The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

نئے دور کی طاقت، سوشل میڈیا اور انسانی اختیار – اقبال عیسیٰ خان

Posted on

نئے دور کی طاقت، سوشل میڈیا اور انسانی اختیار – اقبال عیسیٰ خان

آج کا دور سوشل میڈیا کے بغیر تصور کرنا واقعی ناممکن ہو چکا ہے، کیونکہ اس نے ہمارے دن، ہماری سوچ، ہمارے معاشرے، معاشی رجحانات اور انسانی رویّوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کے مستند اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ اربوں انسان روزانہ اوسطاً دو سے تین گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، اور یہی پلیٹ فارم اب تعلیم، تجارت، تفریح، ذہنی رابطوں اور ثقافتی تبدیلیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک ذریعۂ رابطہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا طاقتور نظام بن چکا ہے جو عالمی رجحانات کو جنم دیتا اور روایتی نظریات و فارمولوں کو چیلنج کرتا ہے۔

سوشل میڈیا نے انسان کو وہ مواقع دیے ہیں جو ماضی میں صرف چند مخصوص طبقات تک محدود تھے۔ آج ایک ایسا فرد جو معاشی طور پر کمزور ہو، یا جس کے پاس نہ سرمایہ ہو، نہ بڑے تعلقات اور نہ ہی روایتی میڈیا تک رسائی، وہ بھی اپنے خیالات، ہنر اور تخلیقی مواد کے ذریعے عالمی سطح پر پہچان بنا سکتا ہے۔ اس کی ایک روشن مثال خبی لیم ہے، جس نے سادہ مگر بامعنی مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے دنیا بھر میں کروڑوں دل جیتے۔ اس کی خاموش ویڈیوز نے ثابت کیا کہ اثر ڈالنے کے لیے نہ بڑی زبان درکار ہے، نہ بھاری وسائل، بلکہ سچائی اور سادگی ہی اصل طاقت ہیں۔ آج وہ دنیا کے سب سے زیادہ مقبول سماجی رابطہ پلیٹ فارم کے تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خبی لیم نے اپنی سماجی شہرت کو کاروباری حکمتِ عملی میں ڈھال کر اپنی کمپنی کو غیر معمولی مالی قدر پر فروخت کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ درست قیادت، مستقل مزاجی اور ذہانت کے ساتھ سوشل میڈیا صفر نیٹ ورتھ رکھنے والے انسان کو بھی غیر معمولی معاشی مقام تک پہنچا سکتا ہے۔ اسی طرح ایڈی سن رائے نے محض رقص اور تفریحی مواد سے سفر شروع کیا، پھر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو موسیقی، فلم اور عالمی برانڈز کے ساتھ جوڑ کر نہ صرف شہرت حاصل کی بلکہ مالی استحکام بھی پیدا کیا۔ یہ کہانیاں اس نئی دنیا کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں کامیابی کے پیمانے بدل چکے ہیں۔
سوشل میڈیا نے روایتی اصولوں کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ماضی میں کسی فنکار، مصنف، اداکار یا کاروباری شخص کو پہچان بنانے کے لیے برسوں کی محنت، سرمایہ، تعلقات اور ٹیلی وژن یا اخبارات جیسے ذرائع درکار ہوتے تھے، لیکن آج ایک عام انسان اپنی محنت، تخلیقی سوچ اور درست وقت پر درست حکمتِ عملی کے ذریعے چند لمحوں میں عالمی برانڈ بن سکتا ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جس نے عام انسان کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔

تاہم ہر طاقت کی طرح سوشل میڈیا بھی دو دھاری تلوار ہے۔ جہاں یہ علم، آگہی، رابطے اور کاروباری مواقع فراہم کرتا ہے، وہیں غلط معلومات، جھوٹی خبروں، وقت کے ضیاع، ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی میں کمی جیسے سنگین مسائل کو بھی جنم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر معلومات اتنی تیزی سے پھیلتی ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا عام انسان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر فرد کے ہاتھ میں ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بغیر تصدیق کے کچھ بھی شائع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی الجھن، فکری انتشار اور غلط فہمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنا قیمتی وقت سوشل میڈیا پر بے مقصد مصروفیات میں ضائع کر رہی ہے، جس کا اثر ان کی تعلیم، عملی زندگی، خاندانی تعلقات اور نظم و ضبط پر پڑ رہا ہے۔ مسلسل موازنہ، نمائش اور ظاہری کامیابیوں کی دوڑ ذہنی دباؤ اور بے چینی کو جنم دیتی ہے، جو ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

اس سب کے باوجود، سوشل میڈیا نے تعلیم، ذاتی برانڈنگ، شناخت سازی اور اثر و رسوخ کے میدان میں جو انقلاب برپا کیا ہے، اس سے انکار ممکن نہیں۔ آج ایک ایسا شخص جس کے پاس کبھی دولت، اعلیٰ تعلیم یا مضبوط تعلقات نہیں تھے، وہ اپنی قوتِ اظہار، سیکھنے کی لگن اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ذریعے عالمی سطح پر مقام حاصل کر سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس طاقت کو شعور، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
یہ دور ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم علم، اخلاق، حکمت اور بصیرت کو اپنی رہنمائی بنائیں۔ اگر ہم ایسا کر لیں تو سوشل میڈیا محض شہرت یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن جائے گا جو ہمیں بہتر انسان، مضبوط قائد اور سنجیدہ مفکر بنانے میں مدد دے گا۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
117713