وزیراعظم دورہ امریکا میں 6اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
وزیراعظم دورہ امریکا میں 6اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعظم شہباز شریف آج سے امریکا کا اہم دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ منگل کو 6 اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور 26 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، وزیراعظم کی کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی طے پا گئی ہیں۔وزیراعظم منگل 23 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اسلامی ممالک کے وفد کے ہمراہ ملاقات کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور مصر کا رہنماؤں کو مشترکہ ملاقات کی دعوت دے رکھی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم کی نیویارک میں مصروفیات کے شیڈول کے مطابق وزیراعظم جمعہ 26ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے جبکہ ان سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خطاب کریں گے،
وزیراعظم شہباز شریف کی آج پیر کو مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر کانفرنس میں شرکت متوقع ہے۔وزیراعظم منگل کو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی جانب سے مہمان سربراہان کے اعزاز میں استقبالیہ میں شرکت کریں گے، جس کے بعد ان کی آسٹریا کے چانسلر کرسٹین اسٹاکر سے ملاقات متوقع ہے۔ وزیراعظم منگل کو ہی قطر کے ولی عہد و وزیراعظم شیخ صباح الخالد، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، سری لنکا کے صدر انورا کمارا سدونائیکے سے ملیں گے۔وزیراعظم منگل کو چینی وزیراعظم کی سربراہی میں بین الاقوامی ترقیاتی اجلاس اور امریکی صدر کے عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں استقبالیہ میں شرکت کریں گے، ان کی منگل کو فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے سلامتی کونسل کی بریفنگ میں شرکت کا بھی امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی بدھ کو بل گیٹس سے ملاقات کا امکان ہے جبکہ اسی روزیو این سیکرٹری جنرل کی سربراہی میں ماحولیاتی مسائل پر اجلاس میں شریک ہوں گے، وہ بدھ کو کورین صدر کی طرف سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مباحثہ میں بھی شرکت کریں گے۔وزیراعظم شہبازشریف کی جمعرات کو نوجوانوں کیلئے عالمی پروگرام کی تیسویں سالگرہ پر تقریب میں شرکت متوقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف جمعہ 26ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے، وہ اسی دن سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوتیرس سے بھی ملاقات کریں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں چین، اٹلی اور کینیڈا کے وزرائے اعظم، ایرانی صدر، امیر قطر، یورپی یونین اور عالمی بینک کے صدور اور ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقاتیں بھی ہو سکتی ہیں جو ابھی تک شیڈول نہیں ہوئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں کشمیر اور فلسطین کے مسائل کو اجاگر کریں گے، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیر اعظم محمد شہباز شریف 22 سے 26 ستمبر 2025 تک نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے ہائی لیول سیگمنٹ میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، دیگر وزرا اور سینئر حکام بھی ہوں گے۔وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم اپنے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیں گے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور فلسطین میں عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنے اور طویل قبضے کے مسائل کا فوری حل نکالے۔وہ باالخصوص غزہ کے سنگین بحران کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائیں گے اور فلسطینی عوام کی مشکلات ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیں گے۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف علاقائی سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور پائیدار ترقی جیسے اہم عالمی مسائل پر پاکستان کا مؤقف بھی پیش کریں گے۔وزیر اعظم جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر متعدد اعلیٰ سطحی تقریبات میں بھی شریک ہوں گے جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (GDI) کی اعلیٰ سطحی میٹنگ اور ماحولیاتی اقدامات پر خصوصی اجلاس شامل ہیں۔وہ علاقائی و عالمی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے لئے اسلامی ممالک کے منتخب رہنماؤں کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں بھی شریک ہوں گے۔اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم مختلف عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔وہ پاکستان کے سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے تنازعات کی روک تھام، امن کے فروغ اور عالمی خوشحالی کے لیے اقوام متحدہ کے منشور پر عملدرآمد کے عزم کو بھی اجاگر کریں گے۔وزیر اعظم کی یہ شرکت عالمی رہنماؤں کے سب سے بڑے سالانہ اجتماع میں پاکستان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ سے مضبوط وابستگی کے عزم کو اجاگر کرے گی اور امن و ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے پاکستان کے دیرینہ کردار کو نمایاں کرے گی۔
