The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ملکی سلامتی پل صراط پر اور نورا کشتی ! -قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

انتخابی اصلاحات میں الیکڑونک ووٹنگ مشین اور آئی ووٹنگ کو شامل کرنے کے معاملہ زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیاگیاہے، حکمران جماعت جیسے طے کرچکی کہ کچھ بھی ہوجائے، 2023 کے الیکشن ای وی ایم کے ذریعے ہی ہوں گے۔ وفاقی وزیرریلوے کا جذباتی بیان ہو یا شعلہ بیان ترجمانوں کے، اس باعث ملک کی خاموش اکثریت تشویش میں مبتلاہوگئیہے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ قابل غور پہلو یہ بھی  کہ پارلیمان میں موجود حزب اختلاف اور پارلیمان سے باہر سیاسی  و مذہبی جماعتیں ای وی ایم  پر صرف لفاظی کررہی ہیں اور عملاََکچھ نہیں کیا جارہا جس سے  اپنے تحفظات دور  کراسکیں، گو کہ پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں نے موقف بدلا کہ وہ مشترکہ اجلاس میں قانون سازی ہونے کی صورت میں پہلے اپنے رہنماؤں سے مشاورت کرے گی، حالاں کہ یہ وہی قانون ہے جسے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود حکومت اور اتحادی جماعتوں نے منظور کیا تھا لیکن اب الیکشن کمیشن کے جانب سے غیر متوقع سٹینڈ لینے پر حزب اختلاف کو آکسیجن ملی اور حکومت شدید تنقید کی زد میں آگئی، حالاں کہ ایم کیو ایم پاکستا ن، مسلم لیگ ق اور گرینڈ ڈیمو کرٹیک الائنس نے واضح کردیا تھا کہ 13ستمبر کا مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں،صدر کی حکومت کے تین برس کی مدت مکمل ہونے کے بعد  رسمی تقریر کے علاوہ کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں، اگر آیا تو مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔


حزب اختلاف ای وی ایم اور آئی ووٹنگ پر اپنا جمہوری کردار ادا کررہی ہے یا نہیں، اس پر راقم نے تینوں بڑی جماعتوں سے واقف کار سنجیدہ سینئر رہنماؤں سے غیر رسمی گفتگو کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اپوزیشن جماعتیں نورا کشتی کررہی ہیں اور درپردہ  وہ بھی ای وی ایم کے ذریعے الیکشن کی حامی ہیں لیکن اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے میں انہیں تحفظات ہیں کہ انہیں شاید کم ووٹ پڑیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بخوبی آگاہ ہیں کہ ای وی ایم کو چلانے والے کوئی اور نہیں بلکہ وہی لوگ ہوں گے جو ہمیشہ انہیں کسی نہ کسی طرح کامیاب یا ناکام کراتے رہے ہیں، لیکن یہاں اصل جنگ اقتدار کی ہے کہ اگلے پانچ برس تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت کی صورت میں مزید ملنے سے ان کا سیاسی بیانیہ خطرے میں پڑ سکتا ہے، موجودہ حالات میں اب حزب اختلاف کو عمران خان کی جیسی تیسی حکومت سے کوئی مسئلہ نہیں  بلکہ بیشتر اراکین چاہتے ہیں کہ وہ اپنی آئینی مدت بھی پوری کرلیں، لیکن اصل تحفظات یہ ہیں کہ اگر پی ٹی آئی بیساکھیوں کے بغیر دوبارہ آئی تو مخالف سیاسی جماعتوں کا بیانیہ سبوتاژ ہوسکتا ہے،  ذرائع کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ 2023 کے الیکشن بر وقت ہونے چاہیں، انتخابات میں تاخیر یا نظام کی تبدیلی کی افواہوں کی بازگشتپریشان کن ہے۔


