The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 31 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

نبی آخر الزمان ﷺ کے بچپن اور جوانی کے کچھ اہم پہلو…..محمدآمین


اللہ تبارک تعالی نے بنی نوع انسان کی رہنمائی اور تزکیہ نفس کے لیے وقتا فوقتا کم و بیش ایک لاکھ پچیس ہزار انبیاء دنیا میں مقرر فرمایا جو اپنے وقتوں میں انسانوں کو اللہ کی وحدانیت کی طرف ہدایت کیے اور گمرائی سے نجات دلانے میں ان کی مد د کی تاکہ وہ تخلیق انسانیت کی اصل روح سے واقع ہوں۔ہدایت کا یہ سلسلہ چلتا ہو ا محمد مصطفی ﷺ تک پہنچا جو کہ اللہ کی طرف سے اخری نبی اور رسول مقر ر ہوا اور اپکے بعد نبوت اور وحی کا سلسلہ قیامت تک کے لیے ختم کی گئی۔آپ ﷺ کی عظمت اور مرتبت اتنی اہم تھی کہ رب کائینات نے اپ کو خلق اعظیم کے خطاب سے نوازا۔اور آپ کی اسوہ حسنہ کو تمام انسانیت کے لیے ایک مثل قرار دی گئی تاکہ دنیا کے تمام انساں اسے سکیھے۔مذید اللہ تعالی نے رحمت اللعالمین جیسے علی المرتبت خطاب بھی اپ ﷺ کو عطا کیا۔آپ کی ذات مبارک برکتوں سے برا ہو ا ہے اور فیضان رحمت سراپا ہے کیونکہ آپ اللہ کے حبیب ہے،ہادی برحق ہے،نذیر ہے،مبشر ہے اور یوم حشر شفاعت کا زریعہ ہے۔آپ بندوں اور خالق کے درمیاں کڑی اور وسیلہ رحمت ہے۔


محمد صلی اللہ علیہ والسلام کو بچپن ہی سے یتیمی کی مشکلات کا سامنا کر نا پڑا جن کا آپ نے اپنی با ہمت دادا جناب عبدالمطالب اور شفیق چچا جناب ابو طالب کے زیر نگرانی بڑی دلیری سے مقابلہ کیا۔ایسا لگتا ہے کہ یتیمی کے دل سوز درد اپ کے پاکیزہ اور نرم دل پر اثر کیے ہو نگے۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ مصائب ایک اعلی کریکٹر سازی کے لیے لازمی تھے کیونکہ اپ کو ذندگی میں تکالیف کا سامنا کرنا تھا اور بعد میں جو بھاری بوجھ اپ کے مبارک کاندھوں پر ڈالا گیا ان کو خوش اسلوبی سے نبھانا منزل مقصود تھا۔اگر چہ آپ بچپن میں مان باپ کی شفقت سے محرو م ہو ا تھا لیکن چچا حضرت ابو طالب کی محبت نے نبی ﷺ کو اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا اپنے گھر کا اہم حصہ قرار دیا جیسا کہ وہ اس کا اپنا بیٹا تھا۔آپ کے لیے جناب آبو طالب ایک شفیق باپ تھا،ایک وفادار چچا تھا،اور ایک رحمدل سہارا تھا۔یہ دونوں چچا اور بھتیجا ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہونے کا نام لینا گوارا نہیں کرتے تھے اور اپنے بھتیجے کا ہاتھ پکڑ کر آکاز،ماجنا اور زیلماجز کے اہم بازاروں میں جایا کرتا تھا۔مختصرا حضرت ابوطالب نے نبی کی پرورش میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جس کی مثال شیعب ابی طالب میں تین سالوں کی وہ درد سے بھرا ہوا واقعہ ہے جس سے سن کر دل بے چین ہو تا ہے اور یا قریش کے دوسرے ناپاک عزائم جس کا آپ بڑی خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتا ہے اور آ پﷺ کی اس مقدس مشن میں ایک مضبوط چٹان کی طرح سا تھ دیتاہے۔
آپ میں بچپن ہی سے دیانت اور صداقت کے نشانیان بھرے ہوئے تھے۔ایک دفعہ جب نبی تجارتی سامان لیکر بصرہ کے قریب پہنچا تو ایک عالم اور عابد راہب بحیرا ن کی نظر آپﷺ پر پڑی اور آپ نے مشاہدہ کیا کہ بادل کا ایک ٹکڑاقافلے کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی،یہ معجزہ دیکھ کر بحیرا نے اپنے خانقاہ کے ایک ملازم کو وہاں بیھجا کہ وہ جا کر انہیں بتائے کہ اج کے دن وہ میرے مہمان ہیں،یہ سن کر سارے وہاں ائے سوائے آپ ﷺکے جو سامان کے پاس بحثیت نگراں کھڑا تھا۔جب راہب نے یہ دیکھا کہ بادل کا ٹکڑا اپنی جگہ سے نہیں ہل رہی تھی تو اپنے ان سے سوال کیا کہ ایا سارے قافلے والے موجود ہیں تو انہوں نے کہا سوائے ایک کم عمر لڑکے سب موجود ہیں تو راہب نے اس کو بھی لانے کا کہا۔کھانا کھانے کے بعد راہب نے آپﷺ سے سوال کیا کہ لات اور اوزا کی قسم مجھے جواب دیجئے اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ دونوں میرے لیے نفرت تریں چیزین ہیں۔بعد ازان کچھ انٹر ویو کے بعد راہب آپﷺ کے سامنے جھک کر بیٹھ گیااور کہنے لگا کہ آپ آدم کی اولاد میں سب سے معزز تریں ہے اور میں آپ کی الہامی مشن کی تصدیق کرتا ہوں۔آپ نے جناب ابو طالب سے کہا کہ یہ بچہ بڑی عظمتوں کا ملک ہے اور اس کی پروریش احتیاط سے کریں۔


