بزمِ درویش ۔ میرے داتا حضورؒ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
بزمِ درویش ۔ میرے داتا حضورؒ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
میں مختصر قافلہ شوق کے ساتھ تاریخ انسانی کے سب سے بڑے اور آسمان تصوف کے سب سے روشن ستارے حضرت سید علی ہجویری کے سالانہ عرس مبارک پر حاضر تھا پروانوں دیوانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر مزار اقدس کا طواف کر رہا تھا دیوانوں پروانوں تشنگان روحانیت کا جوش جذبہ دیکھ کر میں روحانیت فقر کے منکرین کی عقل پر ماتم کر رہا تھا اِس کامل درویش کو مٹی کی چادر اوڑھے اب ہزار سال ہو نے کو ہیں لیکن محبوبیت ہر دلعزیزی شہرت ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جارہی ہے سید علی ہجویری غزنی کے علاقے ہجویر میں 400ھ میں پیدا ہوئے جس کی وجہ سے آپ کو ہجویری کہا جاتا ہے والد محترم کا نام سید عثمان تھا آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن سے جا کر ملتا ہے تاریخ کے بعض تذکروں میں آپ کو جلالی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آپ کے والد محترم جلاب کے رہنے والے تھے بعض تاریخ نوسیوں کے بقول ہجویر اور جلاب غزنی کے دو مشہور محلے تھے
آپ کی کنیت ابو الحسن تھی آپ فقہی اعتبار سے امام اعظم حضرت ابو حنیفہ کے مسلک کی پیروی کر تے تھے راہ سلوک کے مسافروں کے لیے جو فطری بے چینی اضطراب تلاش کھوج ضروری ہوتی ہے قدرت نے آپ کو اِس سے مالا مال پیدا کیا تھا اِسی روحانی تشنگی کو بجھانے کے حصول علم کے لیے آپ نے بہت مشقتیں برداشت کیں ہوش سنبھالتے ہی ہجرت پر ہجرت کرتے چلے گئے کبھی خراسان کو اپنا مسکن بنایا یہاں تسکین نہیں ملتی تو ماورا انہر کی راہ لیتے ہیں جہاں کسی اہل علم روحانی شخصیت کا پتہ چلا اس کے دروازے پر سوالی بن کر دستک دیتے اِس طرح آپ کے اساتذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن زیادہ مذہبی علوم میں آپ کے استاد شیخ ابوالقاسم کر گانی تھے جن کا ایک بہت مشہور قول ہے جو اہل تصوف کے لیے ہر دور میں مشعل راہ کا کام کرتا ہے
آپ فرماتے ہیں تصوف کے راستے پر مرشد کی رضا سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں پس فقیر کو چاہیے ہر وقت مرشد کو اپنے پاس ہی سمجھے آپ کے استاد کاایک اور قول بہت مشہور ہے مرشد میں خواہشات نفسانی کے دریا کے پار اترنے کی صلاحیت موجود ہونی چاہیے کیونکہ اگر مرشد خود ماہر تیراک نہیں تو ایک خود تو ڈوبے گا ہی مرید کو بھی ڈبو دے گا مذہبی علوم حاصل کرنے کے بعد جب آپ نے کوچہ فقر راہ تصوف کا طالب بننے کا فیصلہ کیا تو آپ حضرت ابو الفضل بن حسین ختلی کی بارگاہ میں حاضر ہو کر بیعت ہو گئے جن کا روحانی سلسلہ حضرت جنید بغدادی سے ملتا ہے آپ کے مرشد ایک کامل درویش تھے آپ غلاموں کی طرح ہر وقت مرشد کے ساتھ لگے رہتے آپ اپنے مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میرے مرشد دنیا سے بے نیاز اور حق تعالی کے جلوں میں مستغرق رہتے تھے رسمی جو گیوں صوفیوں جھوٹے بزرگوں سے بہت سختی سے پیش آئے تھے آپ بہت پر جلال بزرگ اور دنیا داری کے تقاضوں سے پاک تھے سید علی ہجویری اپنے مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں ایک دن میں وضو کے لیے اپنے مرشد پاک کے ہاتھ دھلا رہا تھا کہ دل میں خیال آیا جب ہر کام تقدیر پر منحصر ہے تو پھر ہم شاگرد ہر وقت غلاموں کی طرح کیوں مرشد کا طواف کر تے ہیں
