منتشر اکثریت سے متحد اقلیت بہتر ہوتی ہے۔عبدالباقی چترالی
ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا۔ منتشر اکثریت سے متحد اقلیت بہتر ہوتی ہے۔عبدالباقی چترالی
ایک مشہور کہاوت ہے کہ مرغوں کی لڑائی میں جب چوہدری کا مرغا ہارنے لگتا ہے تو چوہدری لڑائی بند کرادیتا ہے۔ اسرائیل اور ایران جنگ کے موقعے پر عالمی چوہدری امریکہ نے بھی یہی کردار ادا کیا۔ جب عالمی چوہدری کو اپنے مرغے کی شکست نظر آنے لگی تو اُس نے فوری جنگ بندی کراکے اپنی شکست خوردہ مرغے کو بچالیا۔ ماضی میں عالمی چوہدری کے مرغے کا مقابلہ دیسی نسل کے کمزور مرغوں کے ساتھ ہوتا تھاتو عالمی چوہدری کے مرغے باآسانی یہ مقابلہ جیت جاتے تھے۔ اس بار چوہدری کے مرغے کا مقابلہ سخت جان اسیل نسل کے مرغے کے ساتھ تھا۔ اسیل نسل کے سخت جان مرغا مقابلے میں جان تو دے دیتا ہے مگر میدان سے بھاگتا نہیں۔ حالیہ اسرائیل اور ایران جنگ میں ایران اپنی محدود دفاعی قوت کے باوجود تن تنہا اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائل برسا کر ان کو کھنڈرات میں تبدیل کرکے اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکہ کو یہ پیغام دیا کہ اسرائیل کا دفاعی نظام نا قابلِ تسخیر نہیں ہے۔
اس وقت غیر مسلم ترقی یافتہ اقوم دفاعی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرکے دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں، ان کے پاس جدید ترین جنگی طیارے اور بین البرآعظمی مہلک ترین میزئیلی نظام ہے۔ وہ اپنی جدید ٹیکنالوجی سے جب اور جہاں چاہے اسلامی ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں جبکہ تیل کی دولت سے مالامال مشرقِ وسطیٰ کے مسلم حکمران عالیشان محل اور بلندو بالا مینار تعمیر کررہے ہیں۔ ایک میڈیائی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے برجِ خلیفہ نامی مینار تعمیر کیا ہے۔ کیا آسمان کو چھوتا ہوا یہ مینار سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کی دفاعی خودمختاری اور عزت و وقار کی ضمانت دے سکتا ہے؟ امریکہ کا ایک جنگی طیارہ کسی بھی اسلامی ملک کو چند منٹوں کے اندر نیست و نابود کرسکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے حکمران بلندو بالا عمارتیں، کشادہ سڑکیں اور شاندار مسجدیں تعمیر کرکے خود کو ترقی یافتہ قرار دے رہے ہیں، لیکن ان کی حفاظت کے لیے کوئی مؤثر انتظام دیکھائی نہیں دے رہا ہے۔
اس لیے سیانے لوگ کہتے ہیں کہ دولت سے بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں لیکن عقل نہیں خریدا جاسکتا۔افسوس کا مقام ہے کہ اس جدید دور میں ستاون اسلامی ممالک میں سے کوئی بھی ایک مسلم ملک ایسا ادارہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوا جو سائنس، جدید تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں امتِ مسلمہ کو خود کفیل بنا کر غیر مسلم اقوام کی محتاجی سے نجات دلا سکے۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ آج ہم اپنے بچوں کو ماضی کے معرکوں کے قصے اور کہانیاں سنارہے ہیں جبکہ ہمارے دشمن اپنے بچوں کو جدید تعلیم، سائنس اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم دے رہے ہیں۔ آج امتِ مسلمہ بغیر جنگی سازوسامان کے ایمان، اتحاد، قربانی اور جہاد کے پُر زور نعرے لگا رہے ہیں۔ سوائے پاکستان کے کسی بھی اسلامی ملک کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی نہیں ہے جو اپنے ملک اور قوم کی حفاظت کرسکے۔ آج مسلم دنیا میں بڑے بڑے محلوں، فائیو سٹار ہوٹلوں، شاندار پلازوں او ر عالیشان مسجدوں کی کمی نہیں ہے لیکن علم، سائنس اور دفاع میں یہ ممالک امریکہ اور یورپ کے محتاج ہیں۔ جب امریکی صدر ٹرمپ سعودی عرب کے دورے پر آئے تو سعودی حکمرانوں نے ان کے لیے سرخ قالین بچھا دیئے اور خواتین کے رقص سے ان کا استقبال کیا۔
یہ وہ سرزمین ہے جہاں عربوں کے آباء و اجداد نے دنیا کو توحید، شجاعت، خودداری اور بہادری کے سبق سیکھائے تھے لیکن بدقسمتی سے آج ان ممالک میں امریکی بحری اور فضائی اڈے قائم ہیں۔انہی اڈوں سے عراق، شام، افغانستان اور حال ہی میں ایران پر بارود برسا کر ان کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا۔ حالیہ اسرائیل اور ایران جنگ میں امریکہ کی ناراضگی کے خوف سے کسی بھی اسلامی ملک کو ایران کی عملی طور پر مدد کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ تمام اسلامی ممالک کے حکمران خاموش تماشائی بنے رہے۔ آج ایران برباد ہوا تو کل کسی دوسرے اسلامی ملک کی باری آئے گی۔ کیونکہ اسلام دشمن قوتوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت کوئی بھی اسلامی ملک جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے محروم ہے۔کوئی بھی اسلامی ملک تن تنہا اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ مسلم ممالک اس وقت مختلف فرقوں اور ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
آج دنیا میں منتشر مسلمانوں کی تعداد ایک ارب اَسی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ بعض اسلامی ممالک قدرتی وسائل سے بھی مالامال ہیں لیکن اس سب کے باوجود آپس میں نااتفاقی اور متحد نہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلم قوتوں کے سامنے ان کی حیثیت کیڑے مکوڑوں جیسی ہے۔ جن قوموں میں اتفاق اور اتحاد ہوتا ہے ان کو دنیا میں ترقی اور عزت کی زندگی نصیب ہوتی ہے۔ وہ اتحاد اور اتفاق کی برکت سے مادی وسائل کی کمی کے باوجود دشمن قوتوں پر غلبہ حاصل کرتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کو بھی ایسے متحد اور متفق قوم کی طرف بری نظر ڈالنے کی جرات نہیں ہوتی ہے۔ جو قومیں مادی اسباب سے مالامال ہوں لیکن اندرونِ خانہ اختلافات کا شکار ہوں وہ تمام تر مادی اسباب کے باوجود کمزور تصور کیے جاتے ہیں۔ دشمن قوتوں کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ منتشر اکثریت سے متحد اقلیت ہزار گنا بہتر ہوتی ہے۔
