکڑتے ہیں یہ آئین فطرت ہے یہ ترتیب سیاروں اور دھڑکتے دل میں دیکھی جا سکتی ہے اس وسیع و عریض کائنات میں ایک بھی ایسا منظر نہیں ہے جسے دیکھ کر یہ لگتا ہو کہ یہ اتفاقیہ معرض وجود میں آگیا ہوبلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ ایک عظیم پلان کا نتیجہ جو ایک بلند ترین دانش نے سوچا قرآن مجیدکی سور انبیا میں ارشاد باری تعالی ہے کیا منکرین خدا نہیں دیکھتے کہ شروع میں آسمان اور تمام ستاروں کا تکوینی مواد آپس میں ملا ہوا تھا پھر ہم نے اسے الگ الگ کیا اور ہرزندہ چیز پانی (سمندر)سے بنائی کیا وہ اب بھی تسلیم نہیں کرتے ہم نے زمین پر بوجھل پہاڑ ڈال دیئے تاکہ وہ کسی طرف جھک نہ جائے اور ان پہاڑوں میں راستے بناد یئے تاکہ مسافر منزل تک پہنچ سکیں ہم نے آسمان کو ایک مضبوط چھت بنا دیا تھا لیکن لوگ ان آیات کی طرف توجہ نہیں کرتے خالق کائنات نے رات دن سورج اور چاند کی تخلیق بھی کی ہے اور یہ سب اپنے اپنے آسمانوں میں تیر رہے ہیں۔

آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں آپ کو نظر آئے گا کہ فطرت اپنے اظہار کیلئے بے تاب ہے اس کا حسن نہ صرف کوہساروں ستاروں اور پہاڑوں میں نظر آتا ہے بلکہ حضرت انسان میں بھی پایا جاتا ہے۔اسی فطرت کے تحت انسان ہر وقت خوب سے خوب کی تلاش میں رہتا ہے اور فطرت کے اظہار کا یہی سب سے اچھا انداز بھی ہے آپ بلند و بالا پہاڑوں پر چلے جائیں،وسیع و عریض ریگستانوں میں ڈیرے ڈال دیں،ہر منظر مکمل اکائی کے طور پر نظر آتا ہے خالق کائنات کی کسی بھی تخلیق کا آپ مطالعہ کریں تو جیسے جیسے اسرار کے پردے ہٹتے جائیں گے آپ خالق کائنات کے وجود کے قائل ہوتے جائیں گے میں جو بچپن سے فطرت کے مناظر کا دلدادہ رہا ہوں اس وقت بھی لوک لومڈ(سکاٹ لینڈ)کی سحر انگیز وادی میں بیٹھا خالق کائنات کو یاد کر رہا تھا میرے سامنے دور تک جھیل کا پانی آسمان پر سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی اس آنکھ مچولی کی وجہ سے سطح آب اور وادی پر دھوپ چھاں کا نرالا کھیل پانی پر سفید خاکستری پرندوں کی قطاریں درمیان میں کہیں کہیں سفید رنگ کے بحری جہاز آسمان پر چھوٹے ہوائی جہاز بادل آئے تو نرم شبنمی پھوار چہروں کو چھوتی گزرتی جاتی دور جھیل کے دوسری طرف سر سبز شادب پہاڑی سلسلہ جھیل کا ہر قطرہ جنگل کا ہرپتا اور ریت کا ہرذرہ خدا کی مدح سرائی میں لگا ہوا تھا مجھے سور حدید کی پہلی آیت یاد آگئی۔

زمین آسمان کی ہر چیز میرے نام کی تسبیح کرتی ہے تم بھی کرو۔یہ سوچ کر میرے ہونٹوں پر بھی حمدو ثناکے زمزے جاری ہو گئے میں بھی وادی کے منظر کا حصہ بن گیا نشہ سرور و جد میری دل و دماغ سے گزرتا ہوا میرے دماغ کے عمیق اور بعید ترین گوشوں تک سرایت کر گیا،میں وادی کے بے پناہ حسن میں مبہوت ہو گیا تھا دنیا سے بے خبر ہو چکا تھا کہ اچانک کسی نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا میں نے مڑ کر دیکھا تو میرے میز بانوں میں سے ایک نوجوان لڑکا ہاتھ میں گرما گرم کافی کا بڑا سا مگ لئے کھڑا تھا وادی کے یخ ٹھنڈے موسم میں گرما گرم کافی میں نے ہاتھ میں مگ پکڑا اور گرما گرم تلخ و شیریں گھونٹ حلق سے اتار لیا نوجوان میرے پاس بیٹھ گیا اور بولا سر یقینااس وادی نے آپ کو متاثر کیا ہوگا سر میں خدا کے بارے میں بہت مشکوک ہوں یہاں کے کلچر نے میرے دماغ میں خدا کے حوالے سے بہت سارے سوال اٹھا رکھے ہیں

