The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار وہ نہیں جو ہونی چاہیے، وزیر آئی ٹی

Posted on

ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار وہ نہیں جو ہونی چاہیے، وزیر آئی ٹی

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار ملک میں جو آرہی ہے، اس طرح سے نہیں ہے جیسے ہونی چاہیے، انٹرنیٹ کی سست روی کے حوالے سے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات میں اظہارخیال کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ نے کہا کہ کچھ اسپیکٹرم کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ میں مسئلہ رہتا ہے، انٹرنیٹ کی رفتار ملک میں جو آرہی ہے، اس طرح سے نہیں ہے جیسے ہونی چاہیے، انٹرنیٹ کی سست روی کے حوالے سے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔وزیرمملکت نے کہا کہ مسلسل آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سیکٹر سے رابطے میں ہیں تاکہ مسائل حل ہوسکیں، انہوں نے کہا کہ اب بھی ایک سب میرین کیبل میں مسئلہ ہے جو اکتوبر کے آخر تک ٹھیک ہو جائے گی۔وزیر آئی ٹی نے کہا کہ ہماری یوتھ کی بنیاد انٹرنیٹ ہے، کوشش ہے کہ ہر گھر تک انٹرنیٹ کو فراہم کریں۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے ایک ویب مینجمنٹ سسٹم آپریٹ کرتا ہے، وزارت داخلہ کی ہدایت پر ایکس (ٹوئٹر) بلاک ہوا ہے۔شزا فاطمہ نے کہا کہ پی ٹی اے وی پی این کو رجسٹرڈ کررہا ہے، انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل جلد ایوان میں پیش کریں گے کیونکہ پاکستان میں سائبر سیکورٹی کے مسائل ہیں۔وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ فنانشل فراڈ سے متعلق بھی مسائل کا سامنا ہے مگر کسی بھی صورت بزنس کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

پی ٹی اے نے ایکس کی بندش سے متعلق نوٹیفیکیشن واپس لے لیا

کراچی(سی ایم لنکس) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایکس (ٹوئٹر) کی بندش سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔سندھ ہائی کورٹ میں ایکس (ٹوئٹر) کی بندش کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ پی ٹی اے کے وکیل نے ایکس کی بندش سے متعلق نوٹیفیکیشن واپس لینے کی تصدیق کردی۔ وکیل پی ٹی اے احسن امام نے موقف دیا کہ جس درخواست میں، میں وکیل ہوں اس میں ایکس کی بندش سے متعلق نوٹیفیکیشن واپس لیا جا چکا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ اگر لیٹر واپس لے لیا گیا تو ایکس بحال ہوگیا۔ وکیل درخواست معیز جعفری ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ ایکس تک رسائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایکس کی بندش کا اب کوئی نوٹیفیکیشن نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ایکس بحال ہوگیا ہے۔پی ٹی اے کے وکیل نے موقف دیا کہ مجھے نوٹیفکیشن واپس لئے جانے سے متعلق کوئی معلومات نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی اے نے ہر درخواست کے لئے الگ وکیل رکھا ہے؟ یہ تو غلط ہے ایک وکیل کو آگاہی دی گئی دوسرے کو نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ 28 مارچ کو وفاقی حکومت نے جواب جمع کروایا کہ ایکس کام کر رہا ہے لیکن تاحال ایکس پر پابندی ہٹائی نہیں گئی۔ بغیر کسی وجہ سے کسی بھی سوشل میڈیا سائیٹ کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف دیا کہ انٹلیجنس معلومات پر ایکس کو بند کیا گیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو ایکس کی بندش پر وجوہات دینی چاہئیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ لیکن عدالتی احکامات کے باوجود ایکس بند ہے۔ عدالت نے اس درخواست میں ایکس کی بندش سے متعلق سرکاری موقف کیلیے سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
93120