 آئی ووٹنگ اور ای وی ایم اتنا بڑا ایشو نہیں، اس پر جو تحفظات اور اعتراضات ہیں، وہ سب ایک اِن کیمرہ میٹنگ کی مار ہیں، اس کے بعد ملکی مفاد میں محمود و ایاز سب ایک صف میں کھڑے ہوجائیں گے، تشویش ناک صور تحال یہ ہے کہ عوام کو معاشی مرگ انبوہ کا سامنا ہے، اس کا مداوا کسی بھی جماعت اور ادارے کے پاس نہیں کہ اس سے کس طرح نمٹا جائے۔افغانستان میں تبدیلی ہوئی صورت حال کے بعد ریاستی اداروں کی مکمل توجہ ملکی سلامتی اور سازشی عناصر پر ہے، بالخصوص بھارتی وزیراعظم کے22 تا 27 ستمبر دورہ ئامریکہ میں صدر جوبائیڈن اور نریندرمودی کے درمیان ملاقات کے بعد،پاکستان بابت کئے جانے والے فیصلے اہمیت کے حامل ہوں گے  حالاں کہ امریکی اعلیٰ سطح کے حکام وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقاتیں کررہے ہیں، اہم ممالک کے سفارتی وفود بھی پاکستان کے دورے پر ہیں،  اہم ممالک کے قیادت سے ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئیلیکن امریکی صدر کی مکمل خاموشی کو بھارتی میڈیا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت کرانے پر تلا ہواہے ان حالات کا ادارک تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی ہے کہ امریکہ اس وقت تو خاموش ہے لیکن اپنی ہزہمیت کا بدلہ پاکستان سے لینے کی ضرور کوشش کرے گا اور بھارت کو استعمال کرسکتا ہے۔


 متعصب بھارتی میڈیا جس طرح پاکستانی ریاستی اداروں اور افغان عبوری حکومت کے خلاف یک آواز ہوکر منفی اور جھوٹا پراپیگنڈا کرکے عالمی برداری کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے، اس کے نتائج سے پاکستان اتنا ضرور متاثر ہوا ہے کہ ایک نئے بلاک کا حصہ بن گیا جو امریکہ کی منشا کے مطابق نہیں، ان حالات کا فائدہ اٹھا کر بعض سیاسی جماعتیں اپنے لئے ریلیف حاصل کرنا چاہتی ہیں تاکہ 2023 میں ہی سہی، لیکن انہیں اقتدار میں حصہ ملے۔چین، ایران، روس، قازقستان، تاجکستان، ترکمستان  اور ازبکستان  کے انٹیلی جنس چیف کی پاکستانی حساس ادارے آئی ایس آئی کے چیف کی میزبانی میں اجلاس پر عالمی برداری نے گہری دلچسپی سے مشاہدہ کیا۔ اس کے آفٹر شاک جھٹکے بھارت میں بری طرح محسوس کئے گئے، نائن الیون کے موقع پر جس طرح بھارتی میڈیا نے دشنام طرازی اور الزام تراشیوں کے ساتھ بدکلامی کے ریکارڈ توڑے، اس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی، صحافتی اقدار کو جس طرح پامال کیا گیا اور بھارتی میڈیا نے پنج شیر کی جھڑپ میں پاکستانی فوج کے خلاف  جس قسم کابے بنیاد رپورٹنگ کی اس پر حیرت ہے کہ جھوٹ کا پردہ فاش ہونے کے باوجود میں نہ مانوں کی ضد لئے، کس طرح اخلاقیات کو پامال کرکے چانکیہ سیاست اور آر ایس ایس کے نازی نظریئے کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔


ای وی ایم اور آئی ووٹنگ اتنا بڑا مسئلہ نہیں، جتنا رائی کا پہاڑ بنا یا جا رہا ہے، الیکشن کمیشن کا اس وقت جو کردار ہے، اس پر حکمران جماعت نے حسب روایت عدم برداشت کی پالیسی کو اپنا کرانتخابات کو پہلے ہی سے متنازع بنا دیا، مملکت کو درپیش چینلجز کا مقابلہ حزب اقتدار، اختلاف اور عوام کو ایک صفحے پر کرنے کی ضرورت زیادہ ہے، در حقیقت یہ پاکستا ن کی تاریخ کا سب سے نازک موڑ ہے، ملکی سلامتی پل صراط پر ہے اور بعض سیاسی جماعتیں فروعی مفادات کے لئے اُس کھیل کا حصہ بنتی جا رہی ہیں جس کے خطرناک نتائج یکساں سب کو بھگتنا ہوں گے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ملک میں ہر الیکشن میں جس قسم کی دھاندلی ہوتی رہی ہے،اس کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ چاہے ای وی ایم ہو یا نہ ہو۔ 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52416

