The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیر خزانہ کی پاکستان میں سیلاب کی شدت اور تباہ کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایم ایف سے مزید پالیسی تعاون کی درخواست

وزیر خزانہ کی پاکستان میں سیلاب کی شدت اور تباہ کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایم ایف سے مزید پالیسی تعاون کی درخواست

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ )وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان میں سیلاب کی شدت اور تباہ کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایم ایف سے مزید پالیسی تعاون کی درخواست کی ہے جبکہ وزیر وزیر خزانہ نے درپیش چیلنجوں کے باوجود آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اتوار کو یہاں سے جاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر(ایم ڈی) کے اعلیٰ سطح اجلاس میں ایم ای این اے پی وزرائے خزانہ اور گورنرز کے ہمراہ شرکت کی۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی کے واقعات سمیت علاقائی معیشتوں کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور فنڈ کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وزیر خزانہ نے ایم ڈی آئی ایم ایف کے جذبات پر شکریہ ادا کیا اوردرپیش چیلنجز کے باوجود فنڈ زکے پروگرام کو مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔وزیر خزانہ نے انسانی تباہی اور ملک کو ہونے والے نقصانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سیلاب سے تباہی کے پیمانے (شدت) کو دیکھتے ہوئے، پاکستان کے لیے مزید پالیسی تعاون کی درخواست کی۔ انہوں نے ممالک کی مدد کے لیے آئی ایم ایف کے نئے شعبوں ٹرسٹ سسٹین ایبلیٹی اورریزیلینس (ٹی ایس آر)اور ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت فوڈ شاک ونڈو کاخیرمقدم کیا۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف اور کثیر الجہتی عطیہ دہندگان سے زیادہ پالیسی سپورٹ کا مطالبہ کیا۔مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے ساتھ ایم ای این اے پی(مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان) کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی صورتحال پر اپنا ردعمل تیار کریاور ردعمل کی تیاری میں ان ممالک کوآب و ہوا سے پیدا ہونے والی آفات کے پس منظر میں جن ملتے جلتے اقتصادی، سماجی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں مدنظر رکھا جائے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہالینڈ کی ملکہ میکسیما سے مالیاتی شمولیت اور مساوی بینکاری پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں اطراف نے زیر بحث موضوعات میں تیزی سے پیش رفت حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت فنڈ کے ڈائریکٹر جنرل مروان عبداللہ یوسف تھونیان الغانم سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں کویت فنڈ کے تعاون کو سراہا اور جاری منصوبوں اور سرمایہ کاری کے ممکنہ نئے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایشیائی ترقیاتی بنک(اے ڈی بی) کے سربراہ مساتسوگو اساکاوا سے ملاقات کی۔ انہوں نے پاکستان کے ایک بڑے ترقیاتی پارٹنر کے طور پر کئی سالوں میں فراہم کی جانے والی مدد اور سیلاب کے بعد کے حالیہ وعدوں پر اے ڈی بی کے صدر کاشکریہ ادا کیا۔ اے ڈی بی کے صدر نے وزیر خزانہ کو 1.5 بلین امریکی ڈالر کے بی آر اے سی ای پروگرام کی منظوری اور پاکستان کو مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پاکستان کے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے لیبیا کے اپنے ہم منصب خالد المبروک سے ملاقات کی۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار ڈیوپ سے ملاقات کی۔ انہوں نے پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینے میں آئی ایف سی کے کردار کو سراہا۔ وزیر خزانہ نے پاکستان میں خاص طور پر تجارتی مالیات کے لیے آئی ایف سی کی شمولیت کو بڑھانے کے ممکنہ ذرائع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں آئی ایف سی کو درکار تمام سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔مختار ڈیوپ نے وزیر خزانہ کو آئی ایف سی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔وزیر خزانہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے آئی ایم ایف /ورلڈ بینک کے 2022 کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ وفد کے دیگر اراکین میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد، سیکرٹری خزانہ حمید یعقوب شیخ، سیکرٹری اقتصادی امور ڈویڑن ڈاکٹر کاظم احمد نیاز اورایڈیشنل سیکرٹری، فنانس ڈویڑن علی طاہر شامل ہیں۔

