The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دھڑکنوں کی زبان .”میرا پاکستان ” .محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان .”میرا پاکستان ” .محمد جاوید حیات

وطن سے محبت ایمان کا نصف حصہ ہے اگر کوئی کسی سے یہ شکوہ کرے کہ جس ملک میں وہ رہتا ہے اس ملک سے اس کی یہ یہ شکایتیں ہیں تو شاید اس کی بھول ہے وہ یوں شکایت کرسکتا ہے کہ اس ملک میں پانی نہیں جنگلات نہیں پہاڑ نہیں ۔۔۔معدانیات نہیں، بارشیں نہیں ہوتیں ، موسم کے تغیرات نہیں نہ گرما کا عروج ہوتا ہے نہ سرما ستاتی ہے نہ بہار اپنے جوبن پہ ہوتی ہے نہ خزان در آتی ہے ۔گرم پانی نہیں ۔ٹھنڈے چشموں کی فقدان ہے ۔میدان نہیں ہیں ۔صحرا مفقود ہیں ۔سمندر کی موجیں نظر نہیں آتیں تو بے شک اس کے شکوے بجا ہیں وہ شکایت کرسکتا ہے لیکن اگر کسی ملک کو رب نے یہ ساری دولت عطا کی ہو اور اس کا باشندہ شکوہ کنان ہو کہ اس ملک میں امن و امان کا مسلہ ہے ۔۔بے روزگاری ہے ۔۔انصاف نہیں ملتا ۔۔ظلم ہوتا ہے ۔ایک دوسرے کو گالیاں دی جاتی ہیں ۔۔خوشحالی نہیں ۔۔ترقی نہیں ۔۔سہولیات میسر نہیں تو یہ قصور ملک کا نہیں اس شکوہ کنان فرد کا ہے جس نےاپنے کردار ،اعمال اور سرگرمیوں سے اس خاک کو الودہ کیا ہے ۔۔میرا پاکستان میری وجہ سے کچھ ایسا سماں پیش کر رہا ہے ۔۔

یہ جنت ارضی کسی اور کے پاس ہوتی تو اس پر فخر کیا جاتا۔۔اس کی خاک آنکھوں کا سرما بنایا جاتا۔۔اس کے صحراووں میں دیوانہ وار پھرا جاتا۔اس کے سمندروں کے پانی کو أب حیات تصور کیا جاتا ۔اس کے پہاڑوں پہ طواف کیا جاتا ۔اس کی ہواوں میں جی بھر کے سانس کیا جاتا ۔۔اس کو ہر اختلاف سے پاک رکھا جاتا۔اس کے بچوں کی پشانیاں چومی جاتیں اس کے بزرگوں کے ہاتھوں پر بوسہ دیا جاتا ۔۔اس کے محافظ سے عقیدت رکھی جاتی اس کے أفیسر کو سلوٹ مارا جاتا اس کے کسان کی بلاٸیں لی جاتیں اس کے استاذ کے أگے سر جھکایا جاتا ۔اس کی پولیس پہ اعتبار کیا جاتا ۔اس کے ڈاکٹر کو مسیحا کہا جاتا ۔۔اس کے منصف کو سر پہ بیٹھایا جاتا ۔۔سارے اختلافات ختم کی جاتیں ۔نفرت کو دفن کیا جاتا ۔سیاست کو خدمت کہا جاتا اور اس کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ۔حکمرانوں کو ایک دوسرے کا احترام سیکھایا جاتا ۔اس پیارے ملک میں یہ سب کچھ کیوں نہیں ہوتا ۔یہ مجھ جیسوں سب کا خواب ہے ۔لیکن اس کا عملی مظاہرہ مجھ سے نہیں ہوسکتا ۔۔۔میراسپاہی لڑتا ہے شہید ہوتا ہے مجھے اس سے عقیدت ہونی چاہیے وہ میری جان و مال کا محافظ اور میرا محسن ہے اس کو بھی میری عقیدت کا احترام ہونا چاہیے ۔مجھے یقین ہو کہ میری پولیس میرا پاسبان ہے اس کے ہوتے ہوۓ مجھے کسی خطرے ،اندیشے کا احساس نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔میں اپنے کسی استاذ کو وقت ضائع کرتے نہ دیکھوں میری کلاسوں میں مجھے صداقت پڑھائی جاۓ ۔

میرے انصاف کے کھٹہروں میں عدل کی حکمرانی ہو ۔۔میں قانون سے ڈروں ۔۔۔قانون کےسامنے میرا سر جھک جاۓ ۔مجھےاپنے نوجوانوں سے امیدیں وابستہ ہوں مجھے اپنا مستقبل روشن نظر آۓ ۔میرا پاکستان دنیا میں مقام رکھتا ہے ۔مجھے اپنے بارے میں سوچنا چاہیے میں اس ملک کی خدمت کتنی کر رہا ہوں ۔۔۔یہ ملک میری امانت ہے اس کا مجھ پہ قرض یے ۔اس کا زرہ زرہ میری امانت ہے ۔ یی میرا ملک ہے اس کے باشندے میرے ہیں ۔۔۔بےشک میں شکوہ کروں میں اپنے محافظوں کو سخت سست کہوں میں اپنی پولیس کو اڑے ہاتھوں لے لوں ۔میں اپنے استاذ پہ تنقید کروں لیکن میرے دل میں موجود جذبہ صرف ان سب سے پیار ہے۔۔میں شکوہ کروں تو یہ پیار کا انداز ہے ۔۔شکایت غیروں سے ہوتی ہے ۔۔۔

شکوہ اپنوں سے ہوتا ہے ۔۔ ۔۔میرے سامنے کھڑے جنرل کے سٹارز اس وطن کی پیشانی پہ سجے جھومر ہیں اس جوان کا سینہ اس ملک کی حفاظت کے جذبے سے پر ہے ۔پولیس کی خاکی وردی کالے کپڑے کا ٹکڑا نہیں یہ وہ پاکیزہ چھیتڑا ہے جو میری روح کو ننگی ہونے نہیں دیتا ۔مجھے محبت ہے مجھے سب سے محبت ہے ۔۔۔یہ سب اپنے ہیں مجھے اپنوں سے محبت ہے ۔اگر مجھے پاکستان سے محبت ہے تو اپنے حصے کی محبت کا برملا اظہار کرنا چاہیے ۔۔یہ فرقہ واریت ،یہ علاقایت ،یہ مسلکیت ،قباٸلی عصبیت،یہ سیاسی رقابتیں ، یہ کرسی اور اقتدار کی لالچ ،یہ دھندے بدعنوانیاں،یہ انفرادی مفادات ،یہ اقربا پروری سب کچھ دفن کرنا چاہیے ۔۔آۓ روز بے چینیان ہیں ہمیں احساس نہیں ۔۔ہمارا ایک واضح نریٹیو ہونا چاہیے ۔خوشحال ،مضبوط ،اسلامی جمہوری پاکستان ۔۔۔۔۔میرا پاکستان

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
98738

دھڑکنوں کی زبان ۔ میرا پاکستان ۔ محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان ۔ میرا پاکستان ۔ محمد جاوید حیات

اپنے پاکستان کے ایک کونے سے شہر پشاور کی طرف رخت سفر باندھا کوسٹر کی دوسری سیٹ پہ آرام سے بیٹھا ۔کوسٹر کا ڈرائیور ادھیڑ عمر کا تجربہ کار آدمی تھا ۔کہا سفر کی دعا پڑھو ۔۔ہم نے پڑھ لیا ۔۔رات سات بچے روانہ ہوۓ ۔۔پکڈنڈی جیسی سڑک پہ ڈرائیور استاد بڑے اختیاط سے گاڑی چلارہا تھا دو گھنٹے کا سفر طے ہوا اب سفر میرکھنی سے اوپر کی طرف جاری تھا مشہور لواری درے کی طرف مسلسل چڑھاٸی تھی ۔یہ مشہور درہ پیدل کے زمانے سے چترالیوں کے لیے عذاب سے کم نہ تھا سردیوں میں یہ مکمل بند ہوتا کٸ جانیں یہاں پہ برفانی تودوں کی نذر ہوگٸیں تھی۔ پرانہ قصہ ہے ایک جمہوری لیڈر کو کیا سوجھی کہ یکدم دیر اور چترال کے درمیاں ٹنل بنانے کاعزم کرلیا ایک ایم این اے ہر اسمبلی اجلاس میں ٹنل کی بات کرتا اس کا نام “مسٹر ٹنل” رکھا گیا یہ خواب تھا ۔۔ٹنل دو کلو میٹر بنا تھا کہ جمہوری لیڈر کا اقتدار ختم ہوااس کو راستے سے ہٹایا گیا مطلق العنان آگیا ۔۔ٹنل بند کر دیا گیا ہم مقدس جنگ لڑ رہے تھے

کئی سال گزرے جمہوریت کا سورج پھر طلوع ہوا۔۔ٹنل ایک نعرہ بن گیا ۔۔۔پھر سے ایک فوجی ڈیکٹیٹر نے ٹنل بنانے کا اعلان کیا ۔۔پیسے نکلے ۔۔ٹھیکے لگے ۔۔کام شروع ہوا ۔۔خواب اب تبدیل ہوچکا تھا ۔۔جب ٹنل بنے گا اس کے اندر ریل کی سروس ہوگی ۔۔ریل بجلی سے چلے گی۔۔مسافت ختم ہوجاۓ گی ۔اس سے آگے دورویہ مصفا سڑک ہوگی ۔یہ بے مثال ہوگی عربوں کی لاگت سے بنے گی ۔۔دروش شہر تک کشادہ سڑک ہوگی کام شروع ہوگیا ۔۔زورو شور سے جاری رہا ۔درمیاں میں پھر جمہوری حکومت آئی ۔کام رک گیا ۔۔مختص شدہ فنڈ کسی اور شہر کو خوبصورت بنانے کےلیے شفٹ کیے گئے ۔خواب ادھورا ہی رہا ۔ہھر جموری حکومت پھر تبدیل ہوگئی ۔نٸ جمہوری حکومت کوترس آیا عربوں کا فنڈ ریلیز ہوا ۔۔دو ٹنل بنے ۔۔ریل سسٹم ، دورویا کشادہ سڑک ،خواب ہی رہ گئے ۔ادھیڑ عمرکا ڈرائیور استاد نے یکدم گاڑی کی رفتار سست کردی ۔گاڑی دھڑام سے ایک کھڈ میں گری ۔مسافروں کے سر ایک دوسرے اور سیٹ کے کناروں سے ٹکراۓ ۔پھر گاڑی ہچکولے کھانے لگی ۔یہ سڑک اس خواب کا حصہ تھا۔

یہ کھڈ ،یہ راک یہ سب اس خواب کا حصہ تھے ۔یہ خواب نگر کی طرف جاتی اس سڑک کا حصہ تھا جس کے لیے پیسے نکلے تھے ۔جس کے لیے منصوبہ بنا تھا ۔جس کے لیے ٹھیکے لگے تھے ۔کوٸی “صادق” نام کا انجنیر ہوگا ۔۔کوٸی ” امین”نام کا اکس سی این ہوگا ۔۔دونوں ناموں کو ملا کر ” صادق امین” نام کا ٹھیکہ دار ہوگا ۔۔یہ گروپ اگر شروع میں ہوتا تو شاید یہ ٹنل خواب ہی رہتا لیکن شروع میں چترال کے ایک کوہکن نے یہ کام ممکن بنایا تھا ۔۔پیسے ختم ہو چکے ہوں گے ۔۔اگر یہ منصوبہ کسی اور ملک میں ہوتا تو انجینیراس کو اپنے لیے فخر کہتا ٹھیکہ دار اس کو اپنی منزل قرار دیتا ۔لیکن کہیں سے آواز آئی کہ یہ ٹھیکے دار کے گھر کا راستہ تھوڑی ہے کہ ذوق و شوق سے اس پہ کام ہوتا ۔۔انجینیر کے گاٶ ں کا راستہ تھوڑی ہے کہ اس کو ہموار کیا جاتا ۔۔یہ ملک جاپان تھوڑی ہےکہ وہ ٹھیکہ دار اور انجینیر قابل مواخذہ ہوتے ان کو ناقص کام کی سزا دی جاتی ۔ہچکولے کھانے والے ہچکولے کھاٸیں گے ان کے گھر کے راستے پر کہکشان اسی طرح رہے گا ۔

ادھیڑ عمر استاد سٹیرنگ مسلسل گما رہا تھا پیچھے مسافروں میں سے کسی نے آواز دی استاد کے ساتھ بیٹھے ہوۓ بندے ان کے ساتھ گپ شپ لگاٸیں کہیں ان کو نیند نہ آجاۓ ۔اسی دوران استاد ایک اور کھڈ میں گر گیا ۔۔زیر بھری ہنسی اس کے چہرے پہ پھیلی ۔۔خود کلامی کے انداز میں کہا ۔۔۔شور محشر میں نیند کس طرح ۔۔۔میری اس بیچاری کوسٹر کا ہر پرزہ چیختا ہے ۔جذبہ تعمیر وطن کس طرح جاگ جاۓ ۔۔یا تو قوم کی ایسی تربیت کی جاۓ کہ قوم خدمت اور تعمیر وطن کے شوق میں اپنے آپ کو بھول جاۓ ۔۔یا ڈنڈا ہو ۔۔۔کہ قوم کو نقصان پہنچانے والے کا سر قلم کردیا جاۓ تب کہیں بات بنے ۔۔ورنہ تو ہچکولے ہی کھانا پڑے گا ۔۔۔خیر ڈرائیور استاد کو نیند نہیں آۓ گی.

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
94184