ملکی ترقی میں زرعی معیشت کا کردار – پروفیسرعبدالشکورشاہ

ملکی ترقی میں زرعی معیشت کا کردار – پروفیسرعبدالشکورشاہ

زراعت فصلیں اگانے اور غلہ بانی کو ترقی دینے کا فن ہے۔ ترقی یافتہ اور رترقی پذیر دونوں ممالک کے لیے زراعت کی اہمیت بہت اہم ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ترقی کے لیے زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ 40کی دہائی میں زراعت ملک کی جی ڈی پی کا 53% تھی جبکہ 65%سے زیادہ مزدور زراعت کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ گزشتہ 7عشروں کی سیاسی، سماجی، موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے ان اعداد و شمار کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ زراعت ترقی کے بجائے تنزلی کی راہ پر گامزن ہے۔ موجودہ دور میں ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ محض22.4%ہے جبکہ زراعت سے وابستہ بر سر روزگار افراد کی تعداد 65%سے کم ہو کر صرف 35.9%رہ گئی ہے۔

ملک کی تقریبا63.09%آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے۔ 60%سے زیادہ آبادی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر زراعت کے شعبے سے منسلک ہے۔ زراعت متعلقہ شعبہ کی صنعتوں کے لیے مختلف اشیاء کی ترسیل اور خرید و فروخت کو کا زریعہ بھی ہے۔ یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے کہ ہم 796,09کلومیٹر رقبے میں سے زراعت کے لیے محض21.1ملین علاقہ ہی زیر استعمال لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے تقریبا ملک کی ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہماری 49%آبادی کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے یا وہ غیر معیاری خوراک استعمال کر تے ہیں۔

ایک تخمینے کے مطابق 2050تک پاکستان میں گندم کی پیداوار میں 50%کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہماری آم کی پیداوار پہلے ہی سے شدید متاثر ہو چکی ہے۔ ان تمام پریشانیوں اور خطرات کے باوجود، ہم دنیا میں سب سے زیادہ بڑی فصلیں کاشت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ملکی زراعت میں 35%، لائیو سٹاک، 61%،ماہی گیری،2.06%اور جنگلات کا2.13% حصہ زراعت میں شامل ہے۔سال 2015-16-19کے دوران زراعت کا شعبہ پیداواری لحاظ سے زوال کا شکار رہا۔ جنگلات سے آمدن میں سال 2015کے دوران بہت کمی ہوئی 2017میں یہ کمی2.33%تک پہنچ گئی۔ گندم دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی فصل ہے۔ سال 2020 میں گندم کے زریعے زراعت میں 8.7%جبکہ قومی جی ڈی پی میں اس کا تناسب1.7%رہا۔

سال 2019-20میں کرونا کے باوجود پاکستان نے24.9ملین ٹن گندم پیدا کی اور گندم کے پیداواری علاقے میں 1.7%اضافہ ہوا۔ گندم کے بعد چاول کھانے، بیرون ممالک بھیجنے اور نقد فروخت کے لحاظ سے دوسری اہم فصل ہے۔ چاول کے زریعے زراعت میں 3.1%جبکہ قومی جی ڈی پی میں اس کے حصے کا تناسب0.6%رہا۔ سال 2020میں پاکستان نے 7.4ملین ٹن چاول کاشت کیے اور اس کے پیداواری کاشت کے علاقے میں 8%کا اضافہ ہوا۔ کپاس کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔زراعت میں اس کا حصہ4.1% جبکہ قومی جی ڈی پی میں اس کا تناسب0.8%رہا۔ سال 2019-20میں پاکستا ن نے 2018-19کے مقابلے میں 9.1ملین کاٹن کی گانٹھیں فروخت کی جبکہ کپاس کی 7پیداوار میں تقریبا7%کی کمی واقع ہوئی۔

کپاس کے پیداواری علاقے میں 6.5%اضافہ ہوا جبکہ 2019-20میں مجموعی طور پر کپاس کی فصل زوال کا شکار رہی۔گنا بھی گنے سے متعلقہ صنعتوں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چند ماہ قبل شوگر مافیاکا پورے ملک میں راج تھا اور گنے کی پیداوار اور دیگر لاز می عوامل پر عدم توجہ کی وجہ سے اس بحرانی اور ہیجانی کیفیت نے جنم لیا۔زراعت میں گنے کی پیداوار کا حصہ2.9%ہے جبکہ ملکی جی ڈی پی میں اس کے حصے کا تناسب0.06%ہے۔سال 2019-20کے دوران گنے کی کاشت اور پیداوار زوال کا شکار رہی اور اور اس کے پیداواری علاقے میں اضافے کے بجائے5.6%کمی واقع ہوئی۔ بدانتظامی اور ناقص حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے چینی کے بحران نے جنم لیا۔ مکئی بھی بہت اہم فصل ہے۔ زراعت میں اس کا حصہ2.9%جبکہ قومی جی ڈی پی میں اس کے حصے کا تناسب0.06%ہے۔ سال 2019-20میں اس کے پیداواری علاقے میں 2.9%اضافہ ہوا اور اس کی پیداوار میں بھی 7%اضافہ دیکھنے کو ملا۔ مکئی کی پیداوار میں اضافے کا سببب پیداواری علاقے میں اضافہ اور بہتر بیجوں کا استعمال ہے۔