صدر مملکت کی بینکنگ محتسب کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئے سلک بینک کو بینک فراڈ سے متاثرہ شخص کو منافع کے ساتھ 2 لاکھ روپے واپس کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بینکنگ محتسب کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئے سلک بینک کو بینک فراڈ سے متاثرہ شخص کو منافع کے ساتھ 2 لاکھ روپے واپس کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اتوار کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے بینکنگ محتسب کا فیصلہ برقرار رکھا اور سلک بینک کی اپیل مسترد کردی۔صدر نے مملکت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینک کی مذکورہ برانچ میں ایماندار عہدیدار کی تقرری میں ناکامی اور ناجائز طور پر منافع روک کر بینک بدانتظامی کا مرتکب ہوا۔ ملتان کے ایک شہری محمد شفیق (شکایت کنندہ) نے بینک میں ٹرم ڈپازٹ رسید میں 2 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی، صارف کو صرف چھ ماہ کا منافع ادا کیا گیا، بعد میں بتایا گیا کہ اس کی رسید جعلی ہے اور اسے سابق برانچ آپریشنز مینیجر نے دھوکہ دیا ہے۔صدر نے کہا کہ شکایت کنندہ نے بینک کے نشان، سابق برانچ آپریشنز مینیجر کے دستخط کے ساتھ رسید پیش کی، بینک اپنے ملازم کی جانب سے بینک کی اسٹیشنری پر دستخط شدہ کسی بھی دستاویز کا ذمہ دار ہے، عام لوگوں کے لیے بینک کی اصلی اور جعلی اسٹیشنری میں فرق کرنے کے لیے کوئی معیار موجود نہیں، صارف کا فرض نہیں ہے کہ وہ کسی بینک کے ریکارڈ اور اندرونی عمل کی چھان بین کرے۔انہوں نے کہا کہ بینک اپنی اندرونی خامیوں کی ذمہ داری شکایت کنندہ پر منتقل کر رہا ہے، بینک نے اعتراف کیا ہے کہ سابق برانچ منیجر نے مذکورہ رسید پر دستخط کیے، بینک نے اعتراف کیا کہ سابق منیجر نے فراڈ کیا اور اسے نوکری سے برطرف کیا گیا، یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ ایک ملازم آجر کے کاروبار کے دوران اپنے ملازم کے ذریعے کسی صارف کے نقصان کا ذمہ دار ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ ایماندار اور ذمہ دار عملے کی تقرری بینک کی ذمہ داری ہے نہ کہ شکایت کنندہ کی، بینک کھاتہ دار کی محنت سے کمائی گئی رقم کا محافظ اور امین ہے، بینک اہلکار انتظامیہ کی طرف سے تعینات کیا گیا، دھوکہ دہی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ یہ بینک حکام کی طرف سے بدانتظامی کا معاملہ ہے، بینک مزید تاخیر کے بغیر نقصان پورا کرنے کا ذمہ دار ہے،اس لئے صدر مملکت نے بینک کی اپیل مسترد کردی اور کہا کہ جب دھوکہ دہی ثابت ہو جائے تو بینک اس قسم کے کیس میں ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا۔ یہ بینک حکام کے غلط فعل اور بدانتظامی کا کیس ہے اس لئے بینک بغیر تاخیر کے شکایت کنندہ کا نقصان پورا کرنے کا ذمہ دار ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
67025

وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے آئندہ مالی سال 23-2022کیلئے 1 ہزار 332 ارب روپے مالیت حجم کا بجٹ پیش کر دیا

وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے آئندہ مالی سال 23-2022کیلئے 1 ہزار 332 ارب روپے مالیت حجم کا بجٹ پیش کر دیا

پشاور (نمایندہ چترال ٹایمز) خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے آئندہ مالی سال 23-2022کیلئے 1 ہزار 332 ارب روپے مالیت حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سالانہ صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا شکار صوبہ تھا جو اب سرمایہ کاری کا مرکز بن چکا ہے، یہ وہ ترقی کا سفر ہے جو خیبرپختونخوا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں طے کیا ہے۔تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کیلئے صوبے کا بجٹ 1ہزار 332 ارب روپے رکھا گیا ہے، بندوبستی اضلاع کے اخراجات کا تخمینہ 1109 ارب روپے لگایا ہے جبکہ ضم اضلاع کے اخراجات 223 ارب ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ٹیکس محصولات کا تخمینہ 570 ارب 90 کروڑ لگایا گیا ہے جبکہ وفاق سے آئل اور گیس رائلٹی کی مد میں 31 ارب روپے ملیں گے، بجلی کے خالص منافع اور بقایاجات کی مد میں 61 ارب 90 کروڑ ملنے کی توقع ہے۔خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ میں جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں شہید ریسکیو اہلکاروں کیلئے شہدا پیکیج اور 10,10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ یہ اضافہ گریڈ 1سے 19 تک کے ملازمین کیلئے DRA کے علاوہ ہے جس میں پولیس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بجٹ میں صوبے کے 10لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے رعایتی نرخوں پر راشن مہیا کرنے کیلئے انصاف فوڈ کارڈ کے تحت 26 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ 63 ہزار ملازمین کی مستقلی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

