مقصد رمضان اور ہماری زمہ داری – ثناء اللہ مجیدی
مقصد رمضان اور ہماری زمہ داری – ثناء اللہ مجیدی
رمضان المبارک ایک بار پھر اپنی روحانی ہیبت، اخلاقی وقار اور فکری معنویت کے ساتھ امتِ مسلمہ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، مگر یہ سوال ہر حساس دل کے سامنے پوری شدت سے کھڑا ہے کہ کیا ہم اس عظیم مہمان کے استقبال کے لیے واقعی تیار ہیں یا حسبِ روایت یہ مہینہ بھی ہماری غفلت، رسمی دینداری اور وقتی جذبات کی نذر ہو جائے گا۔ امتِ مسلمہ آج جن فکری انتشار، اخلاقی زوال اور اجتماعی کمزوریوں کا شکار ہے، ان حالات میں رمضان محض چند مخصوص عبادات کا نام نہیں بلکہ پورے نظامِ فکر اور اسلوبِ زندگی کی اصلاح کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو اگر اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہو جائے تو مردہ ضمیروں میں حیات دوڑ سکتی ہے، بکھرے ہوئے شعور کو سمت مل سکتی ہے اور زوال کے اندھیروں میں امید کی کرن روشن ہو سکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کا رمضان سے تعلق کسی محدود عبادتی دائرے تک مقید نہ تھا، بلکہ یہ مہینہ آپ ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ میں ایک نمایاں تبدیلی لے آتا تھا۔ رمضان سے قبل ہی آپ ﷺ عبادت میں اضافہ فرماتے، شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے اور امت کو ذہنی و روحانی طور پر اس عظیم مہمان کے استقبال کے لیے آمادہ کرتے۔ رمضان آتے ہی آپ ﷺ کی سخاوت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی، یہاں تک کہ صحابۂ کرامؓ نے اسے چلتی ہوئی ہوا سے تشبیہ دی۔ راتیں قیام سے معمور ہو جاتیں، قرآن کے ساتھ تعلق مزید گہرا ہو جاتا اور آخری عشرے میں آپ ﷺ دنیاوی مصروفیات سے کنارہ کش ہو کر اعتکاف اختیار فرماتے، گویا یہ اعلان ہوتا کہ رمضان محض معمول کی عبادت نہیں بلکہ مکمل یکسوئی، سپردگی اور اللہ کے حضور جھک جانے کا نام ہے۔
نبی کریم ﷺ نے روزے کی حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ جو شخص جھوٹ، فریب اور برے اعمال کو ترک نہ کرے، اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ یہ ارشاد دراصل امت کے لیے ایک کڑا معیار ہے، جس پر خود کو پرکھا جائے تو تلخ حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ ہم نے روزے کو زیادہ تر جسمانی مشقت تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کا اصل مقصد اخلاق کی تطہیر، کردار کی تعمیر اور نفس کی سرکشی کو توڑنا تھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے صحابۂ کرامؓ نے نبی کریم ﷺ کے اسوہ سے سیکھا اور اپنی زندگیوں میں اس طرح جذب کیا کہ رمضان ان کے لیے محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک فکری و عملی انقلاب بن جاتا تھا۔
صحابۂ کرامؓ رمضان سے قبل اپنے دلوں کا محاسبہ کرتے، تعلقات درست کرتے، مظالم کا ازالہ کرتے اور اس اندیشے کے ساتھ اس مہینے میں داخل ہوتے کہ کہیں یہ عظیم موقع مل کر بھی قبولیت سے محروم نہ رہ جائیں۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی محرومی یہی تھی کہ انسان رمضان پا لے مگر ویسا ہی رہے جیسا وہ پہلے تھا۔ قرآن ان کے لیے محض تلاوت کی کتاب نہ تھا بلکہ زندگی کا دستور تھا، جس کے سامنے وہ خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ ان کی عبادت، ان کے معاملات، ان کی سیاست اور ان کی معیشت سب قرآن کے تابع تھیں، اور یہی وجہ تھی کہ رمضان کے بعد بھی ان کی زندگیوں میں تقویٰ، دیانت اور خوفِ خدا نمایاں رہتا تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ ایک موقع پر اللہ کے رسول ﷺ منبر پر تشریف لے گئے تو پہلا قدم رکھتے ہی آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے لفظ“آمین”ادا ہوا۔ صحابۂ کرامؓ اس غیر معمولی منظر پر متوجہ ہوئے، مگر خاموش رہے۔ پھر دوسرا قدم رکھا تو دوبارہ“آمین”فرمایا، اور تیسرے قدم پر بھی یہی کلمہ زبان پر آیا۔ خطبہ مکمل ہونے کے بعد صحابہؓ نے ادب کے ساتھ عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آج آپ نے منبر پر تین مرتبہ آمین فرمایا، اس کی کیا وجہ تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت جبرئیل امین میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے دعائیں کی اسمیں ایک دعا یہ تھی کہ وہ شخص ہلاک ہو جائے جس نے رمضان پایا اور اس کی مغفرت نہ ہو سکی، تو میں نے اس پر آمین کہا۔ یہ الفاظ محض ایک روایت نہیں بلکہ امت کے لیے ایک لرزا دینے والی تنبیہ ہیں، کہ رمضان جیسی عظیم نعمت پا کر بھی اگر انسان اپنے گناہوں کی معافی حاصل نہ کر سکے تو اس سے بڑی بد نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے۔
