The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وفاقی کابینہ کا انتخابات کیلیے فنڈز دینے کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا فیصلہ

Posted on

وفاقی کابینہ کا انتخابات کیلیے فنڈز دینے کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا فیصلہ

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )وفاقی کابینہ نے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے کے بجائے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی اور آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے شروع ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، عطا اللہ تارڑ، ملک احمد خان سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی صدارت شہباز شریف نے لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔وفاقی کابینہ اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی جبکہ قانونی مشاورت اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔عدالتی اصلاحات بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرانے پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے فنڈز دینے کے سپریم کورٹ کے حکم کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ شرکا نے الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا فیصلہ کیا اور طے کیا کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ سے رائے لی جائے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
73385

وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کردیا

Posted on

وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کردیا

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ) سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس جاری ہے جس میں کابینہ نے انتخابات کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کردیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے جس میں ای سی سی کے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں قومی اسپورٹس پالیسی ڈیفر کردی گئی اور سیاسی امور پر گفتگو کا آغاز ہوا۔ سیکرہٹری اور تمام سرکاری افسران اجلاس سے باہر چلے گئے۔اجلاس میں الیکشن التوا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورت حال پر غور کیا جارہا ہے۔ شرکا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ذرائع کے مطابق شرکا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ناقابل عمل ہے۔

4اپریل کو ایک وزیراعظم کا عدالتی قتل ہوا اور آج پھر عدل وانصاف کا ایک قتل ہوا ہے

اسلام آباد (سی ایم لنکس) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ 4اپریل کو ایک وزیراعظم کا عدالتی قتل ہوا اور آج ہی کے دن آئین کا قتل ہوا ہے، آج 4اپریل کو الیکشن کا متنازع فیصلہ آگیا ہے، ذوالفقار بھٹو کے 12سال سے زیرالتواء عدالتی قتل کیس کی سماعت ہونی چاہیئے۔انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔بھٹو کے عدالتی قتل کا ریفرنس 12سال سے عدالت میں زیرالتواء ہے، جو ریفرنس 12سال سے پڑا ہوا ہے اس کا فیصلہ ہونا چاہیئے، ذوالفقار بھٹو کے عدالتی قتل کیس کی سماعت ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو 1973کے آئین کے بانیوں سے میں سے ہیں، یہ پاکستان کی تاریخی خدمت تھی جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ آج کے دن ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل ہوا، اور آج ہی ایک الیکشن کا متنازع فیصلہ آگیا، 4اپریل کو ایک وزیراعظم کا عدالتی قتل ہوا اور 4اپریل کو ہی آج آئین کا قتل ہوا ہے۔

chitraltimes shahbaz sharif addressing assembly session

اسی طرح وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان نے انصاف کے ترازو کو دیکھتے ہوئے آئینی فریضہ ادا کیا اور قرارداد منظور کی، ایک ضدی شخص کی تسکین کیلئے دو اسمبلیاں تحلیل کی گئیں، دو اسمبلیوں میں انتخابات کا مقصد تقسیم ڈالنا ہے،آدھے ملک میں ابھی انتخابات کروا لیں اور آدھے بعد میں کروا لیں، یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جب قومی اسمبلی کے الیکشن ہوں گے تو پنجاب میں جس کی بھی حکومت ہوگی تاثر جائے گا کہ وہ اثر انداز ہورہی ہے۔آرٹیکل 224کے تحت ملک بھر میں ایک وقت میں نگران حکومت کی زیرنگرانی انتخابات ہوں گے، پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کی اور سپریم کورٹ کو گزارش کی کہ انتخابات پر ازخود نوٹس لینا 184تھری کے زمرے میں نہیں آتے۔ سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی کہ انتخابات کے التواء پر فل کورٹ بنا دیں، وہ جو فیصلہ کریں گے اس کو سب قبول کریں گے۔ ہم نے ہاتھ جوڑ کراستدعا کی تاکہ تاثر ختم ہوجائے، اس معاملے کو انا اور ضد کا معاملہ نہ بنائیں، بلکہ گھر کے بڑے کے طور پر ملک کو آئینی سیاسی بحران سے بچانے کیلئے معاملہ فل کورٹ میں لے جائیں، یہ معاملہ وکلاء نے بھی اٹھایا لیکن ان کو فریق نہیں بنایا گیا۔ا