آپ مجھے یقین دلائیں کہ خدا ہے میں نے دنیا کے بہت سارے مذاہب کا مطالعہ کیا ہے لیکن میں مطمئن نہیں ہوا میں اس کی طرف متوجہ ہوا اور بولا بیٹا تم نے محمدﷺکی زندگی کا مطالعہ کیا تو بولا کہ مسلم غیر مسلم لکھاریوں کی سیرت کی کتابیں مطالعہ کر چکا ہوں میں نے پوچھا کیا آج تک کسی نے بھی یہ کہا کہ محبوب خدا نے ساری زندگی ایک بھی جھوٹ بولا ہو وہ بولا نہیں مسلم غیر مسلم سب مانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺدنیا کے سچے ترین انسان ہیں جنہوں نے ساری عمر سچ بولا میں نے نوجوان کے کندھے پکڑے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور پوچھا کیا ایسا شخص جس نے ساری زندگی سچ بولا ہو کسی جھوٹے خدا کی تبلیغ کر سکتا ہے نوجوان کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں پھر شکرانے کے موتی اس کی پلکوں پر لرزنے لگے اور وہ بولا آج مجھے واقعی میرے سوال کا جواب مل گیا محبوب خدا جنہوں نے ساری عمر سچ بولا وہ خدا کے بارے میں کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں۔میں پھر وادی کے لازوال حسن کی طرف متوجہ ہو گیا جس کا چپہ چپہ خدا کی کبریائی کا کھلم کھلا اظہار کر رہا تھا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
117429

بزمِ درویش ۔ وہی خدا ہے۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ وہی خدا ہے۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

خو ش قسمت ہو تے ہیں وہ لو گ جن کی کسی ادا با ت لفظ حرکت عبا دت ریا ضت مجا ہدے، دعا سے خا لقِ کائنات راضی ہو جا تا ہے اور پھر اس کے دل کو اپنی محبت سے بھر دیتا ہے جب کسی انسان کے دل و دماغ میں خدا کی محبت کا شگو فہ کھِلتا ہے تو اس کا کائنات میں بکھر ے ہو ئے خدا کے منا ظر میں صرف اور صرف مالک کائنات ہی نظر آتا ہے بلا شبہ کا ئنات میں ہر طرف حسن بکھرا پڑا ہے یہ مسکراتے نا چتے پھول اور ستا رے گنگناتی ہو ئی ہوا ئیں مست گھٹائیں لہراتی ہو ئی بجلیاں پہا ڑوں سے پھو ٹتے چشمے اور جھرنے پہا ڑوں سے گر تی ہوئی آبشاریں گا تی ہو ئی ندیا ں میٹھی دل آویز چاندنی سنہری دھو پ خما ر آلو د شا میں یہ درخت با غات با رش اڑتے سر مئی با دل چار سو جلو ے ہی جلو ے نغمے ہی نغمے کائنات میں ہر وقت رنگ و نور کی برسات جا ری رہتی ہے قوسِ قزح کے رنگ کہکشاں کی روشنی آسمان چاند تارے ہر منظرِ خدا کے وجود کی گوا ہی دیتا ہے

ظا ہری حسن کے ساتھ ساتھ اِن میں بلا کی لطا فت اور پیچیدگی پا ئی جا تی ہیوہیل مچھلی کے صرف ایک بال تک غذا پہنچانے کے لیے چار سو نسوں کا جال بچھا ہوا ہے انسانی دما غ کروڑوں اعصابی خلیوں اور جوا ہر کا مرکب ہے خدا ئے واحد کی بڑی تخلیقات کے ساتھ ساتھ ایسی با رک مکھیاں بھی نظر آتی ہیں جو اتنی ننھی اور چھوٹی ہو تی ہیں کہ ان کے پر سر اور پا ں تک دکھا ئی نہیں دیتے لیکن وہ اپنی ذات میں مکمل ہو تی ہیں اس خالقِ عظیم کی عظمت ملا حظہ ہو کہ اس نے اِن کی با ریک ٹا نگیں اور پر بنانے کے لیے کو نسا طریقہ یا آلا ت استعمال کئے ہیں اگر انسان اپنے جسم پر ہی غو ر کر لے تو خدا کے آگے سجدہ ریز ہو جا ئے ہم جب قدم اٹھا تے ہیں تو ایک ٹا نگ جسم کا سہا را دیتی ہے اور دوسری آگے بڑھتی ہی اِس چھوٹے سے عمل میں تقریبا ایک سو اٹھ پٹھے کام کر تے ہیں لیکن اس خدا کی تخلیق پر حیران جا ئیں کہ ہمیں با لکل بھی احساس نہیں ہو تا کب پٹھے مڑے پھیلے اور سکڑے ہما را جسم ایک مشین کی طرح کا م کر تا ہے

