The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 9 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

والد محترم – تحریر ۔ کلثوم رضا

والد محترم – تحریر ۔ کلثوم رضا

خطائیں دیکھ کر بھی نظر انداز کرتے تھے
میرے والد تیری شفقت کے کیا کہنے۔۔۔

جب سوشل میڈیا سے متعارف ہوئی تو پتہ چلا کہ 19 جون “ورلڈ فادر ڈے” کے نام سے منایا جاتا ہے۔
والدین کے لیے صرف ایک دن۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

ہمارے سارے دن ،ساری راتیں انھی کی مرہونِ منت ہیں۔۔۔ہمارا نام ،ہماری جان پہچان سب انھی کی بدولت ہے۔۔کیا کیا نہیں کیے ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے ،نا ختم ہونے والی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے ۔۔۔جب سے خود اس عہدے پر فائز ہو گئے ہیں تو پتہ چلا کتنا مشکل ہے بچوں کی خوشیوں کی خاطر نا چاہتے ہوئے بھی وہ کام کرنا جس کو کرنے کا اپ کا دل نہیں چاہ ریا ہو۔مگر پھر بھی آپ کر جاتے ہیں ۔بچے کوئی فرمائش کریں آپ کو پتہ بھی ہے آپ پوری نہیں کر سکتے تو پھر بھی آخری حد تک کوشش کرتے ہیں کہ کہیں سے ان کی یہ خواہش پوری کر دیں۔

ہم بھی کوئی فرمائش کرتے تو والد صاحب چب ہو جاتے تو ایک ،دو،تین دنوں میں وہ فرمائشی چیز لا کر دے دیتے تھے۔ورنہ اس فرمائش پر تو فوراً جواب دے دیتے جس سے پوری کرنا اس کے لئے آسان ہوتا “کیوں نہیں میں آج یا کل یا پرسوں جب بازار جاؤں گا تو ضرور اپنی بیٹی کے لئے خرید کر لاؤں گا “.
اب جا کے یہ احساس ہوتا ہے کہ جس چیز پر وہ چپ ہو جاتے تھے اسے پوری کرنےکے لیے اسے کتنی محنت کرنی پڑتی ہو گی۔

امی کچھ سمجھاتی کہ یہ “فضول خرچی ہے ۔آپ لوگ یوں فرمائشیں نہ کرو ،جس چیز کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے وہ آپ کو ابو لا کر دیتے ہیں “یا کسی بات پر ڈانٹ دیتی تو والد صاحب فوراً امی کو منع کرتے ۔”یہ بچے ہیں انھیں نہ ڈانٹیں اور نہ ہی انھیں روکیں ،جو مانگتے ہیں اپنے والد سے مانگتے ہیں ،اب اگر ان کی یہ خواہش ہم پوری نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔”

پہلی اولاد ہونے کے ناطے میرے تو بہت ناز ،نخرے اٹھائے ہیں میرے والد محترم نے۔
کھانا بھی اپنے ہاتھوں سے گرم ،سرد کو نرم کرکے کھلاتے ،چائے ،دودھ بھی اپنے ہاتھوں سے پلاتے،خوبصورت پھول،رنگین پرندے اور تتلیاں،اچھے میوے اور خوبصورت جگہیں میرے نام سے منسوب کرتے۔میں بھی جب خوب بڑی ہو گئی تو سمجھ گئی یہ سب میرے نہیں ہیں۔۔۔

میں کوئی اچھا کام کر جاتی تو خوب تعریف کرتے اور ہر رشتہ داروں اور دوستوں کو بتاتے،جب کوئی غلطی کر جاتی تو یکسر نظر انداز کرتے کہ کہیں بیٹی شرمندہ نہ ہو جائے،بعد میں اکیلے میں سمجھاتے اس بات کو لے کر نہیں کہیں سے مثال دے کر ،میں سمجھ جاتی کہ یہ فلاں وقت کی فلاں غلطی پر سمجھایا ہے۔

