The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعظم کی گوادر میں گہری دلچسپی، سی پیک نے پورٹ سٹی کے منصوبہ جات میں نئی روح پھونک دی

وزیراعظم کی گوادر میں گہری دلچسپی، سی پیک نے پورٹ سٹی کے منصوبہ جات میں نئی روح پھونک دی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیر اعظم شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے فوری بعد گوادر کی ترقی میں گہری دلچسپی لی اور گزشتہ سال کے وسط میں ذاتی طور پر پورٹ سٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صوبہ بلوچستان کے لیے 100 ارب کے ترقیاتی پیکج کے اعلان اور شہر کے لئے ایک خطیر رقم مختص کرنے کے علاوہ ایسٹ بے ایکسپریس وے سمیت بنیادی ڈھانچے کے کلیدی منصوبوں کا افتتاح کیا۔وزیراعظم نے گزشتہ سال جون میں شہر کے دورے کے دوران گوادر میں پانی، بجلی اور انفراسٹرکچر کے تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے پانی اور بجلی کے منصوبوں میں مزید رکاوٹ کو ہرگز برداشت نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں 12 لاکھ گیلن ڈی سیلینیشن پلانٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ گھروں میں پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائنوں کے نیٹ ورک کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور منصوبوں میں تاخیر کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا بھی حکم دیا۔شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گوادر بندرگاہ پر ڈریجنگ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ“بریک واٹر”کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے جائیں۔ صحت کی سہولیات کے حوالے سے انہوں نے ہدایت کی کہ گوادر ہسپتال کی تعمیر دسمبر کے بجائے ستمبر میں مکمل کی جائے۔

انہوں نے گوادر کے تمام 16,523 غریب خاندانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کا بھی حکم دیا۔ وزیراعظم نے”چائنا ایڈ”کی جانب سے گوادر سی واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ، جنگٹل گوادر پرائیویٹ لمیٹڈ، ہینگمی لبریکینٹ پلانٹ، ہینگینگ ایگریکلچرل انڈسٹریل پارک، گوادر ایکسپو سینٹر اور گوادر فرٹیلائزر پلانٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا، اس کے علاوہ 3000 سولر پینلز بھی تقسیم کئے۔وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کے نتیجے میں اب تک گوادر میں متعدد منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 20 نئے منصوبے 2023 اور اس کے بعد کے برسوں میں اپنے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ 12 لاکھ گیلن یومیہ پانی صاف کرنے کا پلانٹ جو آخری مرحلے میں ہے، چند ہفتوں میں کام شروع کر دے گا جبکہ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ترقی پر پیش رفت جاری ہے اور یہ 2023 میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ گوادر میں جاری دیگر منصوبوں میں گوادر فری زون نارتھ (فیز 11)، گوادر سیف سٹی پراجیکٹ، تین بجلی کے منصوبے، گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان، گوادر ٹورازم پراجیکٹ، پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا نیا مینجمنٹ ماڈل اسٹیٹ آف آرٹ شپ یارڈ پروجیکٹ، آئل ریفائنری پروجیکٹ، گرین گوادر پروجیکٹ، پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال، فشر کمیونٹی پروجیکٹس، گوادر پورٹ ڈریجنگ پروجیکٹ، ایکسپورٹ پر مبنی پروجیکٹس، فشنگ انڈسٹری، ویئر ہاؤس انڈسٹری، اور گوادر ہوافہ نمائش اور تجارتی مرکز شامل ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ایک حصے چھ لین کی ایسٹ بے ایکسپریس وے کا افتتاح کیا جو گوادر پورٹ کو مکران کوسٹل ہائی وے سے ملاتی ہے اور کراچی کو بھی لنک فراہم کرتی ہے۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے گوادر شہر میں بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔ 19 کلومیٹر طویل یہ شاہراہ ساحلی پٹی کے متوازی چلتی ہے اور اس میں چار انٹرچینج، دو پل اور ایک ٹول پلازہ ہے۔ ایکسپریس وے کو بھاری ٹریفک کو سنبھالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ اس سے گوادر بندرگاہ تک اور اس سے سامان کی نقل و حمل کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تکمیل گوادر کو ایک بڑے ساحلی شہر کے طور پر ترقی دینے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔گوادر پورٹ جو سی پیک کا مرکز ہے، تذویراتی طور پر خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے اور خطے میں تجارت کا ایک بڑا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اربوں ڈالر لاگت کے سی پیک کے تحت شہر میں اب تک مکمل ہونے والے منصوبوں میں گوادر پورٹ، گوادر فری زون ساؤتھ (فیز I)، ایسٹ بے ایکسپریس وے، پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، پاکستان گوادر فقیر مڈل سکول، فائبر آپٹک، ای کسٹم سسٹم، پلانٹ ٹشو کلچر لیب اینڈ گرین ہاؤس، لائیو سٹاک، خواتین کی زیر قیادت گارمنٹس فیکٹری، گوادر یونیورسٹی اور جی ڈی اے-انڈس ہسپتال شامل ہیں۔مقامی سطح پر یہ اہم منصوبے مقامی آبادی کے لئے متعدد سہولیات کو یقینی بنائیں گے اور علاقے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔

آرمی چیف سے چینی وزیر خارجہ، افغان قائم مقام وزیر خارجہ کی ملاقات

اسلام آباد(سی ایم لنکس)آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے چینی اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ چن کنگ اور افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر متقی کی علیحدہ علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں سی پیک، افغانستان کی صورتحال اور خطے میں قیام امن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی ہاؤس میں چینی وزیر خارجہ سے ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران آرمی چیف نے چین پاکستان اسٹریٹجک تعلقات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ آرمی چیف نے چین پاکستان اکنامک کوریڈور منصوبے کے لیے بھی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، یہ منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ایک اہم جزو ہے۔آرمی چیف نے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر پاکستان کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو بھی سراہا۔ وزیر خارجہ چن گنگ نے برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ چینی وزیر خارجہ نے سی پیک پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، چینی وزیر خارجہ نے سی پیک کی بروقت تکمیل کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔چینی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔ دونوں شخصیات نے خطے میں سیکیورٹی کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔آرمی چیف نے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں چین کے کردار کو تسلیم کیا۔ دونوں فریقوں نے مشترکہ سیکیورٹی چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں اپنے موجودہ تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے قائم مقام افغان وزیر برائے خارجہ امور امیر خان متقی نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ آرمی چیف اور افغان قائم مقام وزیر خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں علاقائی سلامتی، بارڈر مینجمنٹ اور موجودہ سیکیورٹی ماحول میں بہتری کے لیے دوطرفہ سیکیورٹی میکانزم کو باقاعدہ بنانے کے پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آرمی چیف نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مشترکہ چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے دونوں برادر ہمسایوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں آرمی چیف نے باہمی دلچسپی کے امور میں افغان عبوری حکومت کی جانب سے مکمل حمایت اور عزم کی ضرورت کا اعادہ کیا۔وزیر خارجہ متقی نے افغانستان کے عوام کے لیے پاکستان کی روایتی حمایت کو سراہا۔ افغان وزیر خارجہ نے پاکستان افغانستان میں امن اور ترقی میں سہولت کاری کے لیے کردار کو سراہا۔ انہوں نے علاقائی استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مشترکہ تشویش کے مسائل کو حل کرنے کے لیے باقاعدہ رابطوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔آرمی چیف نے ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74179