یکم جولائی سے مستقل ہونے والے ملازمین میں 675 ڈاکٹر، 58 ہزار اساتذہ اورضم اضلاع کے128 منصوبوں کے 4079ملازمین شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے گریڈ 7 سے16 تک پولیس اہلکاروں کے الاونس میں ڈی آر اے کے برابر اضافہ کرنے کے علاوہ ایگزیکٹو الاونس کو پرفارمنس الاونس میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ جمعہ کے دن ورک فراہم ہوم کی پالیسی متعارف کرانے کیساتھ ساتھ کنٹری بیوٹری پنشن سکیم میں موجودہ ملازمین کو بھی شامل ہونے کا اختیار دیدیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کر رہے ہیں، بجٹ میں تنخواہوں کیلئے 447 ارب 90 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے 107 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پنشن پروگرام ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ پنشن فنڈ قائم کر رہے ہیں جس میں فی الحال نئے ملازمین کو ڈال رہے ہیں۔بجٹ میں گزشتہ سال کم کئے گئے ٹیکس نرخ اگلے مالی سال بھی برقراررکھنے کا فیصلہ کیا، ابتدائی وثانوی تعلیم میں طلباوطالبات سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی جبکہ اگلے مالی سال لائبریری اینڈ آرکائیوز اور ہاسٹل فیس بھی ختم کر دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ خیبر پختونخواہ نے بتایا کہ وفاق کی ٹیکس محصولات کا تخمینہ 570 ارب 90 کروڑ لگایا گیا ہے جبکہ وفاق سے آئل اینڈ گیس رائلٹی کی مد میں 31 ارب روپے ملیں گے، بجلی کے خالص منافع اور بقایہ جات کی مد میں 61 ارب 90 کروڑ ملنے کی توقع ہے جبکہ قبائلی اضلاع کیلئے 208 ارب روپے کی گرانٹس ملنے کی توقع ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 68 ارب 60 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ صوبائی ٹیکسوں کی مد میں 85 ارب روپے وصول ہوں گے، اس کے علاوہ 93 ارب روپے کی غیر ملکی امداد بھی بجٹ میں شامل ہے، دیگر محاصل کا تخمینہ 212 ارب روپے لگایا گیا ہے۔تیمور خان جھگڑا نے بتایا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں صحت کے بجٹ میں 55 ارب کا اضافہ کیا گیا ہے، صحت کارڈ پلس میں سرکاری ملازمین کیلئے بھی او پی ڈی کی سہولت ہو گی۔ وزیر خزانہ خیبرپختونخواہ کے مطابق گزشتہ سال 8 لاکھ افراد نے صحت کارڈ کے ذریعے علاج کرایا، اس سال صحت کارڈ کا بجٹ 25 ارب روپے رکھا گیا ہے اور جگر کی پیوندکاری سمیت مزید 5 بیماریوں کا علاج صحت کارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں 10 ارب روپے مفت ادویات کی فراہم کیلئے بھی مختص کئے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے مالی سال 2022-23 کیلئے پیش کئے جانے والی بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ صوبے کے مختلف اداروں، ڈیپارٹمنٹس کو ترقیاتی و جاری فنڈ کی مد میں خاطر خواہ رقوم مختص کی گئی ہیں۔پچھلے سال کی نسبت امسال بجٹ میں صحت، ابتدائی تعلیم، پولیس اور توانائی و برقیات کے بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ کیا گیا ہے۔صحت کے بجٹ میں 55 ارب، ابتدائی و ثانوی تعلیم 47 ارب، پولیس 14 ارب اور توانائی و برقیات کے بجٹ میں گیارہ ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کیلئے 29 ارب سے زائد،محکمہ اوقاف کیلئے چار ارب، محکمہ شُماریات کیلئے سات کروڑ سے زائد جبکہ محکمہ مواصلات اور تعمیرات کیلئے 71 ارب 65 کروڑ سے زائد کی رقم مُختص کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے منصوبوں اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مظبوط بنانے کیلئے 227 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ صوبے میں توانائی کے منصوبوں اور جاری سکیموں کیلئے محکمہ برقیات و توانائی کیلئے 29 ارب، محکمہ ایکسائز کیلئے ایک ارب 60 کروڑ جبکہ محکمہ فنانس کیلئے 32 ارب روپے کی رقم مُختص کی گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کیلئے چھ ارب سے زائد کی رقم اور عمومی انتظامیہ کیلئے ساڑھے چھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔تیمور جھگڑا نے کہا کہ صوبے میں صحت کی معیاری سہولیات کو عام آدمی تک پہنچانے کیلئے 205 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ اعلٰی تعلیم کیلئے 34 ارب روپے کی تخصیص کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کیلئے 101 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ  ہاوسنگ کیلئے 82 کروڑ سے زائد کی رقم جبکہ محکمہ صنعت کیلئے  4 ارب 92 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کیلئے ایک ارب 80 کروڑ، محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے تقریبا تین ارب روپے مختص جبکہ محکمہ آبپاشی کیلئے 25 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔ محکمہ محنت و

افرادی قوت کے لئے ایک  ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ قانون و انصاف کیلئے14 ارب اور بلدیات کیلئے 22 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔محکمہ کان کنی و معدنیات کیلئے تقریبا ڈیڑھ ارب کیساتھ ساتھ محکمہ ترقی و منصوبہ سازی کیلئے 64 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ بہبود آبادی  کیلئے 3ارب روپے سے زائد کی رقم اور اسی طرح محکمہ آبنوشی کیلئے 23 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ تقریر کے مطابق محکمہ بحالی و آبادکاری کیلئے 30 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔محکمہ ریونیو و سٹیٹ کیلئے 30 ارب، محکمہ سماجی بہبود کیلئے ساڑھے چھ ارب، محکمہ کھیل ثقافت و سیاحت کیلئے 22 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ پیشہ ورانہ تعلیم کیلئے تقریبا تین ارب، محکمہ نقل و حمل کیلئے 12  ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ زکوٰۃ و عُشر کیلئے 39 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
62290