گاؤں میں لڑکیوں کے لیے کوئی اسکول نہیں تھا تو چہارم پاس کرنے کے بعد امی نے مجھے اپنے گھر بھیجا پڑھنے کے لیے۔۔۔تو والد محترم ہر دو دن میں ملنے آ جاتے ،میرے لیے گھر سے بھی میری پسند کی چیزیں دیسی مرغی پکا کے،دیسی انڈے ابال کے،مکھن،کھیرا اور انجیر وغیرہ لاتے اور بازار سے جلیبی ،تکہ،کباب اور شکر پارے لاتے۔پیسے الگ سے دیتے کہ دوستوں کو لے کر کچھ کھاؤ ،پیو۔میری سہیلیاں بھی جب اسکول کی خالہ کلاس میں آ جاتی تو سب سمجھ جاتیں کہ والد صاحب آئے ہیں اور مجھ سے پہلے پہلے ابو کے پاس پہنچ جاتیں ۔ابو ان سب کو پیار کرتے ان کا اور ان کے گھر والوں کا حال پوچھتے ۔میرے ابو کو میری تمام سہیلیوں کے نام انکے والد صاحباں کے نام یاد تھے۔

میری امی بتاتی ہیں کہ ہم دونوں بہنوں کے جب ہم ننھیال میں ہوتے تو میرے ابو ہمارے کپڑے خود استری کر کے الماری میں ٹانک دیتے اور ہمارے استعمال کے قابل تو کیا پرانے جوتے بھی صاف کر کے اوپر کپڑا لپیٹ کے رکھ دیتے تھے ۔

ہر جمعرات کو ہمیں لے کر گاؤں جاتے تو مہمانوں کی طرح ہماری خوب مدارات کرتے ۔کھیتوں میں لے جاتے ،رشتہ داروں سے ملواتے ،ان کے کسی مسلے کا حل ہم سے پوچھتے ،کوئی معلومات ان تک ہم سے پہنچاتے ۔اج سوچتی ہوں تو یہ ان کا کتنا بڑا پن تھا ۔۔شاید انھیں ایسا لگتا ہو گآ کہ ہم گاؤں سے دور رہ کر اپنے لوگوں کے دکھ سکھ سے غافل رہیں گے ۔اور وہ اسی ذریعے سے ہمیں ہمارے گاؤں کے لوگوں کے قریب لے جاتے اور ان کے دل میں ہمارے لیے محبت و احترام پیدا کرتے تھے۔

ہم دو بہنیں دو بھائی ،دونوں بھائی ہم بہنوں سے چھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمارے والدین نے ہمیں بہت محبت اور محنت سے پالا پوسا ،پڑھایا لکھایا ۔اپنے گاؤں اور خاندان کی میں پہلی بیٹی ہوں جس نے ماسٹر کیا۔بیٹے ،بیٹیوں کی شادی بھی قریب قریب علاقوں میں رشتہ داروں اور جان پہچان والوں میں کیا ۔جلدی جلدی ملنے آتے اور ہمیں بھی جلدی جلدی اپنے ہاں بلاتے ۔

میرے بھائیوں سے کہتے کبھی خالی ہاتھ اپنی بہنوں کے گھر نہ جائیں ان کے لیے انکی پسند اور اپنی پسندیدہ چیزیں ہی لے کر جانا ۔الحمد للہ میرے دونوں بھائی ہماری اور ہماری امی کی خوشیوں اور ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انکے عمر،مال اولاد میں برکت ڈالے رکھے امین۔
میرے والد محترم کو ہم سے بچھڑے سات سال ہونے کو ہے لیکن ایک پل بھی نہیں لگتا کہ وہ ہم سے بچھڑ گئے ہیں۔انکی یادیں انکی باتیں ہر وقت ہر لمحہ ساتھ ریتی ہیں۔
میں اپنے والدین،بہن بھائیوں اور انکے بچوں کے خاص دن ڈائری میں نوٹ کرتی رہتی ہوں مگر آج تک مجھ سے میرے والد صاحب کے وفات کی تاریخ نہی لکھی جاسکی۔حالانکہ ان کے گزارے ہر ہر خاص دن ،ان پر دل کا دورہِ پڑنے ،انجیو گرافی،انجیو پلاسٹی ،بائی پاس ،انکھ کا آپریشن ،حج پر جانے،انے کی تاریخ سب لکھے ہیں صرف وہ دن (جو مجھ سے کبھی بھلایا نہیں جائے گا ) نہیں لکھا ہے۔