ٹارنی جنرل نے درخواست کی یہ معاملہ اگر چار تین یا تین دو کا نہیں ہے تو پھر 7رکنی بنچ بیٹھ جائے۔ لیکن تمام مطالبات کو مسترد کردیا گیا، سپریم کورٹ نے آج خود ہی الیکشن کی تاریخ اور شیڈول جاری کردیا، ہم الیکشن سے بھاگنے والے نہیں ہیں۔ ایوان کے سامنے ایک اور مسئلہ کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی نگرانی میں بنچ نے فیصلہ کیا کہ 184تھری کی درخواستوں پر سماعت روک دی جائے،اس پر انتظامی سرکلر جاری کرکے رد کردیا گیا۔سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اس فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، پھر اس پر چھ رکنی بنچ تشکیل دیا گیا اور اس فیصلے کو ختم کردیا گیا۔ اگر اس فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں تھی تو پھر چھ رکنی بنچ کیوں بنایا گیا؟اداے کو مرضی پر چلایا جارہا ہے اور تاثر ون مین شو کا ہے، کیا اکثریتی فیصلے کو اقلیتی رائے سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
73209

وفاقی کابینہ کی جانب سے توانائی بچت پلان کے نفاذ کی منظوری، تمام شادی ہال رات 10بجے اور مارکیٹیں ساڑھے 8بجے بند ہو جائیں گی، وزیر دفاع خواجہ محمد اصف

Posted on

وفاقی کابینہ کی جانب سے توانائی بچت پلان کے نفاذ کی منظوری، تمام شادی ہال رات 10بجے اور مارکیٹیں ساڑھے 8بجے بند ہو جائیں گی، وزیر دفاع خواجہ محمد اصف کی وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )وفاقی کابینہ نے توانائی بچت پلان کے نفاذ کی منظوری دیدی ہے جو فی الفور پاکستان بھر میں نافذ العمل ہوگا جس کے تحت ملک بھر میں موجود تمام شادی ہال رات 10بجے اور مارکیٹیں ساڑھے 8بجے بند ہو جائیں گی، شادی ہال، ریستوران، مارکیٹوں کے اوقات کار کی پابندی سے 62 ارب روپے کی بچت ہوگی، بجلی سے چلنے والے غیر موثر پنکھوں پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی جس سے 15ارب روپے کی بچت ہوگی۔منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن، وفاقی وزیر بجلی انجینئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع بھی موجود تھے۔وزیر دفاع نے کہا کہ توانائی کے استعمال کے حوالہ سے ہمیں اپنا طرز زندگی بدلنے کی ضرورت ہے، ہماری عادات و اطوار باقی دنیا سے مختلف ہیں، ہم قدرتی توانائی کی بجائے توانائی کو خود پیدا کرتے ہیں جس پر پیداواری لاگت آتی ہیں،

آج کابینہ کے اجلاس میں کوئی لائٹ بجلی سے روشن نہیں تھی، سورج کی روشنی میں کابینہ کا اجلاس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے حصول کے لئے قدرتی وسائل کا استعمال کرنا ہوگا، وفاقی حکومت کے تمام اداروں میں بجلی کے استعمال میں 30فیصد کمی لائی جائے، تمام دفاتر میں برقی آلات کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پاور ڈویڑن کی سفارش پر توانائی بچت پلان کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے جو فی الفور پورے پاکستان میں نافذ العمل ہوگا، ملک بھر میں موجود تمام شادی ہال رات 10بجے بند ہو جائیں گے، مارکیٹیں ساڑھے 8بجے بند ہو جائیں گی، تاجر حضرات سے گفتگو ہوئی ہے، وہ اس اقدام پر رضامند ہیں، اس پالیسی سے شادی ہال، ریستوران، مارکیٹوں کے اوقات کار کی پابندی سے 62 ارب روپے کی بچت ہوگی، بجلی سے چلنے والے غیر موثر پنکھے یکم جولائی کے بعد فیکٹریوں میں تیار نہیں کئے جا سکیں گے، بجلی سے غیر موثر پنکھوں پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، اس سے پندرہ ارب روپے کی بچت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں 29 ہزار میگاواٹ جبکہ سردیوں میں 12 ہزار میگاواٹ بجلی استعمال ہوتی ہے، گرمیوں میں استعمال ہونے والی بجلی میں سے 5300 ایئر کنڈیشنڈ اور باقی بجلی پنکھوں اور لائٹوں کی مد میں استعمال ہوتی ہے، صرف پنکھے 12 ہزار میگاواٹ بجلی استعمال کرتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد غیر موثر پنکھوں کی ہے، مارکیٹ میں بجلی کی بچت والے پنکھے موجود ہیں،

