پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا اعلان ، بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہیں ہوگا
پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا اعلان ، بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہیں ہوگا
وزیر اعلیٰ کا عالمی یوم خواتین کے موقع پر بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسیں چلانے کا اعلان
گندم کی کٹائی کے سیزن میں کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج جلد متعارف کرایا جائے گا، وزیر اعلی سہیل آفریدی
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی طرف سے پیٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے صوبے میں رجسٹرڈ موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ موٹرسائیکل سواروں کو یہ سبسڈی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ سے بڑھنے والے مالی بوجھ سے بچانے کے لیے دی جا رہی ہے۔ صوبے میں اس وقت 14 سے 16 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں جو حکومت کے اس ریلیف اقدام سے مستفید ہوں گے۔وزیر اعلیٰ نے اس امر کا اعلان اتوار کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ غریب عوام پر بوجھ بننے والے کسی بھی فیصلے یا پالیسی کی قطعاً حمایت نہیں کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے صوبے کے عوام کو حتی المقدور ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر بی آر ٹی کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا تاکہ عوام کو براہ راست مہنگائی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ بی آر ٹی کے لیے مزید 140 بسیں خریدی جائیں گی، جن میں سے 52 تیار ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ گندم کی کٹائی کے موقع پر کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا جلد اعلان کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ عوام پر ظلم ہے، صوبائی حکومت اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ سہیل آفریدی نے حکمران جماعتوں کی دوغلی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب پیٹرول میں 12 روپے اضافہ ہوتا تھا تو یہی جماعتیں اسے پٹرول بم کہتی تھیں، آج انہی جماعتوں پر مشتمل مسلط حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ کر دیا اور کوئی ندامت تک محسوس نہیں کی۔
سہیل آفریدی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق 5300 ارب روپے کی کرپشن کے انکشافات کے بعد عوام پر بوجھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں، ایسے حالات میں تو وفاقی حکومت کو اخراجات کم کر کے عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا مگر وہ الٹا عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے 12 ارب روپے کا لگژری طیارہ خریدنا غلط ترجیح کی مثال ہے، بحران کے وقت لگژری اخراجات کے بجائے یہی وسائل عوام کو سبسڈی دینے پر خرچ ہونے چاہئیں تھے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اپنی جگہ، تاہم اصل مسئلہ قیمتوں میں اضافے کی مقدار اور حکومتی پالیسی ہے۔ وفاقی حکومت نے عالمی قیمتوں کو جواز بنا کر پیٹرولیم لیوی 85 روپے سے بڑھا کر 105 روپے فی لیٹر کر دی جبکہ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں اسی مد میں 822 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں اور سال کے آخر تک یہ رقم تقریباً 1700 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اگر حکومت لیوی کم کر دیتی تو عوام کو براہ راست ریلیف مل سکتا تھا، اسی لیے خیبرپختونخوا حکومت نے موٹرسائیکل سواروں کے لیے سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے جس سے تقریباً 14 سے 16 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکمرانوں کو اپنی شاہ خرچیاں کم کرنی چاہئیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزراء خزانہ اور پٹرولیم کا صوبوں سے مشاورت کرنا مثبت قدم ہے، عالمی حالات مزید خراب ہوئے تو پٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ موجود ہے اور ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت وفاق کو تحریری تجاویز دے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ‘ہم کسی حکومت کے نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے’۔ خیبرپختونخوا حکومت کے کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے بیشتر اراکین مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود حکومت نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔ اسی طرح صوبائی حکومت نے سرکاری خرچوں میں کمی کے لیے غیر ملکی سرکاری دوروں اور نئی گاڑیاں خریدنے پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے کے باوجود عوامی ریلیف کو ترجیح دیتے ہوئے اب تک نیا ہیلی کاپٹر نہیں خریدا۔ عوام ہماری پہلی ترجیح ہیں، اس لیے عوام کے مفاد کے خلاف کسی بھی حکومتی پالیسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ کورونا کے دوران بھی عمران خان کی حکومت نے ملک کو موثر انداز میں سنبھالا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وڑن کے مطابق عوام کو ریلیف دینے پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پٹرول پمپوں کی نگرانی کے لیے خصوصی ڈیش بورڈ قائم کر دیا ہے جس کے ذریعے پمپوں پر پیٹرول فراہمی اور ذخیرہ اندوزی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ پٹرول مانیٹرنگ ڈیش بورڈ بنانے میں خیبرپختونخوا حکومت ملک میں سب سے آگے ہے۔