ان دنوں میرے ابو کا شوگر ذیادہ ہونے وجہ سے بھائی اسے لیکر پشاور گئے وہاں وہ بہت بہتر ہوگئے تو بھائی نے فیصلہ کیا کہ سردیاں پشاور ہی میں گزاریں گے۔اس روز بھی میں نے فون پر ابو سے تقریبا دو گھنٹے تک بات کی ۔ابو نے گھر کے اور باہر کے سارے کاموں کے متعلق پوچھا تو میں نے بتایا کہ سارے ہو گئے ہیں تو بہت خوش ہوئے ۔اور یہ بھی میں نے بتایا کہ میں اور عمرانہ (میری چھوٹی بہن)عمرہ کے لیے جارہی ہیں تو اور بھی خوش ہوئے اور بہت ذیادہ دعائیں دیں۔اور ساتھ ہم نے منصوبہ بھی بنایا کہ جاتے ہوئے بچوں کو ان کے ہاں چھوڑ جائیں گے اور عمرے سے واپسی پر سب ساتھ چترال آئیں گے تب تک بچوں کی چھٹیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور سردی کا زور بھی نہیں رہے گا۔۔۔رات کو پھر بھائی سے فون کروایا کہ دن بھر کی مصروفیت اور خیریت کے بارے میں بتائیں تو میں نے بھائی کو بتایا کہ مجھے ہلکا سا بخار ہے ڈاکٹر کے پاس گئی تھی دوائی دے دی ہے۔۔۔تو ابو کی آواز آئی اپنی بہن سے کہیں کہ ٹھنڈ سے خود کو بھی بچائے اور بچوں کو بھی بچائے ،انکو ٹھنڈ لگ جاتی ہے تو دیر تک رہتی ہے ۔۔۔اور ذیادہ بات کرنے سے بھی منع کیا کہ گلہ مزید خراب نہ ہو جائے اور آرام کرنے کو کہا ۔۔۔مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ شفیق آواز میں پھر کبھی نہیں سن پاؤں گی ۔۔۔میں دوا لینے کے بعد آرام کی غرض سے کمرے میں گئی اور سونے کی کوشش کرتی رہی ۔۔۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور جا چکی تھی شاید اسے میرے سر سے گھنے چھاؤں کے اٹھنے کا غم تھا کروٹیں بدلتے بدلتے رات کے تیسرے پہر میری نظر پڑی کہ موبائل سے روشنی ا رہی ہے میں سمجھی شاید الارم ہے اٹھا کے دیکھا تو بھائی کا مسیج تھا “میرے ابو کا انتقال ہو گیا”فورا کال ملایا تو وہ زاروقطار روئے جا رہے تھے کہ تھوڑی دیر پہلے مجھ سے باتیں کرتے کرتے(مہمان بھی تھے ان سے بھی باتیں کیں)پھر سو گئے تھے پھر اچانک آواز دی کہ” بیٹا ذرا مجھے اٹھا کے بیٹھاو میرا دل گھبرا رہا ہے” ۔۔۔بھائی کہتے ہیں میں نے فورا اٹھایا تو ابو پسینے میں شرابور تھے اور کہ رہے تھے” اتنی سردی میں یہ پسینہ کہاں سے آ گیا”اور میری طرف دیکھ کر کچھ بولے بغیر کاندھے میں سر رکھ کر کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے خاموش ہو گئے ۔میں نے دوستوں کی مدد سے اٹھا کے گاڑی میں بیٹھایا اور گاڑی خود چلائی تاکہ تیز قریب ہی لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچ جاؤں۔ لیکن جب پہنچا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ والد صاحب وفات پا چکے ہیں ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔پھر کیا ۔۔وہ دن اور اج کا دن اس سے بڑی خبر مجھے کوئی نہیں لگتی۔