ہما رے جسم کے تمام اعضا ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کر تے ہیں انسان کی بتا ئی مشین نہ تو اپنی دیکھ بھا ل اور نہ ہی اپنی مرمت کر تی ہے لیکن حیوانی مشین اپنی مرمت اور دیکھ بھال خو د بخود کر تی رہتی ہے یہ روزِ اول سے ما دے کو توا نا ئی میں اور توا نائی کو ما دے میں خو د ہی کر رہی ہے اِس میں ہما ری کو ئی کو شش نہیں ہے جب بھی کو ئی وائرس یا جراثیم ہما رے اند ر چلا جا تا ہے تو ہما را دفاعی نظا م اس پر ٹو ٹ پڑتا ہے زخم اورہڈی اگر ٹوٹ جا تے تو خو د ہی مرمت اور ٹھیک ہو جاتے ہیں خو ن اگر بہہ نکلے تو خو د ہی جمنا شروع ہو جا تا ہے جسم کے سارے اندرونی نظا م خود بخود ہی کام کر تے رہتے ہیں جب ہم جا ندار اشیا کا مطالعہ کر تے ہیں تو ہمیں حیرت انگیز منظر اور پلان نظر آتا ہے ہر جاندار ماحول کے سانچے میں ڈھل رہا ہے کچھ جانور ایسے ہیں جو صرف خشکی پر زند ہ رہ سکتے ہیں

کچھ ہوا میں کچھ کھا رے پا نی میں کچھ میٹھے پا نی میں مچھلی کی ایک قسم سمندر کی گہرائیوں میں رہتی ہے جہاں روشنی نہیں پہنچ سکتی کچھ جا نور صرف بر فوں میں ہی رہ سکتے ہیں کچھ آگ برساتے صحراں میں کچھ پہا ڑوں کی بلندیوں پر قدرت نے اِن جانوروں کی حفاظت کا بھی شاندار خو د کار نظام وضع کر رکھا ہے جو جا نور جس ما حول میں رہتا ہے اسے وہی رنگ عطا کر دیا جا تا ہے تا کہ وہ نظر نہ آسکے کا ئنات کا آپس کا با ہمی تعلق بھی کیا خو ب ہے پو دوں کا انحصار زمین کی زرخیزی ہے تو حیوانات کا پودوں پر باغ میں کو ئی پھول اس وقت تک نہیں کھل سکتا اور پھل میں شیرینی نہیں آسکتی جب تک ستا روں کی شعاوں سے مستفیض نہ ہو ں انسان کے معمولات پر اگر غو ر کریں تو خدا یا د آجا تا ہے انسان نے اپنے کاموں کے لیے مختلف لیور بنا ئے کنویں سے پانی نکا لنے کے لیے چرکھڑی زمین جو تنے کے لیے ہل بنا یا کدال درانتی بیلچہ اِس قسم کا نظا م انسانی جسم میں بھی ہے مثلا ایک لیور سر اٹھا نے اور جھکا نے کے لیے دوسرا بدن کو سہا را دیتے اور تیسرا اشیا کو اٹھانے کے لیے اور آپ دیکھیں جسم کے لہر جوڑ پر قبضے لگا دئیے جا تے ہیں.