چنے، باجرہ اور تمباکو کی پیداوار میں سال 2019-20کے دوران بلترتیب21.9%,9.7%اور 5.8%اضافہ ہوا جبکہ جوار کی پیداوار میں 19.5%کمی واقع ہوئی۔ دالوں کی کاشت اور پیداوار میں 12.6%اضافہ دیکھنے کو ملا دال ماش کی پیداور میں 5.8%کمی ہوئی جبکہ مسور کی دال کی پیداوار مستحکم رہی۔ بہتر موسم کی وجہ سے مرچ کی پیداوار میں 34.6%اضافہ ہو اجبکہ آلو اور ٹماٹر کی پیداوار میں سال 2019-20کے دوران1% اور 5.3%کمی واقع ہوئی جس کے سبب عوام کو ٹماٹر بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ بیجوں سے نکالے جانے والے تیل کی پیداوار صرف 0.5ملین ٹن رہی۔ 8ملین سے زیادہ خاندان لائیو سٹاک کے شعبے سے بلواسطہ یا بلا واسطہ طور پرمنسلک ہیں اور یہ ان کی35-40%تک آمدن کا زریعہ بھی ہے۔ملکی درآمدات میں لائیو سٹاک کو حصہ3.1%ہے۔زراعت کا 960.6%حصہ لائیوسٹاک پر انحصار کر تا ہے اور ملکی جی ڈی پی میں اس کا تناسب11.7%ہے۔

عالمی سطح پرپاکستان دودھ پیدا کر نے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ سال 2019-20کے دوران ہم نے61.6ملین ٹن دودھ اور4.7ملین ٹن گوشت پیدا کیا۔ پولٹری بھی لائیوسٹاک کا ایک ذیلی شعبہ ہے حال ہی میں اس میں سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور اس شعبہ میں سرمایہ کاری کا حجم700ملین روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ دوسری جانب یہ شعبہ1.5%ملین لوگوں کے لیے روزگار کا زریعہ بھی ہے۔ یہ شعبہ ملک میں گوشت کی مانگ کے توازن کو برقرار رکھنے میں بہت اہم ہے کیونکہ گوشت کی ملکی مانگ کا35%حصہ پولڑی کا شعبہ پورا کر تا ہے۔ سال 2019-20کے دوران اس شعبے میں 9.1%اضافہ ہوا۔ ماہی گیری بھی ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے روزگار کا زریعہ ہے۔ ملکی جی ڈی پی میں اس کاتناسب 0.4%ہے۔ سال 20019-20میں پاکستان نے تقریبا کل 701762میڑک ٹن مچھلی درآمد کی اس کے علاوہ ہم نے49528ملین روپے کی مچھلی اور مچھلی سے متعلق دیگر پیداوار فروخت کیں۔

مجموعی طور پر اس شعبے میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ مچھلی کی مجموعی برآمدات کا حجم 2.7%رہا۔ جنگلات کا زراعت میں کلیدی کردارہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کل رقبے کاصرف5.01%جنگلات پر مشتمل ہے۔ ملک میں کل 4.51ملین ہیکڑ جنگلات ہیں جن میں سے 3.44ملین جنگلات سرکاری اراضی پر جبکہ باقی پرائیویٹ اراضی پر مشتمل ہیں۔ یوں جنگلا ت کا حصہ محض2.1%ہے جسکی وجہ سے ملکی زراعت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمیں اپنے عدسے زرعی معیشت کی طرف موڑنے کی اشد ضرورت ہے بلخصوص آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں اس شعبے میں روشن مستقبل کے وسیع ترین مواقع موجود ہیں۔ ان علاقوں پر توجہ دینے سے نہ صرف ملکی معیشت میں اضافہ ہو گا بلکہ ان علاقوں کی پس ماندہ عوام بھی تیزی سے ترقی کر ے گی۔مزید سستی اور عدم توجہی کی وجہ سے صورتحال مزید گھمبیر ہو جائے گی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51751