جب سے نبی آ خر الزمان کو ایک عظیم پیغمبر اور نفیس رہنما بنا تھا، او بے لگام اور اوباش لوگوں کا کو سلیقہ سیکھائے،توہمات پر مبنی عقائد سے لڑیں،ایام جہالت کے غلط رسومات کا خاتمہ کرے تاکہ انصاف اور قوانین کے اعلی اصولوں کی بنیاد رکھیں اس لیے آپﷺ کا مقدر تھا کہ مال مویشیان چرائیں۔یہ سرگرمی شہر کی شوروشرابا اور جھگڑوں سے آپ کو الگ تھلگ رکھا اور اس پیشے سے ایک ایسا تجربہ حاصل کیا جس کا پھل آپﷺ کو نبوت اور حکمرانی کے دنوں میسر ایا۔یہ وہ وقت تھا جب آپ نے خیر سگالی،اچھے مزاج،برداشت،سچائی،ہمسائیوں کے ساتھ سلہ رحمی،بھروسہ اور برائیوں سے نجات کے اعلی اوصاف سکھے اور آپ آمین و صادق کے القاب سے مشہور ہوئے۔


جب آپﷺ بچپن کی ذندگی سے پختگی میں داخل ہوا اور آپ کے اندر جبلاتین اور صلاحتیں پروان چڑھنے لگے اور یہ جزبات کا زمانہ ہو تا ہے جس میں نوجوان اکثر انحراف،اخلاقی تنزل اور لا پروائی کا شکار ہوتے ہیں۔رسولﷺ بھی ایک گندھے ماحول میں رہتا تھا جو ہر قسم کے اخلاقی برائیوں اور گناہوں سے بھرے ہوئے تھے اور حجاز میں جوان اوربوڑے سارے جنسی انحراف اور غلیظ حرکتوں میں مصروف عمل تھے ہر گلی میں کئی گھروں پر سیاہ رنگ کے جھنڈے لہرارہے تھے جو کہ بد کارلوگوں کے انے جانے کے لیے مختص تھے۔پچیس سال تک بغیر شادی کے ذندگی بسر کی،لیکن اس گندگی ماحول کا اپﷺ پر ہلکا بھی اثر نہیں ہوا،نہ کسی شخص کو اپ ﷺسے کوئی غیر اخلاقی کام دیکھنے کو ملا۔یہی وجہ تھا کہ آپ کے دوست اور دشمن دونوں نے آپ کو نیکی اور پاک دامنی کا اعلی ماڈل مانتے تھے۔بحارول انوار میں میں جناب خدیجہ الکبریا کے ساتھ آپ کی مقدس عقد کے وقت بولی گئی اشعار سے آپﷺ کی پاک دامنی کا اندازاہ لگایا جاسکتا ہے،جناب خدیجہ کو مخاطب کر کے شاعر کہتا ہے کہ


اے خدیجہ دنیا کے تمام لوگوں کے درمیاں ا پ کو سب سے اعلی اور منفرد مقام حاصل ہوا ہے آ پکو محمدﷺ کے ساتھ نکاح کا شرف ملا ہے،عظیم ادمی جس کا برابر ابھی تک دنیا میں پیدا نہیں ہوا ہے۔تمام اعلی خصوصیات،خوبیاں اور حیا اس میں پائے جاتے ہیں اور رہیں گے۔


دوسرے شاعر نے کہا کہ اگر احمد کو دنیا کے تمام لوگوں کے مقابلے تولا جائے وہ سب سے بھاری ہوگا،اور اپکی تمام خوبیا ن قریش کے لیے واضح ہیں۔


ہمیں اپنی نبی ﷺ کی سیرت مبارکہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ان پر عمل کرکے ایک مثبت اور اچھے معاشرے کی تعمیر میں اپنے حصے ڈال سکتے ہیں۔سیرت مصطفیﷺ پر ہی عمل پیرا ہو کر ہم دونوں جہانوں میں سروخرو ہو سکتے ہیں،کیونکہ نبی ﷺ کی سیرت ہی ہمارے لیے بہتریں سیرت ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
41846