The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

  نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو باضابطہ رجسٹریشن کے زریعے دستاویزی اور ریگلولیٹڈ فریم ورک میں لایا جا رہا ہے خیبرپختونخوا کی اپنی آمدنی پچھلے دو سالوں میں دوگنی ہو چکی ہے۔ مشیر خزانہ

  نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو باضابطہ رجسٹریشن کے زریعے دستاویزی اور ریگلولیٹڈ فریم ورک میں لایا جا رہا ہے خیبرپختونخوا کی اپنی آمدنی پچھلے دو سالوں میں دوگنی ہو چکی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

.

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان گورننس فورم 2026 میں شرکت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو پورے پاکستان میں گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کو یکجا کرتا ہے مزمل اسلم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ خیبرپختونخوا گورننس اصلاحات میں کسی بھی صوبے سے پیچھے نہیں۔ معزز وزیر اعلیٰ کی قیادت میں اچھی حکمرانی کو ایک منظم اصلاحاتی ایجنڈا کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے ادارہ جاتی تبدیلی، ڈیجیٹل جدت اور مالی نظم و ضبط کی حمایت حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مزمل اسلم نے کہا خیبرپختونخوا نے پانچ سالہ ڈیجیٹائزیشن منصوبہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا۔ تقریباً 170 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائزیشن کے لیے شناخت کیا گیا جس میں سے 56 خدمات مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکی ہیں اور 73 خدمات میں الیکٹرانک ادائیگی کی سہولت دستیاب ہے۔

مزمل اسلم نے کہا خیبرپختونخوا نے کیش لیس پبلک فنانس نظام کی طرف واضح پیش رفت کی ہے۔ صرف جنوری 2025 میں 251,214 سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور 115,648 پنشنرز کی پنشن مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے کے ذریعے ادا کی گئیں، جو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور قابلِ سراغ لین دین ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایک اہم اصلاح قرضہ جاتی نظم و نسق فنڈ کا قیام ہے، جو پاکستان میں صوبائی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی کے ساتھ کے پی آر اے کی محصولات اصلاحات کے ذریعے صوبائی مالی خودمختاری کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جن میں جی آئی ایس پر مبنی پراپرٹی ٹیکسیشن، ریئل ٹائم ڈیجیٹل مانیٹرنگ، اینالیٹکس پر مبنی نفاذ شامل ہے۔ ان اصلاحات نے ٹیکس کی شرح بڑھائے بغیر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا ہے۔ نتیجتاً خیبرپختونخوا کی اپنی آمدن دو سال میں دوگنی ہو کر 65 ارب روپے سے 129 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس اور ریگولیٹری نگرانی کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ، جو مارچ 2026 میں تکمیل کے قریب ہے، اور اے این پی آر و آر ایف آئی ڈی پر مبنی خودکار گاڑی شناختی نظام پولیسنگ کو پیشگی اور انٹیلی جنس پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجود 8,179 مدارس میں سے 1300 سے زائد مدارس رجسٹر ہو چکے ہیں، جو تعلیمی نظام میں ادارہ جاتی انضمام اور شفاف نگرانی کی جانب اہم قدم ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اسی طرح صوبے بھر میں نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیوں کی میپنگ اور پروفائلنگ مکمل کر لی گئی ہے، اور اب انہیں باضابطہ رجسٹریشن کے ذریعے دستاویزی اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا خیبرپختونخوا اوٹ آف سکولز بچوں میں 50 فیصد کمی آئی ہے اور 1500 کم کارکردگی والے اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع ہے جبکہ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے 90 فیصد اساتذہ حاضری کو یقینی بنایا گیا ہے مزمل اسلم نے کہا کہ 250 صحت مراکز کو 24/7 زچگی خدمات کے لیے اپ گریڈ کیا گیا ہے جبکہ 54 ہسپتالوں کو بہتر انتظامی ماڈلز پر منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس — ڈیجیٹل خیبرپختونخوا ڈیجیٹل تبدیلی اصلاحات کا مرکزی ستون ہے۔ آن لائن سرکاری خدمات کی توسیع، ای آفس سسٹمز کی مضبوطی، اور مختلف محکموں میں ای-پروکیورمنٹ کا نفاذ جاری ہے۔ 100 سے زائد سرکاری خدمات شہری پلیٹ فارمز جیسے دستک انیشی ایٹو کے ذریعے آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ ریگولیٹری و انتظامی جدیدیت کیلئے خیبرپختونخوا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے کئی اہم اقدامات متعارف کروائے ہیں جن میں وہیکل اسمارٹ کارڈز کا اجرا، پراپرٹی ٹیکس ریکارڈز کی کمپیوٹرائزیشن، اوپن آکشن کے ذریعے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (IDC) کی کامیاب وصولی، جس سے1.16 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
118282

