ملاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ ٹیکس کے نفاذ کے خلاف چترال لوئیر اور اپرمیں مکمل شٹرڈاوں ہڑتال ، کاروباری مراکز اور بازار بند رہے
ملاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ ٹیکس کے نفاذ کے خلاف چترال لوئیر اور اپرمیں مکمل شٹرڈاوں ہڑتال ، کاروباری مراکز اور بازار بند رہے
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ملاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ ٹیکس کے نفاذ کے خلاف انجمن تاجران ملاکنڈ کی کال پر لوئیر چترال کے تمام بازار اور کاروباری مراکز بدھ کے روز مکمل بند رہے، چترال ٹاون کی تجار برادری سمیت مختلف علاقوں کے مکمل شٹرڈاون ہڑتال کی گئی۔ تجاری برادری کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے علاقے کی بنیادی سہولیت مہیا کرکے یہاں کی پسماندگی کو ختم کرے جس کے بعد ٹیکس لگانے کا سوچا جائے، انھوں نے کہا کہ یہاں کی خستہ حال سڑکوں سمیت، ہسپتال ، پینے کا صاف پانی ودیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے، ان پسماندہ علاقوں میں سیل ٹیکس کا نفاذ یہاں کے باشندوں پر ظلم کے مترادف ہے۔، لہٰذا، ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر علاقوں کی طرح، حالیہ مجوزہ سیل ٹیکس کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پہلے بنیادی سہولیات فراہم کریں، پھر ٹیکس کا سوچیں۔ بصورتِ دیگر، نہ صرف تاجر برادری بلکہ علاقے کا جملہ عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوگی۔ کیونکہ کسی بھی ٹیکس کے نفاذ سے نہ صرف کاروباری حضرات متاثر ہوتے ہیں، بلکہ سب سے زیادہ غریب طبقہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا حکومت اپنا مجوزہ فیصلہ فوراً واپس لے۔
اسی طرح اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر ودیگر علاقوں میں بھی مکمل شٹرڈاوں ہڑتال کی گئی ، اپرچترال کے تجار برادری نے انجمن تاجران ملاکنڈ کے جرات مندانہ فیصلے کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا اور آئندہ بھی اسی طرح اتحاد و اتفاق برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔



