میرا قاتل تیرا مہمان کیسے؟ ۔ تحریر: فیضول عزیز خان
میرا قاتل تیرا مہمان کیسے؟ ۔ تحریر: فیضول عزیز خان
یہ تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اور خوف ناک واقعہ ہے کہ 20 لاکھ سے زیادہ انسانوں کو گھیر کر ایک اندھے قاتل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک بے ضرر عدالت میں مقدمے کی آخری لمحوں میں سماعت کی جا رہی ہے کہ اسرائیل و امریکہ کو یہ حق دیا جا سکتا ہے یا نہیں کہ وہ ان انسانوں کی امداد روک سکتے ہیں یا نہیں؟
اس سے بھی زیادہ الم ناک واقعہ یہ رونما ہو رہا ہے کہ مسلم ممالک بالخصوص آس پاس کے اہم ترین عرب ممالک کی مسلسل خاموشی نے مجرمانہ صورت اختیار کر لی ہے۔
چارہ بنا کر ڈال دیا گیا تھا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا اور ہے کہ وہ مسلم دنیا میں آزادی و حریت کا علَم لے کر نکلے تھے۔ اس علَم کو اٹھانے والوں کو کاٹ دیا گیا۔
اسرائیل نے صرف حماس کے خلاف جنگ نہیں چھیڑ رکھی بلکہ وہ ساری فلسطینی آبادی کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ قابض افواج قبضے میں اس طرح مصروف ہیں کہ مزاحمت کا ہر امکان ختم کرنے کے لیے امریکہ و یورپ کے جملہ وسائل کے ساتھ تباہی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔
مسلم ممالک خاموش ہیں۔ وہ دم بخود نہیں ہیں۔ سب دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ عشروں پر مبنی جنگ کے اس مرحلے پر اسرائیل اس پر تُلا بیٹھا ہے کہ ہر فلسطینی بچے کو بھی ختم کر دے گا۔ ہر فلسطینی سن رہا ہے کہ اسے زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایسا ہوا تو اسے بے دخل اور جلا وطن کر دیا جائے گا۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسرائیلی حکومت بار بار کہہ رہی ہے اور سرِ عام کہہ رہی ہے کہ بھوک اور قحط کو موت بنا دیں گے۔ واقعی مناظر یہی ہیں کہ انسانوں کو ان دو ہتھیاروں سے مارا جا رہا ہے اور جو مر رہے ہیں وہ کہہ رہے کہ بم سے مرنا آسان ہے، بھوک سے مرنا بہت مشکل ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس وقت پانچ لاکھ سے زیادہ فلسطینی موت و حیات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسرائیل ان سب کو بھوک سے مار رہا ہے۔ جگہ جگہ کھانے تقسیم کرنے والے غزہ میں موت تقسیم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ خوراک کے ٹرک رفح پر کھڑے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت کے منتظر ہیں۔ ان پر یہودی آباد کار، قابض فوج اور پولیس حملے کر رہی ہے۔ ان کو تباہ کر رہی ہے۔
ایسے میں غزہ کے اردگرد موجود عرب ممالک میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسقبال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔گویا کہ ٹرمپ کے نہ جانے کون سے احسانات کے بدلے اس حد تک پر تکلف مہمان نوازی کر گئے ۔کہ اپنی جوان عربی بچیوں کو نچوانے تک کا بندو بست کیا گیا۔
انسانی امداد کے بڑے بڑے مراکز سے خوشنما پیکٹوں میں امداد کی ترسیل کی تصویریں ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ جان کی اماں پا کر عرض کرنا چاہوں گا کہ غزہ کی کیفیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب دکھاوا اور ریاکاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔
یہ سارے مناظر ہالی وڈ کی کسی ہارر فلم کے لگ رہے ہیں۔ نہیں! یہ اصلی مناظر ہیں۔ ابھی سے غزہ میں فلسطینی چلتے پھرتے انسانی ڈھانچے نظر آنے لگے ہیں۔ اسرائیل ان سے بری طرح خوفزدہ ہے۔ وہ ان ڈھانچوں کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ لوگوں کو نیند نہیں آ رہی۔ وہ سونا بھول گئے ہیں۔
وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ بم سے بچ گئے تو جلد ہی بھوک انہیں دبوچ کر فنا کے گھاٹ اتار دے گی۔ کون کب تک بھوک سے جنگ کر سکتا ہے؟ فلسطینی کہتے ہیں کہ بھوک سے لڑتے لڑتے سوچتے تھے کہ سو جائیں، لیکن کون کب تک ایسا کر سکتا ہے؟
فلسیطنی بتاتے ہیں کہ ہم میں بہت سے ایسے ہیں، جو یہ سوچتے ہیں کہ ملبے سے باہر نکل آئیں لیکن دھوپ کی تمازت ایسی ہے کہ بدن جھلس جاتے ہیں۔ بچے سب کچھ جانتے ہیں لیکن بھوک تنگ کرتی ہے تو کھانے کو مانگتے ہیں۔ بھوک پہلے ایک ڈراؤنا خواب تھی۔ اب زندگی ڈرا رہی ہے۔ غزہ بھوکا ہے، بھوک سے مر رہا ہے۔