چترال میں ابتک دو ہزار سے زائد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ مکمل، عوام کی طرف سے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی کارکردگی کو سراہا گیا

چترال میں ابتک دو ہزار سے زائد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ مکمل، عوام کی طرف سے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی کارکردگی کو سراہا گیا

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ملاکنڈ ڈویژن کے دوسرے اضلاع کی طرح چترال میں بھی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا پروفائلنگ کا کام جاری ہے،محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن چترال کا عملہ گزشتہ ماہ سے تما م نان ڈیوٹی پیڈگاڑیوں کی پروفائیلنگ کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اور اب تک چترال (لوئراینڈ اپر) میں دوہزار اُنتالیس گاڑیوں کی پروفائلنگ مکمل کی جاچکی ہے۔ جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں ابتک تقریبا اُنیس ہزار گاڑیاں ریکارڈ میں آچکی ہیں۔

محکمہ ایکسائز چترال  کا عملہ انسپکٹر عبید الرحمن کی سربراہی میں ہفتہ اور اتوار کے دن اپرچترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہاہے جبکہ ہفتے کے باقی دنوں لوئرچترال میں پروفائلنگ کا کام جاری ہے۔ اور روزانہ پچاس سے سوگاڑیوں کا ڈیٹا اکھٹا کیا جارہاہے۔ گاڑیوں کی پروفائلنگ کا کام پہلے سے سہل بنانے پر علاقے  کے عوام نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
81948

نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر رجسٹرڈ رکشہ و موٹر سائیکلز کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے حوالے سے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کے زیر صدارت اجلاس

Posted on

نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر رجسٹرڈ رکشہ و موٹر سائیکلز کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے حوالے سے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کے زیر صدارت اجلاس

سوات (نمائندہ چترال ٹائمز) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شاہد اللہ خان کی زیر صدارت ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر رجسٹرڈ رکشہ و موٹر سائیکلز کو قانونی دائرہ کار میں لانے بارے اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ناصر محمود ستی، ڈپٹی کمشنر سوات عرفان اللہ خان وزیر، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ملاکنڈ شاہ جمیل، ایس پی ٹریفک سوات بادشاہ حضرت اور ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سوات نے شرکت کی۔ ایس پی ٹریفک سوات نے اجلاس کو ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر رجسٹرڈ رکشہ و موٹر سائیکلز کیوجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک اور امن و امان کی صورت حال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور اجلاس کے شرکاء نے مستقبل کیلئے لائحہ عمل اپنانے کی مختلف تجاویز پیش کیں۔ کمشنر ملاکنڈ کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر رجسٹرڈ رکشہ و موٹر سائیکلز کیوجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک اور امن و امان کے مسائل پر قابو پانے کیلئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل قریب میں مذید مسائل کی روک تھام ممکن ہو۔کمشنر ملاکنڈ نے ڈپٹی کمشنر سوات کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر سوات اور موٹر وہیکل ایگزامینر سوات پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی جو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، غیر قانونی رکشہ اور موٹر سائیکلوں کو قانونی دائرہ کار میں لانے کیلئے تجاویز مرتب کریگی۔

chitraltimes commissioner malakand division chairing meeting on ncp vehicles

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
75916