نوحؑ کی کشتی اور ہمارا ڈوبتا ہوا ضمیر – از قلم: نجیم شاہ
نوحؑ کی کشتی اور ہمارا ڈوبتا ہوا ضمیر – از قلم: نجیم شاہ
یہ قصہ صرف ایک طوفان کا نہیں، بلکہ ایک ضمیر کی کشتی کا ہے — جو ہر دور میں تیار ہوتی ہے، مگر سوار ہونے والے کم ہوتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کہانی کوئی پرانی روایت نہیں، بلکہ آج کے معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ تصویر جس میں سچ بولنے والا تنہا کھڑا ہے، اور جھوٹ بولنے والا ہجوم کا مرکز۔ وہ منظر جس میں اصلاح کرنے والا تمسخر کا نشانہ بنتا ہے، اور فساد پھیلانے والا ہیرو بن جاتا ہے۔ نوح علیہ السلام کی کشتی لکڑی کی تھی، مگر آج کی کشتی ضمیر، شعور اور سچائی کی ہے — اور ہم نے اُسے بھی نیلام کر دیا ہے۔
نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو بلایا — دِن کی روشنی میں، رات کی تاریکی میں، خلوت میں، جلوت میں۔ مگر جواب میں صرف طنز، تمسخر، اور انکار ملا۔ آج بھی جو حق کی بات کرے، وہ دقیانوسی کہلاتا ہے۔ جو خیر خواہی کرے، وہ شدت پسند سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے ہر نصیحت کو مداخلت، اور ہر اصلاح کو بغاوت بنا دیا ہے۔ قومِ نوح کی طرح ہم بھی اپنے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس چکے ہیں — اور دِلوں پر سنگین پردے ڈال دیئے ہیں۔
جب نوح علیہ السلام نے کشتی کی تیاری شروع کی، تو قوم نے قہقہے لگائے۔ آج بھی جو کوئی سچائی کی بنیاد پر نظام کی اصلاح کی بات کرے، اُسے دیوانہ، غیر حقیقت پسند، یا خوابوں میں رہنے والا قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہم نے ہر اصلاحی آواز کو دبا دیا ہے، اور ہر فتنہ پرور کو تخت پر بٹھا دیا ہے۔ نوحؑ کی کشتی ایک علامت ہے — کہ جو وقت پر تیاری کرے، وہی بچتا ہے۔ مگر ہم تو وقت کو ضائع کرنے میں ماہر ہیں، اور تیاری کو مذاق سمجھتے ہیں۔
پھر وہ لمحہ آیا — جب آسمان سے پانی برسنے لگا، زمین سے چشمے پھوٹنے لگے، اور ہر طرف ہلاکت چھا گئی۔ وہی لوگ جو کل تک مذاق اُڑا رہے تھے، آج کشتی کی طرف لپک رہے تھے۔ مگر دروازہ بند ہو چکا تھا۔ آج بھی ہم وقت گزرنے کے بعد ندامت کرتے ہیں، مگر تب تک موقع ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ ہم ہر بار دیر سے جاگتے ہیں — اور پھر تقدیر کو الزام دیتے ہیں، نظام کو کوستے ہیں، مگر خود کو نہیں دیکھتے۔
نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی کشتی میں سوار نہ ہوا — اُس نے پہاڑ کو پناہ سمجھا، مگر پہاڑ بھی غرق ہو گیا۔ یہ سبق ہے اُن سب کے لیے جو دُنیاوی سہاروں کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ آج بھی ہم طاقت، دولت، اور تعلقات کو تحفظ کا وسیلہ سمجھتے ہیں، مگر اصل نجات ایمان، اخلاص، اور اطاعت میں ہے۔ نوح علیہ السلام نے کہا تھا: ’’آج کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اللہ کے‘‘ — مگر ہم سوائے اُس کے، ہر در پر جاتے ہیں۔
یہ کہانی صرف ایک طوفان کی نہیں، بلکہ ایک دعوت کی ہے — جو صدیوں تک دی گئی، مگر قبول نہ کی گئی۔ یہ صبر کی وہ تصویر ہے جسے ہم نے کمزوری کا نام دے دیا ہے۔ نوح علیہ السلام نے بغیر تھکن، بغیر مایوسی، اور بغیر غصے کے اپنی قوم کو بلایا۔ ہم ہوتے تو چند دن بعد ہی ہار مان لیتے، اور سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا دیتے: ’’یہ قوم نہیں بدل سکتی‘‘۔ مگر نوحؑ نے ثابت کیا کہ اصل کامیابی تعداد میں نہیں، اخلاص میں ہے۔
آج بھی طوفان آ رہے ہیں — اخلاقی، سماجی، فکری۔ اور آج بھی کشتی تیار ہے — قرآن، سنت، اور صبر کی کشتی۔ مگر ہم اُس کی طرف دیکھنے کو تیار نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ طوفان نہ آئے، مگر ہم اپنی روش نہ بدلیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشتی ہمیں خود آ کر بچا لے، مگر ہم اُس کی طرف قدم نہ بڑھائیں۔ ہم صرف تماشائی بنے بیٹھے ہیں — اور تماشائی کبھی بچتے نہیں، صرف بہتے ہیں۔
نوح علیہ السلام کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ نجات صرف اُن کے لیے ہے جو وقت پر فیصلہ کرتے ہیں، جو مذاق کو نظر انداز کرتے ہیں، اور جو سچائی کو اپناتے ہیں — چاہے دُنیا اُنہیں پاگل کہے۔ یہ قصہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشتی ہمیشہ تیار ہوتی ہے، مگر سوار ہونے کے لیے دِل کو بدلنا پڑتا ہے۔ اور اگر دِل نہ بدلا، تو پھر طوفان ہی مقدر ہے — اور مقدر کو کوئی نہیں بدل سکتا، سوائے اُس کے جو دِلوں کو بدلنے والا ہے۔