The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سال 2025-26 کے لیے مفت درسی کتابوں کی چھپائی کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں نئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر طلبہ و طالبات کو مفت کتابیں ملیں گی

Posted on

سال 2025-26 کے لیے مفت درسی کتابوں کی چھپائی کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں نئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر طلبہ و طالبات کو مفت کتابیں ملیں گی
نئے سیشن کے لیے کتابوں کی کل ڈیمانڈ تین کروڑ 39 لاکھ 63 ہزار ہے جس پر 4.9 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ صوبہ بھر کے تمام طلبہ و طالبات کو مفت درسی کتابوں کی فراہمی جاری رہے گی۔ 50 فیصد پرانی کتابوں کے دوبارہ استعمال اور 50 فیصد نئی کتابیں چھاپی جائیں گی۔ نئے سیشن کے لیے کتابوں کی کل ڈیمانڈ 3 کروڑ 39 لاکھ 63 ہزار ہے۔ جس پر 4.9 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔ بروقت فیصلوں اور بہترین پلاننگ کی بدولت تمام درسی کتابوں کی چھپائی کے لئے تمام انتظامات مکمل کئے گئے ہیں اور نئے سیشن کے آغاز پر طلبہ و طالبات کو مفت درسی کتابیں ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کی بدولت امسال کتابوں کی چھپائی میں تقریبا 2.2 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ جس کے لیے ٹیکسٹ بک بورڈ حکام کی کارکردگی لائق تحسین ہے انہوں نے کہا کہ مشکل مالی حالات کے باوجود وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور اور مشیر خزانہ کی کوششوں سے سابقہ وقتوں کے بقایاجات کی ادائیگی بھی یقینی بنائی گئی اور نئے سیشن کے لیے بھی اقدامات کئے گئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قیصر عالم، ایڈیشنل سیکرٹری محمد شعیب اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ فرح ثقلین نے وزیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2024-25 کے 2 ارب بقایا جات جبکہ سابقہ سالوں کی 10 ارب روپے کے بقایا جات کی بروقت ادائیگی کے لیے محکمہ خزانہ کے ساتھ بات چیت کی جائے انہوں نے بتایا کہ نئے سیشن کی لیے بندوبستتی اصلاح کے 52 لاکھ 57 ہزار ضم اضلاع کے لئے 34 لاکھ 68 ہزار اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 23 لاکھ 22 ہزار کتابوں کی فراہمی کی ڈیمانڈ آئی ہے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ بقایا جات کی بروقت ادائیگی کے لیے بہت جلد مشیر خزانہ کے ساتھ بات کی جائے گی انہوں نے کہا کہ 50 فیصد استعمال شدہ کتابوں کو دوبارہ استعمال میں لا کر حکومت پر اضافی بوجھ کم ہوا ہے مگر حکومت کی اولین ترجیح تعلیم ہے اور اس کے بجٹ میں کوئی کٹوتی نہیں ہوتی بلکہ ہر سال اضافہ کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے بروقت اقدامات کی بدولت ڈراپ آؤٹ ریشو کم ہوا ہے سکولوں میں لاکھوں کی تعداد میں بچوں کو داخلہ دیا گیا ہے اور ریفارمز کی بدولت عوام کا اعتماد سرکاری تعلیمی اداروں پر بڑھ گیا ہے جس کے ثمرات عام لوگوں کو مل رہے ہیں اور وہ مفت تعلیمی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
96652