The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وفاق خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے کے بقایاجات ادا کرے، اس کے مالی حقوق کی ادائیگی آئینی تقاضا ہے۔ وزیراعلیٰ 

وفاق خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے کے بقایاجات ادا کرے، اس کے مالی حقوق کی ادائیگی آئینی تقاضا ہے۔ وزیراعلیٰ

پشاور ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے بے گھر اور متاثرہ خاندانوں کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے پر شور مچانے والے آج خاموش کیوں ہیں جب پنجاب حکومت کی جانب سے 37 ملین ڈالر سے طیارہ خریدا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھلا دوہرا معیار اور عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ پاکستان قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک ہے، آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف قومی خزانہ ذاتی آسائشوں پر لٹایا جا رہا ہے، یہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کے 5300 ارب روپے کی کرپشن آئی ایم ایف نے رپورٹ کی ہے جو ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے اور یہ کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا پیسہ ہے، جس پر آواز اٹھانا ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر نومنتخب کابینہ اور گورننگ باڈی اراکین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پشاور پریس کلب نے ہر حالات میں بروقت انتخابات کرا کے جمہوریت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ ہو، دہشت گردی کے واقعات ہوں یا دیگر مشکلات، پریس کلب نے کبھی اپنے انتخابات مو خر نہیں کیے، جو جمہوری روایات کا حسن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بانی چیئرمین عمران خان کے وڑن کے مطابق مضبوط صحافت اور مضبوط جمہوری اداروں کو ملک کے استحکام کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔ صوبے میں صحافیوں کو اظہار رائے اور تنقید کی مکمل آزادی حاصل ہے اور حکومت مثبت تنقید کو اصلاح کے جذبے سے قبول کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے شدید حالات میں صحافت کرنا آسان نہیں تھا، مگر صوبے کے صحافیوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور عوام کی آواز بنے رہے۔ انہوں نے صحافیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پرامن احتجاج کیا گیا مگر حکومت نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی دینا آئینی، قانونی اور انسانی بنیادی حق ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنا تشویش ناک ہے۔ اگر اس معاملے پر ہٹ دھرمی جاری رہی تو اس سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتی تاہم بنیادی حقوق کی فراہمی ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پلیٹ لیٹس گرنے کے مبینہ جعلی معاملے کے باوجود عمران خان کی طرف سے صحت کی بنیاد پر ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ بڑے دل کا مظاہرہ تھا، لیکن آج عمران خان کو جیل کے اندر بھی ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون اور انصاف کا دوہرا معیار ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے کے بقایاجات ادا کرے کیونکہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد میں بے مثال قربانیاں دیتا رہا ہے اور اس کے مالی حقوق کی ادائیگی آئینی تقاضا ہے۔ اس موقع پر پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض کی جانب سے سپاسنامہ کے جواب میں وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور پریس کلب کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے پندرہ کروڑ روپے کی ون ٹائم سپیشل گرانٹ کا اعلان کیا۔ انہوں نے صحافیوں کے لیے اسکالرشپس کی تعداد 100 سے بڑھا کر 150 کرنے اور جرنلسٹس انڈومنٹ فنڈ 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور ویلی میں صحافی کالونی کے ماسٹر پلان کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری اطلاعات اور سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کو پشاور پریس کلب کے لیے کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے پی سی ون جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے یقین دہانی کرائی کہ خیبر پختونخوا حکومت ہر خوشی اور غم میں صحافی برادری کے ساتھ کھڑی رہے گی تاہم صحافی برادری سے بھی توقع رکھتی ہے کہ صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کے لیے اپنی آواز بلند کریں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
118201