موجودہ انتخابی نظام کی ناکامیاں ۔ عبدالباقی چترالی
ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا
موجودہ انتخابی نظام کی ناکامیاں ۔ عبدالباقی چترالی
گزشتہ 75سالوں سے ملک میں جاری فرسودہ انتخابی نظام کی وجہ سے بددیانت، مفاد پرست اور بدکردار افراد منتخب ہوکر اسمبلیوں میں آتے ہیں۔ انتخابی نظام کو جان بوجھ کر مشکل اور مہنگا بنا دیا گیا ہے۔ اس مہنگے نظامِ انتخاب کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد چاہے کتنے ہی باصلاحیت، اہل، محب وطن اور قومی خدمت کا جذبہ رکھنے والا کیوں نہ ہو وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا ہے کیونکہ انتخابی مہم چلانے کے لیے کروڑوں رووپے درکار ہوتے ہیں جو کہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ موجودہ انتخابی نظام کے تحت سرمایہ دار، صنعت کار، بڑے جاگیردار اور دولت مند افراد اقتدار میں آتے ہیں۔ جب اقتدار ان کے ہاتھوں میں آتا ہے تو وہ ایسے قوانین بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقات بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم ہوجاتے ہیں اور بالادست طبقوں کے مفادات کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اس نظام کے تحت ماضی میں جتنی بھی حکومتیں بنی ہیں ان کی اولین ترجیح اپنے اقتدار کو دوام دینا، اپنے مفادات کا تحفظ کرنا اور حزبِ مخالف کے رہنماؤں کو ملک دشمن قرار دے کر ان کے خلاف انتقامی کاروائی اور اگلے انتخابات کے لیے ملکی حالات کو اپنے لیے سازگار بنانا ہوتا ہے۔ دیگر جمہوری ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی ہر پانچ سال بعد انتخابات کرائے جاتے ہیں۔ دوسرے جمہوری ملکوں میں انتخابات کے نتیجے میں امن، ترقی، خوشحالی اور مثبت تبدیلی آتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں انتخابات کے بعد غربت، بے روزگاری، بدامنی اور مہنگائی کا طوفان آتا ہے۔ اس ملک میں ایک چپڑاسی کی تقرری کے لیے میرٹ شرط ہے اور ایک کلرک کی تقرری کے لیے تعلیمی قابلیت مقرر ہے۔ اس کا تحریری امتحان اور انٹرویو لیا جاتا ہے۔ ایک ڈرائیور کی تقرری کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو لازمی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے موجودہ نظامِ انتخاب کے تحت صرف پاکستان کے قومی اور صوبائی اسمبلیاں ایسے ادارے ہیں جہاں ایم این ایز اور ایم پی ایز کے لیے کسی قسم کے ٹسٹ اور انٹرویو کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔ امیدوار کی قابلیت، اہلیت، دیانتداری اور کردار کی بجائے دولت مند ہونا ضروری خیال کیا جاتا ہے چاہے وہ دولت ناجائز ذرائع سے کمائی گئی کیوں نہ ہو۔ باشعور معاشروں میں عوام اپنے حق رائے دہی کے ذریعے اہل، قابل، دیانت دار اور باصلاحیت افراد کو نمائندہ منتخب کرکے پانچ سالوں تک بے فکر ہوجاتے ہیں جبکہ ہم پاکستانی قوم انتخابات کے موقع پر امیدوار کی قابلیت اور اہلیت کو مدنظر رکھنے کی بجائے امیدواروں کی جذباتی تقریروں اور دل خوش کن دعوں سے متاثر ہوکر نااہل افراد کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں پھر پانچ سالوں تک ان کے خلاف جلسہ جلوسوں میں اپنا قیمتی وقت برباد کرتے رہتے ہیں۔
موجودہ جمہوری نظام کے تحت گزشتہ 75سالوں سے ملک کے تمام وسائل پر ملک کے تما م بالادست طبقے قابض ہوئے ہیں۔ غریب عوام کے لیے نہ روزگار ، نہ ذریعہ معاش ہ، نہ وسائل ہیں۔ نہ عدل و انصاف ہے اور نہ ان کی جان و مال، عزت و آبرو محفوظ ہے۔ عوام ایسے جمہوری نظام کا کیا کریں جس میں عوام اپنے بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم ہو اور انصاف کا حصول ناممکن ہو۔ کیا ملک عام عوام کی بجائے صرف بالادست طبقوں کے لیے بنایا گیا ہے؟ کیا مزدوروں، کسانوں، چھوٹے ملازمت پیشہ افراد اور بے سہارا لوگوں کی اولاد کو اس ملک میں باعزت طریقے سے جینے کا حق نہیں ہے؟ انتخابات کے موقع پر امیدوار عوام کو غیرت مند، باشعور، محب وطن جیسے القابات سے نوازتے رہتے ہیں اور سادہ لوح عوام اپنے متعلق یہ دل خوش کن الفاظ سن کر محفوظ ہوجاتے ہیں۔ جب یہ امیدوار انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اسمبلیوں میں جاتے ہیں تو یہ باشعور اور سمجھ دار عوام ان کو کیڑے مکوڑوں جیسے نظر آنے لگتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری ملک میں حکومت کی تبدیلی عوام کے ووٹوں سے آتی ہے جبکہ اس ملک میں حکومتیں بعض قوتوں کی مرضی اور خواہشات سے تبدیل کی جاتی ہیں۔ یہاں عوام کی حق رائے دہی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ موجودہ نظام انتخاب کے ذریعے ملک میں کوئی مثبت تبدیلی آنے کا امکان دیکھائی نہیں دے رہا ہے اس لیے عوام موجودہ مہنگے اور بدعنوان نظام انتخاب سے مایوس ہو گئے ہیں۔