The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

نیب ترامیم کیس کی 31 اکتوبر کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

Posted on

نیب ترامیم کیس کی 31 اکتوبر کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کی 31 اکتوبر کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔تحریری حکمنامہ میں کہا گیا سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش ہونے کا موقع فراہم کر دیا، عدالت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتی ہے، عدالتی حکم کی نقل اڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کو پہنچائی جائے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی عدالت میں پیش ہونا چاہیں تو جیل سپرنٹنڈنٹ انتظامات کریں۔سپریم کورٹ کے حکمنامہ میں کہا گیا نیب ترامیم فیصلے کیخلاف سماعت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کے تفصیلی فیصلے سے مشروط ہے، اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر دیئے، چیئرمین پی ٹی آئی کو نوٹس جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے بھیجا جائے گا۔واضح رہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم کیس میں مرکزی درخواست گزار ہیں۔

میانوالی میں ایئر فورس بیس پر حملہ ناکام، 9 دہشت گرد ہلاک

میانوالی(سی ایم لنکس)سیکیورٹی فورسز نے پاک فضائیہ کے ٹریننگ ایئر بیس پر دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے میانوالی ٹریننگ ایئر بیس پر ایک ناکام دہشت گرد حملہ ہوا جسے الحمدللہ سیکیورٹی فورسز کے بروقت اور موثر جواب کی بدولت ناکام بنا دیا گیا، اہلکاروں اور اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔غیر معمولی جرأت اور بروقت جوابی کارروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا.حملے کے دوران پی اے ایف کے فنکشنل آپریشنل اثاثوں میں سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تاہم پہلے سے گراؤنڈ کیے گئے تین غیر آپریشنل طیاروں اور ایک فیول باؤزر کو کچھ نقصان پہنچا۔پی اے ایف ٹریننگ ایئربیس میانوالی پر کومبنگ اینڈ کلیئرنس آپریشن مکمل کر کے تمام 9 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
81245

نیب ترامیم کیس؛ جسٹس منصور کی فل کورٹ بنانے کی تجویز

نیب ترامیم کیس؛ جسٹس منصور کی فل کورٹ بنانے کی تجویز

اسلام آباد(سی ایم لنکس)جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیخلاف کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز دے دی۔سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس منصور علی شاہ نے فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا فیصلہ کرے یا فل کورٹ تشکیل دے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ انا ابھی باقی ہے۔انہوں نے ملٹری ٹرائل کیس میں لکھے اپنے نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو فل کورٹ کو سننا چاہیے، آج بھی چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ نیب ترامیم کیس فل کورٹ سنے، ابھی تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا فیصلہ نہیں ہوا، اگر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہو جاتا تو معاملہ مختلف ہوتا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ فریقین آئندہ سماعت پر حتمی دلائل دیں، یہ کیس 2022سے زیر التواء ہے، ضروری نہیں کیس کے میرٹس پر فیصلہ دیں، نیب ترامیم کیخلاف دائر کی گئی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی فیصلہ دے سکتے ہیں، 2023میں نیب قانون میں کی گئی ترامیم کو ہمارے سامنے کسی نے چیلنج ہی نہیں کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ میری ریٹائرمنٹ قریب آن پہنچی ہے، یہ انتہائی اہم مقدمہ ہے مجھے ہر صورت فیصلہ دینا ہو گا، اگر فیصلہ نا دے سکا تو میرے لیے باعث شرمندگی ہو گا۔سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیخلاف کیس کی سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔

وزیر منصوبہ بندی گلگت بلتستان فتح اللہ خان اسمبلی رکنیت سے نااہل

گلگت( چترال ٹایمزرپورٹ)وزیر منصوبہ بندی گلگت بلتستان فتح اللہ خان اسمبلی رکنیت سے نااہل ہوگئے ہیں‘الیکشن ٹربیونل گلگت بلتستان نے پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے حق میں فیصلہ سنا دیا‘فتح اللہ خان قانونی جنگ ہار گئے۔سابق ڈپٹی سپیکر جی بی اسمبلی جمیل احمد نے انتخابی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے 2020 کے انتخابات میں گلگت 2 کے حلقے سے فتح خان کی جیت کو چیلنج کیا تھا۔فتح اللہ2020 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے فارورڈ بلاک میں شمولیت اختیار کی، جس کے نتیجے میں ان کی رکنیت ختم کر دی گئی۔جمعہ کے روز جی بی الیکشن ٹربیونل کے ایک فیصلے میں جمیل احمد کی پٹیشن پر فیصلہ سنا دیا گیا جس کے بعد فتح اللہ خان جی بی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل ہوگئے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
77989

نیب ترامیم کیس: نیب جو رقم وصول کرتا ہے وہ کہاں جاتی ہے؟ سپریم کورٹ

Posted on

نیب ترامیم کیس: نیب جو رقم وصول کرتا ہے وہ کہاں جاتی ہے؟ سپریم کورٹ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب جو رقم وصول کرتا وہ کہاں جاتی ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعر وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ نیب نے کیسز سے متعلق جامع رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی، نیب ایک رپورٹ میں 221 ریفرنس اور دوسری میں 364 ریفرنس واپس بھیجے جانے کا بتا رہا ہے۔وکیل نے کہا نکہ نیب کی دونوں رپورٹس میں 143 ریفرنسز کا تضاد ہے جبکہ نیب کے مطابق 41 شخصیات کی بریت ہوئی، لہٰذا عدالت نیب سے احتساب عدالتوں سے واپس بھیجے جانے والے ریفرنسز کا ریکارڈ طلب کرے۔وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب بتائے ان کیسز میں کتنے لوگ بری ہوئے، بری ہونے والوں میں سیاسی شیخصات کتنی ہیں۔اس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکیس دیے کہ نیب کو یہ بھی علم نہیں ہے کہ ریفرنسز 221 بھیجے گئے ہیں یا 364۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا ان ریفرنسز کی رقم کتنی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کیا کہ آپ خود کہتے رہے ہیں کہ نیب ماضی میں انتقام کے لیے استعمال ہوتا رہا۔چیف جسٹس نے ریمارکیس دیے کہ نیب چیرمین اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں، وہ ایک بہترین ساکھ کے حامل پولیس افسر تھے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس ایک مثال بھی ہے کہ ایک شخص نے پیسہ واپس کردیا لیکن اسکے باوجود اسے جیل میں رکھا گیا، لگتا ہے نیب قانون سے سب کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔انہوں نے دلائل دیے کہ نیب نے نئے قانون میں واضح نہیں کیا کہ کیسز نے کہاں جانا ہے، اس سے متعلق کوئی ادارہ بھی نہیں بنایا گیا جبکہ واپس بھیجے جانے والے ریفرنسز کا کوئی کسٹدوین بھی نہیں بنایا گیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس اس کا ڈجیٹل ریکارڈ موجود ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب جو رقم وصول کرتا وہ کہاں جاتی ہے اس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل دیے کہ پبلک اکاؤئنٹس کمیٹی بھی اس سے متعلق بار بار پوچھ چکی ہے۔وکیل مخدوم علی خان نے استفسار کیا کہ نیب ایکٹ 2022 کے تحت اب تک کسی کی بریت نہیں ہوئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ نیب قانون کے علاوہ اور کون سی دیگر قانون لاگو ہو سکتے ہیں اس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ، ٹیکسیشن سمیت دیگر قانون موجود ہیں۔بعدازاں عدالت نے درخواست پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ جون 2022 میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا،

مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
71903