The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

نظام انصاف میں اصلاحات…… محمد شریف شکیب


خبر آئی ہے کہ افریقی ملک سینیگال کی مرکزی جیل سے دس مرتبہ فرار ہونے والا ملزم ایک بار بھر جیل توڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ 32سالہ بائے مودو فال کو فرار ہونے کا ماہرقرار دیا جاتا ہے۔فال دارالحکومت ڈاکار میں جیل کی کوٹھری کے گرل توڑتے ہوئے دیوار پھلانگ کر فرار ہوگیا۔جیل توڑنے کے بعد وہ ایک مقامی ٹی وی چینل کے دفتر پہنچ گیا۔ٹی وی چینل کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ انھیں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے پولیس حراست میں لیتی ہے ملک کا قانونی عمل مکمل ہونے اور انصاف ملنے میں بہت زیادہ وقت لگ رہا ہے اور وہ اپنا قیمتی وقت جیل کی کوٹھری میں ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اس لئے انہوں نے معاملات خود اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ دن ہو یا رات کسی بھی وقت قیدسے فرار ہو سکتا ہے۔انہوں نے انٹرویو میں یہ یقین دہانی کرائی کہ مقدمے کی سماعت کی تاریخ طے ہونے پروہ خود عدالت پہنچ جائیں گے۔

فال کے فرار ہونے پر جیل کے سربراہ کا بھی تبادلہ کر دیا گیا۔ فال پر عائد الزامات سے متعلق ان کے وکیل نے بتایا کہ فال کو کئی بار مقدمات میں قید کیا گیا مگر تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔افریقی قیدی کے جیل توڑنے اور ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویوکا ذکر کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی جیلوں میں برسوں سے سڑنے والے قیدیوں کو فرار ہونے پر اکسا رہے ہیں۔بائے مودو فال نے اپنے ملک کے نظام انصاف سے بغاوت کی ہے۔کیونکہ انصاف کرنے میں تاخیر کا مطلب انصاف کرنے سے انکار ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی ملزم کو پکڑنے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اس پر الزامات پر مبنی چالان عدالت میں پیش کیا جائے عدالت ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا ایک موقع فراہم کرے اگر وہ عدالت کو مطمئن نہ کرسکے تو اسے سزا سنائی جائے۔ اس کام میں زیادہ سے زیادہ ہفتہ دس دن لگ سکتے ہیں۔ مگر پاکستان سمیت دنیا کے تقریباًتمام ترقی پذیر ملکوں میں پولیس تفتیش اور انصاف کی فراہمی کے نظام میں سقم موجود ہے۔

معمولی نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ آنے میں برسوں لگ جاتے ہیں آج بھی ہمارے ملک کی جیلوں میں ایسے ہزاروں قیدی موجود ہیں جو سزا پوری کرنے کے باوجود ضمانتی نہ ملنے کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے زندگی کے دن گن رہے ہیں۔ دس پندرہ سال قید میں گذارنے والا جب عدالت سے باعزت بری ہوجائے تو اس کی زندگی کا ایک چوتھائی حصہ جیل میں ضائع ہوچکا ہوتا ہے۔ دیوانی مقدمات کے فیصلے آنے میں پچاس ساٹھ سال لگ جاتے ہیں۔دادا اپنی جائیداد پر قبضے کے خلاف عدالت جائے تو پوتے اور پڑپوتے کے دور میں ایک عدالت سے فیصلہ آجاتا ہے۔ اس کے خلاف دوسری عدالت میں اپیل اور پھر تیسری عدالت سے نظر ثانی کی درخواست کا فیصلہ آنے میں مزید دو عشرے لگ جاتے ہیں۔

اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے بھی تفتیشی نظام اور نظام انصاف پر بار ہا سوالات اٹھائے ہیں۔ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہوتا ہے عدالتیں اس کی تشریح کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپنے منشور کے مطابق مختلف اداروں میں اصلاحات کا عمل شروع کردیا ہے سب سے پہلی توجہ نظام انصاف اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے تفتیشی نظام میں اصلاحات پر دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بلاتاخیر، سستا اور فوری انصاف مل سکے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہاں بھی کئی بائے مودو فال پیدا ہوں گے۔ جس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوگا۔ قانون شکنی کو لوگ اپنا حق سمجھنے لگیں گے جس سے سول نافرمانی کی سی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ ادارے عوام کے لئے بنائے جاتے ہیں عوام کے ٹیکسوں سے پلنے والے ادارے جب عوام پر بوجھ بن جائیں تو جلد یا بہ دیر عوام اس کا حساب مانگیں گے۔ اس سے پہلے کہ عوام خود کرپٹ اداروں کا محاسبہ شروع کریں حکومت کو اپنے اداروں کا قبلہ درست کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
48884

نظام انصاف میں اصلاحات….. محمد شریف شکیب


وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کرپٹ لوگوں سے لوٹی گئی رقم واپس لے کر تعلیم پر لگائی جائے گی۔ہری پور میں ایک تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے پاکستان کے حوالے سے جو خواب دیکھا تھا اس راستے سے ہم بہت دور نکل گئے ہیں۔ ہم غلام نہیں بننا چاہتے ہیں، ہم اپنا راستہ ایجاد کرناچاہتے ہیں، انگریز کی غلامی والی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، مغربی دنیا ترقی کرسکتی ہے توہم کیوں نہیں کرسکتے انگریز جب سائنسدان بن سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں بن سکتے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھنا وقت کی ضرورت ہے، ہم وہ راستہ ڈھونڈ رہے ہیں جس سے پاکستان ترقی کرسکے، ہمیں اپنے ذہنوں کو آزاد کرکے ترقی کے راستے پر چلنا ہوگا۔ ہماری کوشش ہوگی زیادہ وسائل تعلیم پر لگائیں، انسانی وسائل کی ترقی کیلئے تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کی اس رائے سے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ قومی ترقی کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی رہی ہے تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایاگیا۔کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک کو لوٹ کر بیرون ملک منتقل کی گئی رقم وصول کرکے تعلیم پر لگانے کی بات کرکے ہمارے وزیراعظم نے تعلیم کو اپنی ترجیحات کی فہرست کے آخری حصے میں ڈال دیا ہے۔ کیونکہ کرپشن کے پیسے وصول کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا ہے۔نیب نے پلی بارگین کے ذریعے کچھ رقم چھوٹے اور درمیانی درجے کے کرپٹ سرکاری اہلکاروں سے وصول کی ہے مگر اس رقم سے نیب کے اپنے خرچے پورے نہیں ہوتے۔تعلیم کے لئے کیا بچے گا۔ بڑے چوروں اور لٹیروں سے اب تک ایک پائی بھی وصول نہیں کی جاسکی۔اگرچہ ان کے خلاف درجنوں کی تعداد میں مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں مگر فیصلے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔لوٹ مار کرنے والوں نے اپنے لئے فرار کے راستے پہلے ہی متعین کردیئے ہیں اس لئے انہوں نے انصاف کے نظام کو اتنا پیچیدہ بنادیا ہے کہ ایک عدالت سے فیصلہ آجائے تو اس کے خلاف دوسری عدالت میں اپیل دائر کی جاتی ہے اور اپیل کے ساتھ کچھ اضافی فائلیں داخل کرکے مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کروایا جاتا ہے۔بہتر ہوگا کہ حکومت بجٹ میں ہی تعلیم کے لئے مناسب رقم مختص کرے اور لوٹی گئی رقم اگر حکومت کرپٹ لوگوں سے نکلواسکے تو اس کے لئے مصارف بہت ہیں اس رقم کو سڑکوں کی تعمیر، بجلی گھر بنانے، یتیم خانے قائم کرنے، لنگر کھولنے، ہسپتال بنانے، یتیموں، بیواؤں، ناداروں، معذوروں اور بے سہارا لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک غلامانہ ذہن کی بات ہے وہ اب مقبول عام روایت بن چکی ہے اور روایات کو توڑنا ہمارے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے پہلے ہی اپنے لئے دو تین درجن محاذ کھول رکھے ہیں اب آقا اور غلام والی روایت کو توڑنے پر آگئے تو ان کے سینکڑوں مزید دشمن پیدا ہوں گے۔یہاں قدم قدم پر آقائیت اور حاکمیت کا قانون نظر آتا ہے اس روایت کو توڑنے کے لئے حکومت کو افسروں کی تربیت کا پورا نصاب تبدیل کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس نصاب میں ہمارے افسروں کو عوام سے فاصلہ رکھنے اور انہیں ہمیشہ دباؤ میں رکھنے کی تربیت دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قومی خزانے اور عوام کے ٹیکسوں پر پلنے اورتنخواہ دارملازم ہونے کے باوجود وہ خود کو آقا اور عوام کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔حاکمیت کا نظام بدلنا ہے تو سندھ میں وڈیرہ شاہی، پنجاب میں چوہدراہت، بلوچستان میں سرداری اور خیبر پختونخوا میں خان شاہی کا نظام بدلنا ہوگا کیا حکومت تمام وڈیروں، چوہدریوں، سرداروں اور خوانین کی مخالفت کا خطرہ مول لے سکتی ہے۔ اور تمام افسروں کو عوام کا خادم اور تنخواہ دار ملازم بناسکتی ہے۔ انگریز نے اپنے دور میں ایک سو سال تک یہ نظام رائج کیااور پھر ہمارے لئے ورثے کے طور پر چھوڑ گیا اور ہم گذشتہ ستر سالوں سے اسی نظام سے چمٹے ہوئے ہیں اس سے جان چھڑانا مشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن ہے اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ حکومت ملک میں اسلامی نظام نافذ کرے تمام قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالے۔ استحصالی نظام کا خود بخود خاتمہ ہوگا۔کرپٹ لوگ بھی پکڑے جائیں گے اور اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی بھی آسان ہوجائے گی۔اور حکومت کو بھی نظام کی تبدیلی میں زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اگر اسلام کا نظام انصاف نافذ ہوا تو چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔زناکار کو سرعام سنگسار کیا جائے گا۔ قاتلوں کے سرقلم کئے جائیں گے۔ مقدمات کے فیصلے قاضی کی عدالتوں میں سرسری سماعت کے بعد موقع پر کئے جائیں گے۔ قرآن کے بتائے ہوئے نظام کو نافذ کرنے کی راہ میں بھی وہی عناصر رکاوٹ ہیں جو موجودہ قوانین میں اصلاحات کی راہ میں روڑے اٹکارہے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
40303