The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

موجودہ وفاقی حکومت صوبے میں ترقی کے سفر کو متاثر کرنے اور صوبائی حکومت کے لیے مالی مشکلات پیدا کرنے کے لیے طرح طرح کے ناکام حربے استعمال کر رہی ہے۔ وزیراعلیِ

Posted on

موجودہ وفاقی حکومت صوبے میں ترقی کے سفر کو متاثر کرنے اور صوبائی حکومت کے لیے مالی مشکلات پیدا کرنے کے لیے طرح طرح کے ناکام حربے استعمال کر رہی ہے۔ وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے، موجودہ وفاقی حکومت صوبے میں ترقی کے سفر کو متاثر کرنے اور صوبائی حکومت کے لیے مالی مشکلات پیدا کرنے کے لیے طرح طرح کے ناکام حربے استعمال کر رہی ہے۔ پہلے ترقیاتی پروگرام میں سے صوبے کے ترقیاتی منصوبے نکالے گئے اور اب بجٹ میں طے شدہ فنڈز روکے جارہے ہیں تاکہ خیبر پختونخوا میں معاشی عدم استحکام پیدا ہو۔انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت ضم اضلاع کے عوام سے کیے ہوئے وعدوں سے بھی رو گردانی کر رہی ہے، ضم اضلاع کی ترقی کے لیے جن فنڈز کا وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی جاری نہیں کیے جا رہے جو ضم اضلاع کے عوام کے ساتھ ایک اور بڑی نا انصافی ہے۔

وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں محمود خان نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے صوبے کو پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں ایک پیسہ تک ادا نہیں کیا جو صوبے کا آئینی حق ہے۔ بجلی کے خالص منافع کی مد میں رقم کی عدم ادائیگی سے خیبرپختونخوا میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے لیکن میں واضح کر دوں کہ صوبائی حکومت صوبے کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی، آئینی و قانونی فورم استعمال کرے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کی عدم ادائیگی وفاقی کابینہ کے مذموم عزائم کی عکاس ہے۔تعصب سے بھری وفاقی کابینہ غیر اخلاقی سیاست کے ذریعے اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف ہے اور اس مقصد کیلئے صوبے کے حقوق پر بھی قابض ہو چکی ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ امپورٹڈ حکمرانوں میں وفاق کو چلانے کی استطاعت نہیں ، حالیہ سیلاب ایک قدرتی آفت اور قومی مسئلہ ہے لیکن وفاقی حکومت اس مسئلے پر بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آرہی۔وفاق کی جانب سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اعلان شدہ 10 ارب روپے تاحال صوبے کو موصول نہیں ہوئے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امپورٹڈ حکمرانوں کو عوامی خدمت کی کوئی فکر نہیں اور نہ ہی ان کی بحالی میں کوئی دلچسپی رکھتی۔محمود خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ سے پاکستانی قوم کو امپورٹڈ اور کرپٹ حکمرانوں سے بہت جلد چھٹکارا مل جائے گاکیونکہ پاکستانی عوام ان کرپٹ سیاسی حکمرانوں کے مذموم عزائم سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں۔ ا ±نہوںنے کہاہے کہ رجیم چینج سازش کے تحت وجود میں آنے والی امپورٹڈ حکومت کی تمام تر توجہ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ عام آدمی کن مسائل سے گز ر رہا ہے ، امپورٹڈ حکمرانوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔خیبرپختونخوا کے عوام حقیقی آزادی مارچ کو کامیاب بنانے کیلئے پرعزم ہیں اور چیئرمین عمران خان کے ساتھ مل کرملک کو غیر نمائندہ سیاسی آمروں کے تسلط سے چھٹکارا دلانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
67931

موجودہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی عوام کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔وزیراعلیِ 

Posted on

موجودہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی عوام کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کے حقوق کے حصول کےلئے تمام تر آئینی و قانونی ذرائع استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی عوام کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا باالخصوص نئے ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم نہ کرنا ضم اضلاع کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ضم اضلاع کو ترقیافتہ اضلاع کے برابر لانے اور قبائلی عوام کی دہائیوں پر محیط محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے پر عزم ہے لیکن امپورٹڈ حکومت ضم اضلاع کی ترقی میں روڑے اٹکا رہی ہے جو قبائلی عوام کے ساتھ صریحاً زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کی کوشش ہے کہ خیبر پختونخوا میں ترقی کا سفر متاثر ہو لیکن ہم یہ کسی صورت نہیں ہونے دیں گے اور وفاق سے اپنا حق ہر صورت لے کر رہیں گے۔

وفاقی کابینہ کی جانب سے سیاست کےلئے خیبرپختونخوا کے ساتھ غیر سنجیدہ اور سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنا غیر منصفانہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس میں منعقدہ شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں شمالی وزیرستان سے آزاد حیثیت میں منتخب ویلج کونسل چیئرمین نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کی مد میں مالی سال 2021-22 کے 20 ارب روپے سے زائد کے فنڈز وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادا ہےں جبکہ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے صحت کارڈ کے پانچ ارب روپے بھی روک دئیے ہیں جو وفاقی حکومت کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے ۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اپریل 2022 سے اب تک پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا گیا جبکہ عمران خان کے دور حکومت میں گزشتہ دو سالوں کے دوران 68 ارب روپے پن بجلی کے مد میں صوبے کو موصول ہوئے ہیں ۔

انہوں نے واضح کیا کہ امپورٹڈ حکمرانوں کو خیبرپختونخوا کے حصے سے اپنی جیبےں بھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خیبرپختونخوا کا پیسہ صوبے کے عوام پر ہی خرچ ہوگا۔ امپوٹڈ حکومت سیلاب سمیت تمام عوامی مسائل پر سیاست کر رہی ہے، اس حکومت کو عوامی مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے یہ صرف اپنے اوپر کرپشن کی کیسز ختم کرانے میں مصروف ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود صوبے کے سیلاب متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی شروع کر دی ہے جو اب تک کسی اور صوبے نے نہیں شروع کی، اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات اپنے عوام کی فلاح و بہبود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام دوست پالیسیوں کی بدولت ہی پاکستان تحریک انصاف ملک کی ایک مقبول ترین سیاسی جماعت بن چکی ہے اور اب اس کو  شکست دینا دیوانے کا خواب بن چکا ہے۔ انشاءاللہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں بھاری اکثریت سے حکومت بنائے گی اور اپنے فلاحی ریاست کے قیام کے  ایجنڈے کو پورا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں کا محور عام آدمی کی ترقی و خوشحالی ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ نااہل حکمرانوں نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرکے ملک کو بیرونی قرضوں کے دلدل میں پھنسا دیا ہے جس سے ملک کونکالنے کیلئے ہمیں عمران خان کا ساتھ دینا ہوگا۔

chitraltimes cm welcome nazimin south wazirstan addressing

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
66874