The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیر اعظم کے یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لیے با معاوضہ انٹرن شپ کا اعلان

Posted on

وزیر اعظم کے یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لیے با معاوضہ انٹرن شپ کا اعلان

پشاور(چترال ٹایمز رپورٹ)وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر اعظم کے یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروجیکٹس (پی ایس ڈی پی) سرکاری، نجی اور ترقیاتی محکموں میں خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کے نوجوانوں کے لیے 60 ہزار با معاوضہ انٹرن شپس کا اعلان کیا ہے۔”پی ایس ڈی پی”پروگرام میں 20ہزار انٹرن شپ سرکاری شعبے میں جبکہ 40ہزار انٹرن شپ سرکاری، نجی اور ترقیاتی محکموں میں دی جائے گی جس کا دورانیہ 6ماہ سے 1 سال کی مدت کے لیے ہوگا۔اس دوران اعلیٰ پیشہ ور افراد اور ماہرین سے کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوگا اور اس کے علاوہ 25 ہزار سے 40 ہزار روپے ماہانہ سکالر شپ ملے گا۔وزیر اعظم کے پیڈ انٹرن شپ پروگرام کو ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی جانب سے زبردست پذیرائی اور مثبت ردعمل ملا ہے۔ اس پروگرام کے تحت لاکھوں نئے گریجویٹس اور ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے مطلوبہ تجربات حاصل کرنے کا بہترین موقع قرار دیا ہے.

وزیراعظم کا یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام ایک جامع منصوبہ ہیجن میں 15 پروگرام شامل ہیں۔ اس تاریخی پروگرام کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کے لیے پرائم منسٹر یوتھ لیپ ٹاپ پروگرام، بااختیار نوجوان انٹرن شپ پروگرام جبکہ بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے طلبا کے لیے 5ہزار وظائف کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔پروگرام میں نوجوان نسل کوانتخابی پیشوں میں مہارت حاصل کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتے ہوئے نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے میں مدد ملی گی۔ پشاور یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ طالب علم احتشام قیصر نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم کی بامعاوضہ انٹرن شپ نئے گریجویٹس اور ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے بیرون ملک ملازمتوں کے علاوہ عملی تجربات اور اپنے منتخب پیشوں میں مہارت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ نوشہرہ اور پشاور اضلاع سے تعلق رکھنے والے بہت سے گریجویٹس اور ڈپلومہ ہولڈرز نے انتظامیہ کو درخواستیں دی ہیں۔سرکاری اور نجی شعبوں میں گریجویٹس اور ڈپلومہ ہولڈرز کی اکثریت کی درخواستیں پیشہ ورانہ تجربات اور مہارتوں کی کمی کی وجہ سے مسترد کر دی گئیں۔ انٹرن شپ پروگرام نہ صرف نئے گریجویٹس کو متعلقہ کام میں تجربہ بلکہ انہیں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے مناسب معاوضہ بھی فراہم کرے گی۔

احتشام قیصر نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف بامعاوضہ انٹرن شپ پروگرام کے شروع کرنے پر ہم وزیر اعظم کے مشکور ہیں کیونکہ اس پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا سمیت ملک کے لاکھوں نوجوان گریجویٹس اور ڈپلومہ ہولڈرز کو فائدہ پہنچے گا۔ شہریار زمان ایک اور گریجویٹ اور واپڈا ٹاؤن نوشہرہ کے رہائشی نے بھی انٹرن شپ پروگرام سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور انہوں نے اس پروگرام سے بھر فائدہ اٹھانے کی حامی بھری ہے۔خیبر پختونخوا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان اور سابق رکن صوبائی اسمبلی، اختیار ولی خان نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام نوجوانوں کی ترقی کے اقدامات کے تحت وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے تحت شروع کیا گیا تھا تاکہ ملک کی آبادی کی64 فیصد سے زائد نوجوانوں کو مواقع فراہم ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام نے پاکستان کے نوجوانوں بشمول لڑکیوں کو جدید اور فنی تعلیم سے روشناس کرنے اور بااختیار بنانے کے لیے شروع کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام موجودہ اتحادیحکومت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے جس کا مقصد تعلیمی، سیاسی وابستگی، ذات پات اور خاندانی پس منظر سے قطع نظر نوجوانوں کو معاشی اور مالی طور پر بااختیار بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ وراثت میں ملنے والے سخت معاشی اور سیاسی چیلنجوں کے باوجود وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نوجوانوں کی ترقی اور معاشی لحاظ سے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا تاریخی پروگرام کی کامیابی سے کا آغاز کیا ہے۔ جس کے تحت ”ٹیلی سکول پاکستان ایپ”، گوگل فار ایجوکیشن اور ڈیجیٹل کنٹینیوس پروفیشنل ڈویلپمنٹ سمیت متعدد سروسزکا آغاز کیا گیا ہے۔

حکومت ملک میں شرح خواندگی کی بہتری کیلئے ترجیجی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے،وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین

اسلام آباد(سی ایم لنکس)قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ حکومت ملک میں شرح خواندگی کی بہتری کیلئے ترجیجی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے اور رواں سال 30جون تک اسلام آباد میں شرح خواندگی کو 100فیصد تک لے جائیں گے۔جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان اسمبلی طاہرہ اورنگزیب، شیخ روحیل اصغر، غوث بخش مہر، شائستہ پرویز ملک اور نورعالم خان کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ 4 سال کے دوران تعلیم کے شعبے کوبری طرح متاثر کیا مگر موجودہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران شرح خواندگی میں بہتری کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے ہیں جن میں ٹیلی سکول، آن لائن، لرنرپروگرام،سکول آف ویلزسمیت مختلف پروگرام شروع کئے گئے ہیں جن سے ملک میں لاکھوں بچے مستفید ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پورے ملک میں شرح خواندگی میں اضافے کیلئے اقدامات کررہی ہے لیکن اسلام آباد میں شرح خواندگی کو30 جون 2023 تک 100فیصد تک لے جائیں گے جس سے تقریباً 70 ہزار بچے جو سکول نہیں جاتے انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔ شیخ روحیل اصغر کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اسمبلی کوبہت جلد ایچ ای سی میں سکالر شپ پروگرام کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی اور گزشتہ پانچ سال کا پورا ریکارڈ پیش کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ ریکارڈ میں تمام اعدادوشمار موجود ہونگے کہ کتنے ممالک میں پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔غوث بخش مہر کے سوال کے جواب میں رانا تنویر حسین نے کہا کہ ہم نے صوبوں کو پہلے سے ہی ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبوں نے شرح خواندگی میں بہتری کیلئے جو اقدامات شروع کئے ہیں ان سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا جائے اور جس جگہ ہماری مدد کی ضرورت ہو ہم تمام ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ خاص کر سندھ اوربلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وفاقی حکومت تعلیم کے شعبے میں ترجیحی بنیادوں پراقدامات اٹھا رہی ہے اوراس سلسلے میں سندھ میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کیلئے موبائل سکولز شروع کئے جائیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
73922