یکم جنوری 2023ء کے بعد سے اب پرانے ٹرانسپیرنٹ بلب تیار نہیں کئے جا سکیں گے، تمام سرکاری ادارے توانائی کے حوالے سے بجلی کی بچت والے آلات استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں توانائی کی بچت کے حوالے سے اصلاحات کی جا رہی ہیں، سیمنٹ، سریے اور شیشے کی عمارتوں کی مینٹیننس کاسٹ زیادہ ہے، بلڈنگ کوڈ متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ گیزرز میں ایکونیکل بیفلز لازمی قرار دے دیئے گئے ہیں،ایک سال میں گیزرز کے اندر ایکونیکل بیفلز نصب کئے جائیں گے، اس سے گیس کی بچت ہوگی، 92 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، اسٹریٹ لائٹس 50فیصد چلائی جائیں گی، تین ارب ڈالر مالیت کا ایندھن سالانہ موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس کھپت کو کم کرنے کے لئے بتدریج ای بائیکس متعارف کروائے جائیں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے توانائی بچت کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے گی، پیمرا نجی ٹی وی چینلز اور ریڈیو چینلز کے ذریعے توانائی بچت کی مہم کو یقینی بنائے گی، پانی کی بچت کے حوالے سے بھرپور اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گھر سے کام کرنے کی تجویز پر کمیٹی حتمی سفارشات مرتب کرے گی، 20 ادویات کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کی علیحدہ ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے کیلئے ایف بی آر سے کہا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اپنے نمائندگان کی جانب سے ٹیکس ادائیگی کے بارے میں معلومات ہوں۔اس موقع پر وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمن نے کہا ہے کہ توانائی کا پائیدار استعمال معیشت کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے تحفظ کیلئے بھی بہت اہم ہے،

توانائی کی بچت کیلئے موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات دیرپا نتائج کے حامل ثابت ہوں گے، مارکیٹوں کو جلد بند کرنے، توانائی کے متبادل ذرائع کو بروئے کار لانے اور ورک فرام ہوم کی پالیسی سے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ شیری رحمن نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کیلئے توانائی کا کم اور پائیدار استعمال بہت اہمیت کا حامل ہے، اس سلسلہ میں اقدامات کرنے میں پاکستان میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے تاہم موجودہ حکومت نے اس حوالہ سے اہم اقدامات کئے ہیں، مارکیٹوں کو جلد بند کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو بروئے کار لانے سے صورتحال بہتر ہو گی،ہمیں اپنی عادات و اطوار کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے استعمال میں بچت سے درآمدی بل کم ہو گا جس سے معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اسباب میں توانائی کا غیر پائیدار استعمال بھی شامل ہے، پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلی کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، قدرتی آفات انہی ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں جن پر قابو پانے کیلئے زیادہ سے زیادہ شجرکاری کے علاوہ توانائی کے استعمال میں بچت کے ساتھ ساتھ اس کے متبادل ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس ضمن میں لیڈر شپ کا عزم اور لوگوں کی آگاہی کیلئے میڈیا کا بطور شراکت دار کردار بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ۔19 کے دوران ورک فرام ہوم کی پالیسی کے نتیجہ میں توانائی کی بچت میں مدد ملی اور آلودگی میں کمی دیکھی گئی، یہ کامیاب حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے، معمولات سرانجام دینے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد لی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، تمام شراکت داروں کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس موقع پر انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا کہ نیپرا نے سولرائزیشن کے حوالے سے صرف ایک پبلک ہیئرنگ کی تھی، نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے ان کا کوئی آرڈر نہیں تھا، لہذا اس سال موسم گرما میں نیٹ میٹرنگ والوں کو جو ٹیرف دیا گیا تھا اسی سطح پر قائم ہے اس میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری میں ایک بنیادی حقیقت حائل ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں نقصان ہو رہا ہے وہ نجکاری کے لئے موزوں نہیں ہیں، جو نجکاری کے لئے موزوں ہیں وہاں نقصان نہیں ہو رہا، نجکاری سے کارکردگی بڑھے گی، وزیراعظم کی قیادت میں جو فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بائے فنکشن نجکاری کی جائے، لارج سکیل پرائیویٹائزیشن ابھی زیر غور نہیں ہے۔

نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس نے دھند کے باعث موٹروے ایم ٹو کو کوٹ مومن سے لیلہ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس)نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس نے دھند کے باعث موٹروے ایم ٹو کو کوٹ مومن سے لیلہ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق سوات ایکسپریس وے پر کرنل شیر خان سے اسماعیلہ تک شدید دھند ہے جس کی وجہ سے اسے بھی تمام قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ دھند کے موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں – گاڑیوں میں فوگ لائٹس کا استعمال کریں دھند کے موسم میں گاڑیوں میں درمیانی فاصلہ عام حالات کی نسبت زیادہ رکھیں۔موٹروے پر سفر شروع کرنے سے پہلے موٹروے کی صورتحال کے بارے معلومات حاصل کر لیں اور دوران سفر مدد کی صورت میں ہیلپ لائن 130 سے مدد لی جا سکتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
69989

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے

Posted on

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے
اسلام آباد میں جاری ایڈوانس میٹرز کی تنصیب کے منصوبہ کو ملک کے دیگر حصوں تک وسعت دینے کی اصولی منظوری

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ )وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں جاری ایڈوانس میٹرز کی تنصیب کے منصوبہ کو ملک کے دیگر حصوں تک وسعت دینے اور ٹرانسفارمرز ایڈوانس میٹرز کی تنصیب کی اصولی منظوری دے دی جبکہ ڈسکوز میں خالی آسامیوں کی جامع رپورٹ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں طلب کر لی، لائن لاسز کی شرح میں کمی کیلئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی، وفاقی حکومت نے گندم کی فصل کی بوائی کے لئے سیلاب زدہ علاقوں کے لئے بیج کی خریداری این ڈی ایم اے کو سونپ دی جو آئندہ فصل کی بوائی سے پہلے اِس عمل کی تکمیل کو یقینی بنائے گی، کابینہ نے حالیہ مردم شماری کے عمل کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کابینہ کو اپنے قازقستان کے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر اور اکتوبر میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسز بشمول شنگھائی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس اور حال ہی میں سیکا کے سربراہی اجلاس میں اْن کی وسط ایشیائی ریاستوں کے سربراہانِ مملکت سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ان ملاقاتوں میں زرعی اجناس، گیس، ریل، روڈ، انفراسٹرکچر و روابط اور توانائی راہداریوں پر گفتگو کے بعد یہ طے پایا کہ پاکستان جلد اسلام آباد میں وسط ایشیائی ریاستوں کا سربراہی اجلاس منعقد کرے گا جس میں گوادر اور کراچی بندرگاہوں سے وسط ایشیائی ریاستوں سے ریل، روڈ اور توانائی راہداریاں قائم کرنے کے حوالے سے اصولی فیصلے لیے جائیں گے۔ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں ان روابط کا ایک جامع لائحہ عمل بھی پیش کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ کو پاور ڈویڑن کی طرف سے بجلی کی چوری، لائن لاسز اور اِن نقصانات کو کم کرنے کے لئے ایک جامع حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کابینہ کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)میں بجلی کی چوری، لائن لاسز، بلزاور ریکوری کے حوالے سے اعدادو شمار سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اس کے علاوہ سب سے زیادہ خسارہ کرنے والے فیڈرز اور ان سے ریکوری کی راہ میں رکاوٹوں پر بریفنگ کے ساتھ ساتھ ان مسائل کے سدّباب کے طریقہ کار و تجاویز کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ وزیراعظم نے پاور ڈویڑن کو ہدایت کی کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں ڈسکوز میں انتہائی ضروری اسٹاف کی خالی آسامیوں کی جامع رپورٹ کابینہ کو پیش کرے اور اس بات پر زور دیا کہ بھرتی کے عمل کو شفاف اور بین الاقوامی سطح پر رائج بیسٹ پریکٹسز کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان کمپنیوں میں کرپٹ افسران کی فہرست مرتب کی جائے اور اچھی شہرت کے حامل افسران کو اہم عہدوں پر لگایا جائے تاکہ ان کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہوسکے، خسارہ کم ہو اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جاسکیں۔ اْنہوں نے ہدایت کی کہ ایسے افسران کی نہ صرف پذیرائی کی جائے بلکہ اِن کو اچھی کارکردگی پر انعامات سے بھی نوازا جائے۔