مجھے وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے جب میں چھوٹی سی تھی تو میرے والد صاحب داڑھی بنواتے اور انکی داڑھی کے کچھ بال زمین پر گرتے تو میں انھیں چمکیلے کاغذ میں محفوظ کر کے الماری کے خانے کے کونے میں چھپا کے رکھتی۔ان کے پرانے پھٹے کپڑے اور جوتے زمیں پر گرتے تو گناہ سمجھتی تھی لیکن اب میرے والد زمیں کے نیچے سوئے ہوئے ہیں میں کچھ نہیں کر سکتی ۔اگر یہ حکم ربی نہ ہوتا تو شاید سوچ سوچ کر پاگل ہو جاتی۔

یقینا یہ لحد میرے والد صاحب کے لیے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔کیوں کہ میرے والد صاحب بچپن سے لے کر اخر وقت تک دنیا میں اپنے حصے کا کام احسن طریقے سے کر کے گئے ہیں۔زندگی کے نشیب و فراز اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری میں صبرو تحمل کے ساتھ گزارے ہیں۔فوج سے منسلک رہنے کی وجہ سے وطن عزیز سے محبت اور عزت ایسے کرتے تھے کہ ہمیں بھی رشک اتا کہ کاش ہم بھی فوج میں تعینات ہوتے اور وطن کی خدمت ایسے کرتے جس طرح میرے ابو نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں کیے۔سن 71 کا واقعہ سنا کر میرے والد صاحب کو بہت افسوس ہوتا کہ کس طرح حکومت پاکستان نے بے غیرتی سے پاک فوج سے ہتھیار ڈالوایا ۔

اپنے والد محترم کی کون کونسی خوبیوں کا ذکر کروں میرے پاس قلم ،سیاہی اور وقت بھی کم پڑ جائے اگر لکھنے بیٹھوں ۔اور نہ ہی میرے انسو تھمتے ہیں،دوپٹے کا پلو اور دامن تر ہو جاتے ہیں رو رو کر۔۔۔

اپنے والد محترم کے نام لکھے ہوئے نظموں میں سے ایک نظم کے ساتھ اپنی تحریر کا اختتام کرتی ہوں۔۔

کوئی چراغ آنکھوں میں اب، جلتے ہی نہیں
تیری یادوں کے دیئے کبھی بھجتے ہی نہیں

ایسی روانی لاتی ہیں ،تیری یادیں
میرے انسو ہیں ،کہ تھمتے ہی نہیں

ہر وقت رہتا ہے تیرا چہرہ روبرو میرے
ایسے بچھڑے ہیں، بچھڑتے ہی نہیں

دلاسہ دے دے کر سنبھالنا چاہوں خود کو
میرے حالات ایسے ہیں ،سنبھلتے ہی نہیں

تیرے جانے کے دن سے، یہ لگتا ہے مجھے
ٹھہر سے گئے ہیں یہ دن، بدلتے ہی نہیں

کیسے بتاؤں بابا! تیرے ہجر میں یہ دن
ایسے گزارے ہیں ، گزرتے ہی نہیں

جو دیا تم نے ہمیں پیار ،محبت دل سے
اب کوئی خلوص ، مہرو وفا جچتے ہی نہیں

ملیں گے تم سے ایک روز جنت میں
اب اسی شوق میں اوروں سے ملتے ہی نہیں

حوروں نے کی ہوں گی اپ کا
،خیر مقدم
چہرہ پر نور سے نظر ،ہوں گے ہٹتے ہی نہیں

رکھے گا مولا ! تجھے ،فردوس بریں میں
سنا ہے بیٹی کے دعا کبھی ٹلتے ہی نہیں۔۔۔

کلثوم رضا

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
75768

والد محترم کوہم سے بچھڑے  دو سال بیت گئے – تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