یہ خیال میرے دل میں گزرا لیکن روشن ضمیر مرشد کریم میرا خیال پڑھ لیا میری طرف محبت سے دیکھا اور تبسم آمیز لہجے میں بولے برخوردار جو کچھ تمہارے دل میں ہے مجھے سب پتہ ہے مگر ہر حکم کے لیے کوئی نہ کوئی سبب درکار ہو تا ہے جب خالق کائنات کسی کو تخت و تاج دینا چاہتا ہے تو پہلے اس شخص میں تخت و تاج سنبھالنے کی عقل صلاحیت پیدا کر تا ہے پھر وہی خدمت اس کی بزرگی کا باعث بن جاتی ہے سید علی ہجویری کے تقوے پرہیز گاری کا یہ عالم تھا کہ چھپن سال ایک ہی لباس زیب تن رکھایہاں تک کہ لباس بو سیدہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ سے پھٹ گیا لیکن آپ پیوند لگا لیتے یہاں تک کہ پیوند اِس قدر بڑھ گئے کہ اصل لباس چھپ گیا تقوے کے اِس پہاڑ کی آغوش میں سید علی ہجویری نے فقر کی منازل طے کیں جب سید علی ہجویری کامل ہو گئے روحانیت فقر کی تمام منازل طے کر گئے تو آپ کی زندگی کا اہم موڑ آیا جب شہر لاہور کی قسمت بلکہ برصغیر پاک و ہند کی قسمت بد ل گئی وہ سر زمین جو ہزاروں سالوں سے بت پرستی شیطانی آلہ کاروں کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھی بت پرستوں کے گلی کوچوں میں واحدانیت کی صدا گونجنے کا وقت آگیا تو حید کے سورج طلوع ہو نے کا وقت آگیا آپ نے اپنے مرشد کریم کے قدموں میں بیٹھے ان کے پاں مبارک دبا رہے تھے کہ مرشد کریم نے شفیق محبت بھری سے دیکھتے لبوں سے کہا اے میرے روحانی فرزند اب تمہاری روح لطیف ہو چکی ہے
قلب مضبوط ہو چکا ہے اب تم اِس خار زار ہستی سے سلامتی کے ساتھ گزر جا گے اب تم مکمل ہو چکے ہو اب تمہارا لوگوں کی رشد و ہدایت کا علم بلند کر سکتے ہو اب تم بت پرستوں کو توحید کا رنگ چڑھا سکتے ہو یہ سن کر علی ہجویری بولے یہ میرے شہنشاہ کی توجہ اور دعاں کا ثمر ہے تو مرشد بولے فرزند اگر حق تعالی نے تمہیں پھل لگا دیا ہے تو اب تمہارا بھی یہ فرض ہے کہ تم بھی اِس پھل سے لوگوں کو فائدہ پہنچا توحضرت سیدعلی ہجویری ادب سے لبریز لہجے میں بولے جو میرے مالک شہنشاہ کا حکم تو مرشد بولے علی اب تم کو مجھے چھوڑ کر لاہور جانا ہو گا وہاں پر مخلوق تمہاری منتظر ہے روحانیت حق کے متلاشی چشمہ فیض کی تلاش میں در بدر بھٹکتے پھر رہے ہیں لیکن ان کی پیاس بجھانے والا کوئی نہیں ہے سید علی ہجویری سر سے پاں تک مرشد کے عشق میں غرق تھے چوبیس گھنٹے مرشد کے ساتھ سائے کی طرح لگے رہتے ٹکٹکی باندھے ہر وقت آنکھوں کی پیاس بجھاتے اِس خیال سے ہی روح تڑپ گئی کہ اب مرشد کے چہرہ انور کا دیدا ر نہیں ہو گا لیکن مرشد کے حکم سے پتہ چل چکا تھا کہ اب جدائی قریب آگئی ہے
مرشد کے قدموں کی عقیدت سے پکڑ کر بو سہ لیا اور رقت انگیز لہجے میں بولے مالک آپ قدموں سے جدا ہو کر زندہ کیسے رہ پاں گا میں آپ کی خدمت کر نا چاہتا ہوں تو مرشد بولے علی اب میری خدمت ہی ہے کہ تم لاہور چلے جا یہی میرا حکم ہے تو حضرت سید علی ہجویری بولے اِس خادم کی یہ مجال کہاں کہ آپ کے حکم سے انکار کی جرات کر سکوں پھر ہندوستان کی تاریخ کا وہ عظیم سورج ایمان کا سورج طلوع ہوا جس کی ایمانی کرنوں سے بت پرستی کے ایوانوں میں توحید کے نغمے کی آواز گونجنے لگی 431ھ میں تاریخ انسانی کے عظیم ترین بزرگ لاہور تشریف لاتے ہیں وہ دن اور آج کا دن صدیوں پر صدیاں چڑھتی چلی گئیں وقت کی آندھیاں زلزلے سیلاب سب کچھ بہا کر لے گئے زمانوں پر زمانے کروٹے لیتے گئے صدیوں کے غبار نے بڑے بڑے حکمرانوں کی شہرت کو دھندلا کر رکھ دیا لیکن سید علی ہجویری کی شہرت کا سورج ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید روشن ہو تا جا رہا دنیا جہاں سے دیوانے پروانے غیر مرئی عشق کی زنجیر میں بندھے مزار اقدس کی طرف چلے آتے ہیں اِیسی ہر دلعزیزی محبوبیت کسی دوسرے کو نصیب نہ ہو ئی رنگ برنگ کے دیوانے پروانے مستانے سید زادے کے عشق میں عقیدت جھومتے دھمال ڈالتے اِس کامل درویش کی بارگاہ میں آتے آج ہم بھی ان غلاموں میں شامل دامن مراد پھیلائے کھڑے تھے جس کے بارے میں شہنشاہ اجمیر خواجہ معین الدین نے کہاتھا
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما
