نوجوانوں کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے برابر لانے کیلئے علم و بزنس میں آگے لانا ہونا ہو گا، حاجی غلام علی
نوجوانوں کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے برابر لانے کیلئے علم و بزنس میں آگے لانا ہونا ہو گا، حاجی غلام علی
قانون کی حکمرانی معاشرتی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے، حاجی غلام علی
گورنر کاسنڑ فار لرننگ لاء اینڈ بزنس (CLLB) پشاور کا دورہ،گورنرکاپرتپاک استقبال،گورنر کو یونیورسٹی آف لندن سے الحاق شدہ پشاور میں شعبہ قانون کی تعلیم سے متعلق قائم منفرد نوعیت کے ادارے CLLB سے متعلق تفصیلی بریفنگ
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ قانون کی حکمرانی معاشرتی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے،ہمیشہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو قانون و انصاف کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں، شعبہ قانون کے طالبعلموں کو ملکی و عالمی قوانین و عدالتی نظام کے مطابق تیار کرنا چاہئے،قانون کے شعبہ سے وابستہ وکلاء و طالبعلم معاشرے میں قانون و انصاف کیلئے اہم کردار کے حامل افراد ہیں،اپنے نوجوانوں کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے برابر لانے کیلئے علم و کاروبار میں آگے لانا ہونا ہو گا۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کے روز سنڑ فار لرننگ لاء اینڈ بزنس (CLLB) پشاور کے دورہ کے دوران منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ادارہ میں پہنچنے پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر سی ایل ایل بی دلاور خان، فیکلٹی اراکین اور وکلاء برادری نے گورنر کا پرتپاک استقبال کیا، روایتی لنگی پہنائی اور یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔تقریب میں ایڈوکیٹ جنرل عامرجاوید،سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی ساجد انعام، بیرسٹر یاسین، بیرسٹر امیراللہ چمکنی سمیت، ادارے کی فیکلٹی اراکین، وکلاء برادری اور طلباء طالبات شریک تھے۔گورنر نے اس موقع پر ادارہ کو یونیورسٹی آف لندن سے تسلیم شدہ ادارہ بننے پر تختی کی نقاب کشائی بھی کی۔ ادارہ کے سربراہ دلاور خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر کو یونیورسٹی آف لندن سے الحاق شدہ پشاور میں شعبہ قانون کی تعلیم سے متعلق اپنی نوعیت کے منفرد ادارے CLLB سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے سے پشاور سمیت صوبہ بھر سے بیچلر اور ماسٹر کی قانون کی تعلیم حاصل کرنیوالوں کو یونیورسٹی آف لندن سے ڈگری جاری کی جائے گی،
گورنر نے تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں شعبہ قانون کی معیاری تعلیم کی فراہمی پر سی ایل ایل بی کی انتظامیہ و فیکلٹی اراکین کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ شعبہ قانون سمیت تمام شعبوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی میں نجی تعلیمی اداروں کی خدمات کا معترف ہوں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ صدی علم و بزنس کی صدی ہے، تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے،قانون کا شعبہ واحد شعبہ ہے جو معاشرے اور دیگر تمام شعبوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ہمارے نوجوان قابلیت میں کسی سے کم نہیں صرف درست رہنمائی کی ضرورت ہے،حکومت سمیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے نوجوان ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچائیں۔گورنرنے نو جوانوں کوتاکیدکی کہ حوصلہ اور ہمت دکھائیں، آگے بڑھیں اور ہر میدان میں ترقی یافتہ معاشروں کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہو جائیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ سب کو مل کر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنا اپناکردار اداکرناہوگا۔ گورنرنے کہاکہ قانون کی تعلیم کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ کسی بھی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں آگاہی اور معاشرتی انصاف شہریوں کی شعور پر منحصر ہے، انصاف، امن، علم، شعور اور عدل جیسے معاشرے کے بنیادی ستون قانون کے نظام پر ہی قائم ہیں۔ گورنرنے سنٹر فار لرننگ لاء اینڈبزنس میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی تعلیمی سرگرمیوں پرادارے کی انتظامیہ کو خراج بھی تحسین پیش کیااور کہاکہ دارالحکومت پشاورمیں قانون اور بزنس سے متعلق نوجوانوں کواعلی تعلیم کی فراہمی کیلئے ایک سہولت ہے اور اس امید کا اظہارکیا کہ اس ادارے سے ایسے قانون دان پیداہوں گے جو اقوام عالم میں اپنے ملک کانام روشن کریں گے۔ گورنرنے اس موقع پر ادارے کو اپنی جانب سے مکمل تعاون کابھی یقین دلایا۔

علاوہ ازیں گورنر سے سینیٹر دلاور خان، شبقدرتحصیل کے چیئرمین حمزہ آصف خان،تہکال پشاور سے نور محمد،فضل اکبر، خنان، عابد حسین،کوہاٹ چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری سے حاجی شاہین اور حاجی شوکت، خیبرچیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری سے حاجی جابر خان اور کرنل محمدصدیق آفریدی،ضلع مہمند سے محمدطلحہ اور حبیب الرحمن کی قیادت میں 15 رکنی وفدسمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے وفودنے بھی گورنرہاوس میں الگ الگ ماقاتیں کیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ #
