آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں وفاقی حکومت میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کے بحران کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی
آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں وفاقی حکومت میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کے بحران کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں وفاقی حکومت میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کے بحران کی نشاندہی کی گئی ہے، جس میں تقریباً 5300 ارب روپے کرپشن کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرپٹ ٹولہ قومی وسائل عوامی ترقی کے بجائے بیرون ملک جائیدادیں بنانے پر خرچ کر رہی ہے اور اس سلسلے میں ابھی تک کسی قسم کی مؤثر بازپرس یا جواب طلبی عمل میں نہیں آئی۔
وزیراعلیٰ نے طلبہ کو آگاہ کیا کہ 4 دسمبر کو این ایف سی اجلاس ہونے والا ہے، اور وہ اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں تاکہ ملکی معیشت، وفاق، صوبوں اور حقوق کی تقسیم کے معاملات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں جاب فیئر سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو حقائق سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ صوبے کی تمام جامعات میں ہر پیر کے روز این ایف سی اور مالی ناانصافیوں سے متعلق آگاہی سیمینار منعقد کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل قومی معاشی ڈھانچے کو سمجھے، سوال اٹھائے اور اپنے حق کے لیے علمی و جمہوری محاذ پر کھڑی ہو۔انہوں نے کہا کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخوا میں آئینی و انتظامی انضمام تو ہو گیا، لیکن آج تک انہیں مکمل مالی حقوق نہیں مل سکے۔ قبائلی اضلاع کامالیاتی انضمام نہ ہونا وفاق کے مسلسل ناروا رویے کا ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ انضمام کے بعد این ایف سی میں خیبر پختونخوا کا حصہ 19.4 فیصد بنتا ہے، لیکن صوبے کو محض 14.6 فیصد دیا جا رہا ہے، جس کے باعث ہر سال صوبے کو 400 ارب روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاق خیبر پختونخوا کا 1300 ارب روپے این ایف سی اور 2200 ارب روپے نیٹ ہائیڈل منافع کی مد میں مقروض ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ القادر ٹرسٹ میں سیرت النبی کی تعلیم دی جاتی ہے، پھر عمران خان کو کس بنیاد پر سزا دی گئی؟ جبکہ 5300 ارب روپے کی کرپشن کرنے والوں سے کوئی سوال نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، اپنے خون کے آخری قطرے تک کرپشن اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور خیبر پختونخوا کے حقوق کے لیے ہر فورم پر ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔وزیراعلیٰ نے خطاب کے دوران طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے طلبہ خود ایمپلائرز کی تلاش میں پھرتے تھے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور آج دو ہزار کے قریب طلبہ مختلف کمپنیوں کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے جامع انٹرن شپ پالیسی پر تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ انہیں روزگار، مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت کے منظم مواقع مل سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ طلبہ جو کسی وجہ سے تعلیم مکمل نہیں کر پاتے، حکومت انہیں بھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں۔انہوں نے انجینئرنگ کے شعبے میں طالبات کی نمایاں موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بیٹیاں کسی سے کم نہیں اور ہر میدان میں بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ ابھر رہی ہیں۔
………..
..
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع پشاور کے پارلیمنٹرینز کا اجلاس
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع پشاور کے پارلیمنٹرینز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ و سابق اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ پشاور کی سینئر سیاسی قیادت نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پشاور کی عظمتِ رفتہ کی بحالی، شہر کی ترقی اور درپیش چیلنجز کے حل کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے پشاور کے لیے 100 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر مبنی ایک جامع حکمتِ عملی تیار کرنے اور اس سلسلے میں ایک گرینڈ میٹنگ بلانے کا اعلان کیا، تاکہ شہر کے میگا پراجیکٹس کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔اجلاس کے دوران 7 دسمبر کو پشاور میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس حوالے سے انتظامی اور سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت ہے اور یہی ہمارا چہرہ بھی ہے، اس لیے شہر کی ترقی، خوبصورتی اور بنیادی مسائل کے حل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پشاور کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے پرعزم ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ پشاور کے میگا پراجیکٹس، شہری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پشاور کو ایک جدید اور خوشحال شہر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