وفاقی کابینہ نے لائن لاسز کو کم کرنے کے لیے اسلام آباد میں جاری ایڈوانس میٹرز کی تنصیب کے منصوبے کو ملک کے دیگر حصوں تک توسیع دینے اور ساتھ ہی ٹرانسفارمرز پر ایڈوانس میٹرز کی تنصیب کی بھی اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعظم نے 7 فیصدلائن لاسز کی اوسط کو غیر تسّلی بخش قرار دیتے ہوئے فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر رائج لائن لاسز کی شرح کے مطابق ان میں مرحلہ وار کمی کے جامع پلان اور بجلی کی تقسیمِ کار کمپنیوں میں اصلاحاتی اقدامات کی سفارشات مرتب کرنے کے لئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی۔ اس کمیٹی میں وفاقی وزیر تجارت و پیداوار سید نوید قمر، وزیر بجلی انجینئر خرم دستگیر خان، وفاقی وزیر تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری، وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹرمصدق ملک، وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ، وزیر برائے ہاؤسنگ مولانا عبدالواسع، مشیر وزیراعظم انجینئر امیر مقام اور سیکرٹری پاور شامل ہوں گے۔ کمیٹی دو ہفتوں کے دوران مشاورت سے جامع لائحہ عمل مرتب کرکے کابینہ کو پیش کرے گی۔

وفاقی کابینہ نے پاور ڈویڑن کی سفارش پر ملک بھر میں کم لاگت شمسی توانائی کو مہنگے درآمدی ایندھن کے متبادل کے طور پر استعمال کے فروغ کے اقدامات کی منظوری دی۔ ان اقدامات میں موجودہ بجلی گھروں کو مہنگے درآمدی ایندھن کی بجائے دن کے اوقاتِ کار میں شمسی توانائی سے چلانے،دیہی علاقوں میں کے وی 11 فیڈرز پر چھوٹے پیمانے کے مقامی نجی سرمایہ کاروں کو چھوٹے شمسی بجلی گھر لگانے کی اجازت اور حکومتی عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنا شامل ہے۔وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویڑن کی سفارش پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 17 اکتوبر 2022 میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی جن میں مالی سال 2022-23کے لئے پائیدار ترقی کے اہداف کے اچیومنٹ پروگرام کیلئے 17 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری شامل ہے۔

حالیہ تباہ کن سیلاب سے لاکھوں ایکڑ پر تیار فصلوں کی تباہی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مقامی بیج کی ممکنہ قلت کے پیشِ نظر وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ صوبوں کے ساتھ مل کر کسانوں کو آئندہ گندم کی فصل کے لئے بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی،اس کے لئے صوبے اور وفاقی حکومت 50 فیصد کی شراکت سے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔اس حوالے سے ای سی سی نے این ڈی ایم اے کے لئے 3.2 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ، گندم کے بیج کی خریداری اور صوبوں کی طرف سے نشاندہی کیے گئے اضلاع میں تقسیم کی مَد میں، منظور کی، جس کی کابینہ نے توثیق کردی۔ وفاقی حکومت نے آئندہ گندم کی فصل کی بوائی کے لئے سیلاب زدہ علاقوں کے لئے بیج کی خریداری این ڈی ایم اے کو سونپ دی جو آئندہ فصل کی بوائی سے پہلے اِس عمل کی تکمیل کو یقینی بنائے گی۔ وفاقی کابینہ نے حالیہ مردم شماری کے عمل کو کسی بھی صورت روکے بغیر جاری رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
67124