یہ واقعہ رمضان کی حقیقت کو پوری شدت کے ساتھ بے نقاب کرتا ہے۔ یہ مہینہ کوئی معمولی موقع نہیں بلکہ مغفرت کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب رحمت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں، شیطان جکڑے جاتے ہیں اور بندے کو بار بار پکارا جاتا ہے کہ لوٹ آؤ، سنبھل جاؤ، ابھی وقت باقی ہے۔ مگر اگر اس ماحول کے باوجود انسان غفلت، سستی اور رسمی عبادت کے حصار میں قید رہے تو پھر محرومی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا منبر پر آمین کہنا گویا امت کو یہ باور کرانا تھا کہ رمضان محض پانے کی چیز نہیں بلکہ نبھانے کا امتحان ہے، اور اس امتحان میں ناکامی کسی معمولی خسارے کا نہیں بلکہ ابدی نقصان کا پیش خیمہ ہے۔\
رمضان کا پیغام فرد تک محدود نہیں بلکہ پوری امت سے خطاب کرتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں بھوک اور پیاس کے ذریعے یہ احساس دلاتا ہے کہ انسان کتنا کمزور اور محتاج ہے، اور یہی احساس اسے تکبر سے نکال کر عاجزی اور ایثار کی طرف لے جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان میں فقراء، مساکین اور ضرورت مندوں کا خاص خیال رکھتے اور صحابہؓ کو بھی سخاوت و قربانی کی تلقین فرماتے۔ صحابہؓ اس مہینے میں اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ امت کی اصلاح صرف مساجد میں نہیں بلکہ معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچنے سے ہوتی ہے۔
آج امتِ مسلمہ کی حالت یہ ہے کہ رمضان میں بھی طبقاتی تفاوت نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک طرف پرتعیش افطاریاں اور اسراف کی انتہا ہے، تو دوسری طرف وہ گھر ہیں جہاں کئی کئی دن فاقہ رہتا ہے۔ یہ منظر نامہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم نے رمضان کے اجتماعی پیغام کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ہم نے عبادت کو فرد کی نجات تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اسلام اسے اجتماعی عدل، رحمت اور خیر خواہی کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ رمضان کے بعد ہماری زندگیوں میں کوئی دیرپا تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ مساجد کی صفیں دوبارہ سکڑ جاتی ہیں، اخلاقی پابندیاں کمزور پڑ جاتی ہیں اور ہم اسی روش پر لوٹ آتے ہیں جس سے رمضان ہمیں نکالنا چاہتا تھا۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کے ہاں رمضان ایک تربیتی مرحلہ تھا، جس کے اثرات پورے سال باقی رہتے تھے۔ وہ رمضان کے بعد بھی اعمال کی قبولیت کے خوف میں مبتلا رہتے اور یہی خوف انہیں مسلسل اصلاح کی طرف مائل رکھتا تھا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس رمضان میں داخل ہوتے وقت یہی خوف اور یہی فکر اپنے دلوں میں پیدا کریں۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ اگر اللہ کے رسول ﷺ خود اس دعا پر آمین کہہ رہے ہیں تو کیا ہم اس انجام سے بے خوف رہ سکتے ہیں؟ ہمیں رمضان سے پہلے اپنے دلوں کو نرم کرنا ہوگا، اپنے معاملات درست کرنے ہوں گے، دلوں سے کینے نکالنے ہوں گے، ظلم اور ناانصافی سے سچی توبہ کرنی ہوگی اور قرآن کے سامنے خود کو جواب دہ سمجھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ یہ رمضان شاید ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو، اور اگر ہم نے اسے بھی غفلت میں گزار دیا تو شاید پھر موقع نہ ملے۔
رمضان ہمیں رونے کے لیے نہیں بلکہ بدلنے کے لیے دیا گیا ہے، شکایت کرنے کے لیے نہیں بلکہ جھک جانے کے لیے عطا کیا گیا ہے۔ آج امت کو نعروں کی نہیں، سجدوں کی ضرورت ہے، تقریروں کی نہیں، آنسوؤں کی ضرورت ہے، الزامات کی نہیں، خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اس رمضان کو نبی کریم ﷺ کے اسوہ کی روشنی میں سنجیدگی سے لیا، اگر ہم نے اس مہینے کو رسم نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا، اگر ہم نے دل کی گہرائی سے توبہ کی اور اپنی فکر و عمل کو بدلنے کا عزم کیا، تو بعید نہیں کہ یہی رمضان ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہ تبدیلی لے آئے جس کی آرزو ہم برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔
ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ رمضان آتا رہے گا، جاتا رہے گا، اور ہم ہر سال یہی شکوہ کرتے رہیں گے کہ امت کے حالات کیوں نہیں بدلتے، حالانکہ سچ یہ ہے کہ حالات اس وقت بدلتے ہیں جب انسان خود بدلنے پر آمادہ ہو جائے۔ رمضان اسی آمادگی کا نام ہے، اور اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس مقدس موقع کو ضائع کرتے ہیں یا اسے اپنی نجات، اپنی اصلاح اور امت کی بیداری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