والد محترم کوہم سے بچھڑے  دو سال بیت گئے – تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

مجھ کو چھائوں میں رکھا خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا ہے ایک فرشتہ باپ کے روپ میں

کبھی کبھی والدکی جدائی کے غم کے بارے میں کسی دوست یا رشتہ دار سے بات کرنے اور رونے سے بھی دل ہلکا ہوجاتا ہے۔ مگردوسروں کے لئے یہ سمجھنامشکل ہوتاہےکہ یہ انسان باربارایک ہی بات کیوں دھراتاہے مگریہ میرے غم کے کم ہونے اوراس پرقابوپانے کاایک ذریعہ ہوتاہے تاکہ دل کاغبارنکلے۔ میرے دل کے ہرخانوں میں ہر وقت والدمحترم کا ہنستا مسکراتا چہرہ سمایا رہتا ہے ایسے لگتا ہےجیسے زندگی کا سارا حُسن ان دلکش لوگوں کی وجہ سے تھا۔میرے والدمخترم ایسے ملنسار،محبت کرنے والے شفیق باپ تھے جن کا بیٹا ہونے پر مجھے ہمیشہ فخر رہےگا ۔ خیالات اورالفاظ جتنے بھی حسین بامعنی اوراخترام سے بھرے ہوئے ہوںوالد محترم کی جدائی کا غم قلم کی گرفت میں نہیں آسکتا ۔ اگرحقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو زندگی چیزوں اور سہولتوں کا نام نہیں بلکہ زندگی احساسات اور جذبات کا نام ہے، اگرچہ زندگی بہت کچھ پا کر کھونے کا نام ہے مگر کبھی کبھی جذبات والد کی جدائی پر آنکھوں کو پانی پانی کر دیتے ہیں۔

یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دْکھ عابی
سنا ہے باپ زندہ ہوتو کانٹے بھی نہیں چبھتے

قبلہ گاہ، ابو جی، باپ، والد اور جس نام سے بھی یاد کیا جائے تو ایک ایسی شخصیت کا روپ سامنے آتا ہے جواپنے اولاد کے لیے شفقت، پیار اور تحفّظ کی سب سے بڑی علامت ہے۔ والد وہ واحد ہستی ہے جو اپنے بچوں کو تر قی کرتے ہوئے دیکھنے کا خواہش مند ہوتاہے۔بچے کی پیدائش کے بعدمعاشرے میں اعلیٰ مقام دلانے کیلئے باپ اپنی ہستی کو مٹی میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتا اولادکی ترقی خوشحالی کی وجہ سے معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کیلئے وہ ساری زندگی سر جھکا کر محنت کرتا ہے۔باپ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے۔خوش نصیب اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں یہ عظیم نعمت میسر ہے۔

آج سے دوسال قبل 10دسمبر2021 دوپہر2بجے جب میں اِس عظیم ترین نعمت سے محروم ہو گیا۔ جب مجھ بدنصیب کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، پاؤں تلے زمین نکل گئی، یہ وہ سیاہ دن تھا میرے لئے جب میرے والد محترم اس فانی دنیا سے رخصت فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے۔ زندگی جہاں بہاریں ہی بہاریں تھیں، وہاں اک ایسی خزاں نے ڈھیرا ڈالا کہ خوشیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روٹھ گئیں، یوں میرے خوشیوں اور مسرتوں پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس وقت والد محترم کی وفات میرے لئے ایک چیلنج بن کر سامنے آگئی۔زندگی میں وہ دن کبھی نہیں بھولایا جائے گا جب کوئی محبت کرنے والا جدا ہوا ہو۔ والد کا رشتہ ماں کے بعد تمام انسانی رشتوں میں مقدس اور اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے ۔ میرے والد کا شمار بھی ایسے ہی عظیم لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اپنی اولاد کی تربیت اور محبت کے لئے وقف کیا تھا۔والدکی زندگی میں اولاد معاشرے کے رسم رواج کے بندھن سے آزادہوتے ہیں ۔ اُن کی نیک دعائیں ہمیشہ ہمارے پاس ہوتے ہیں۔

والد محترم نے اپنے عمرکے تقریباً 72سال علاقے کے سماجی اور فلاحی خدمات میں گزارے ہیں جس کی وجہ سے گاؤں کے مکین اُن کی جدائی کو علاقے کے لئے ناقابل تلفی نقصان قرار دیتے ہیں۔ والد محترم کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری نعمتوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ عاجزی اور انکساری کی بہت بڑی دولت عطاء کی تھی۔ 10دسمبر 2021 کو میرے والد محترم ہم سے بچھڑ گئے مگر ان کی یادیں اور اُن کی جدائی کا درد آج بھی تازہ ہے۔ اُن کی محبت اور یادیں اس درد بھرے دل کو کبھی آنسوؤں کی طوفان میں بہاتے ہیں کبھی خشک صحر اکے دھوپ میں جلاتے ہیں۔ والد محترم گھر کی تمام رنگینوں کو اپنے ساتھ ہی لیکر گئے۔

اگرچہ یہ دنیا عارضی ہے او راس کو سب نے ایک نہ ایک دن چھوڑنا ہی ہے۔ لیکن کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن میں والد خاص طور پر شامل ہیں ان کی اچانک جدائی کا سوچ کر سب کچھ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ لوگوں کی زبانی یہ سن کر مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میں ایک ایسے باپ کا بیٹا ہوں جس نے اپنی محنت، لگن، شوق، دیانت داری اور وفاداری کے ساتھ ساتھ اپنے قائم کردہ اصولوں، خیالات، سوچ، فکر، اخلاقی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بھر پور زندگی گزاری ہے اور اس کا عملی اعتراف علاقے کے ہربچہ بچہ سبھی کرتے ہیں۔

والدمحترم کوکئی بارخواب میں دیکھا وہ سفیدکپڑوں اورسرپرسفیدٹوپی رکھ کرمسکراہتے ہوئے میرے سامنے کھڑے نظرآتے ہیں ۔میں اُن سے لپٹ کرکتنے باتین کی گلے شکوے کئے اوربہت روئیا ۔مگراسی لمحے آنکھوں کا کھل جانے کالمحہ کسی سزاسے کم نہیں ہوتا۔میرے پیارے پیارے والد محترم آپ کابیٹا ہر لمحہ آپ کو دعاؤں میں یاد رکھتاہے ،بارگاہ الہی میں آپ کے بڑے درجات اوراونچے مرتبوں پہ فائز ہونے کی دعاکرتاہوں ۔اس وقت میں اپنے آپ کوتنہا اوراداس محسوس کرتاہوں مگرمیں ذاتی طور پر آج جو کچھ بھی ہوں، جو عزت ملی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فضل کرم اور میرے والد کی محنت اوردعاوں کانتیجہ شامل ہے۔ میرا سرفخرسے بلند ہوتاہے جب لوگ شاندار الفاظ میں میرے والد کی خدمات، شفقتوں اور محبّتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں وہ ایک درویش انسان تھے۔ پورے علاقے میں ان کی حیثیت ایک بزرگ کی تھی۔ میرے سب سے التجاء ہے کہ جن خوش بخت لوگوں کے والد ابھی حیات ہیں، وہ اْن کی قدر کریں،اْن کی خدمت کریں،اْن کی فرمانبرداری کریں، اْنکو ہر حال میں خوش رکھیں۔اللہ تعالیٰ والدمحترم کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے آمین

بقول قتیل شفائی
آج تک دل کو ہے اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
لاکھ چاہا کہ اس کو بھول جائوں قتیلؔ
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
68983