ہما رے کندھوں گھٹنوں ٹخنوں کلائیوں کہنیوں اور کمر کو مضبو ط قبضوں نے جکڑ رکھا ہے بدن میں با ریک نا لیوں کا جال بچھا ہو اہے اور جا بجا والو لگے ہو ئے ہیں کمال کی تخلیق ملا حظہ ہو کہ ہوا غذا کی نا لیوں میں نہیں جا سکتی اور نہ غذا ہوا کی نا لی میں اِسطرح کے والو شریا نوں میں بھی موجو د ہیں ہما رے جو ڑوں کو تیل دینے کا بھی فطری نظام موجود ہے دانت میں خون کی سپلا ئی کا نظام کتنا حیرت انگیز ہے آنکھ اور کان کی ساخت دیکھ کر تو انسان سجدہ ریز ہو جا تا ہے اس خدا کی خا لقیت کو دیکھ کر اور خا لق عظیم کی ثنا پر مجبور ہو جا تا ہے اب خدا کو نہ ماننے والوں سے یہ سادہ سا سوا ل ہے کہ کیا حیوانی جسم کی مشینیں مثلا کان آنکھ زبان معدہ جگر دل پھیپھڑے کیا کسی خا لق کے بغیر ہی تخلیق پا گئے ہیں؟ کیسا اتنی کامیا ب اور بھر پو ر مشینوں کی تخلیق کے لیے اعلی درجے کا علم اور دما غ نہیں چاہیے تھا ااگر ہم یہ مان لیں کہ آنکھ کان ایک خود کار نظا م یا مشین کی تخلیق سے تو پہلا سوا ل یہ اٹھے گا کہ اس خو د کار نظام یا مشین کا خالق کو ن ہے وہ رب ہے اِس کا ئنا ت کا اکلوتاوارث آپ جب کا ئنا ت میں مختلف تخلیقات پر غور کر تے ہیں تو نو ٹ کر تے ہیں کہ کا ئنا ت کی ترتیب حسن اور تنو ع میں کو ئی غیر معمولی علم اور دانش کا م کر رہی ہے

کو ئی بے پنا ہ ہے کو ئی بھی تخلیق آپ دیکھ لیں آپ کو غیر معمولی پرفیکشن نظر آتی ہے جب انسان کو ئی مشین بنا تا ہے تو اس میں بہت سارے نقائص نظر آتے ہیں انسانی مشینوں کی آوازوں گڑگڑاہٹ سے اردگرد نواع میں زلزلے کی سی حالت بن جاتی ہے کہ اِن مشینوں کے شور سے پاس کھڑا ہو نا بھی مشکل ہو جا تا ہے اور جب آپ خدا کی تخلیقات کی طرف دیکھتے ہیں تو حیران ہو جا تے ہیں کہ آپ کے اطراف میں کروڑوں مشین یوں چل رہی ہیں کہ کہیں سے ہلکی سی آواز بھی نہیں نکلتی آپ کسی پھو ل کے پودے کو دیکھیں کس طرح پھو ل اپنے تخلیقی مراحل سے گزرتا ہے آپ آم کے درخت کو دیکھیں جو ایک مکمل فیکٹری سے جس میں پتے شاخیں ہیں جڑوں میں پہلے بور آتا ہے جو امبیوں میں ڈھلتا ہے اور امبیاں آم کی شکل میں آم میں دنیا کا بہترین ذائقہ گھٹلی مٹھا س خوشبو اور لذیذ ترین رس پا یا جا تا ہے

اگر آپ کو کوئی جو س کی بو تل بنا نی یا بھر نی ہو تو کئی مشین کام کر تی ہیں جبکہ آپ خدا کی مشینوں کو دیکھیں کس طرح خا موشی ادب اور پراسرار طریقے سے کام کر رہی ہیں کہ کو ئی شور نہیں کو ئی آواز نہیں اگر قدرت کی بنا ئی مشینوں سے آوازیں نکلتی تو یہ زمین رہنے کے قابل نہ رہی جس طرح دھما کوں زلزلوں ٹرین کے آنے سے انسان جانور دور بھا گ جا تے ہیں اِسی طرح قدرتی مشینوں کے شور سے بھی بھا گ جا تے اِن قدرتی مشینوں کی خا موشی اس خالقِ عظیم کے بے پنا ہ علم کا ثبو ت ہے یہ کسی میں اتنی ہمت اور علم کہ وہ اِن درختوں اور پو دوں کی گنتی کر سکے یہ با ت تو طے ہے کہ کا ئنا ت کا نظام جو نہا یت با قاعدگی سے چل رہا ہے اِس میں کہیں کو ئی خرابی خا می نہیں آتی تو اِس کو کون چلا رہا ہے ہا ں پس حجاب پر دے کے پیچھے کو ن ہے اِس کا نپتی لر زتی کا ئنا ت کو جس غیر مر ئی ہا تھ نے چابک دستی سے تھا م رکھا ہے وہی خدا ہے اِس کا ئنات کا حقیقی اور اکلوتا وارث۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91540