مسلمانوں کو تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ۔صوفی محمد اسلم
مسلمانوں کو تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ۔صوفی محمد اسلم
مسلمانوں کی تاریخ کا آغاز 610 عیسوی سے ہوتا ہے، جب رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ اسلام کی تعلیمات سے آپ نے اصول متعارف کروائے، جنہوں نے معاشرے میں ایک انقلاب برپا کیا۔ آپ کی تعلیمات نے ایک تہذیب یافتہ معاشرہ قائم کیا اور ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی، جو آج بھی دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل ہے۔
یہ اصول ایمانیات، اخلاقیات، اور معاملات پر مشتمل تھے۔ ایمانیات نے لوگوں کو روحانی طور پر مضبوط اور آپس میں متحد کیا، جیسا کہ میثاق مدینہ میں دیکھا جا سکتا ہے، جس نے مختلف قبائل کے درمیان باہمی رواداری اور اتحاد کی بنیاد رکھی۔اخلاقیات نے محبت اور رواداری کو فروغ دیا، جس کی مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے، جہاں آپ نے ہمیشہ انصاف، رحم دلی، اور یکجہتی کی تعلیم دی۔ یہ تعلیمات ہمیشہ موجود رہیں، کبھی عبادات پر زور دیا گیا اور کبھی معاملات و اخلاقیات پر، مگر ان کی اہمیت کبھی بھی نظرانداز نہیں کی گئی۔ یہی اصول رسول اللہ کے وصال کے بعد بھی خلفاء راشدین کے دور میں برقرار رہے، جن کی بدولت اسلام نے ایک نمایاں معاشرتی انقلاب لایا۔
خلفاء راشدین نے ان اصولوں کی روشنی میں نظام عدل قائم کیا اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں اسلام ایک وسیع و عریض سلطنت میں پھیلا۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ان اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف معاشرتی استحکام حاصل ہوا، بلکہ ایک مضبوط اور باہمی مربوط امت کی تشکیل بھی ہوئی۔
بدقسمتی سے، جیسے جیسے بادشاہت کا دور شروع ہوا، ان اصولوں کی پامالی ہونے لگی۔ اموی، عباسی، فاطمی، اور عثمانی خلافتوں نے کبھی نہ کبھی ان اصولوں کی بنیاد پر حکومت کرنے کی کوشش کی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان میں انحطاط آتا گیا۔ مثال کے طور پر، اموی دور میں یزید کی خلافت کے دوران، اس نے سیاسی اور مذہبی استحکام کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے قوانین نافذ کیے ۔اسی دوران علم کی تقسیم نے ہمیں نقصان پہنچایا۔ فکری آزادی پر پابندیاں لگائی گئیں، اور تحقیق و تسخیر کو غیرضروری قرار دیا گیا۔ علمی شخصیات، جیسے کہ ابن رشد اور غزالی، کو اپنی تحریروں کی وجہ سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور بعض اوقات انہیں کفر کے فتوے دے کر سزا دی گئی۔
کتابیں جلائی گئیں، جیسے کہ المکتبہ العربی میں بعض مکاتب فکر کی تحریروں کو منسوخ کرنے کے اقدامات، اور یہ سب چیزیں معاشرتی تنزلی کا آغاز ثابت ہوئیں۔
اس کے نتیجے میں، مسلمانوں کی علمی، ثقافتی، اور سماجی حیثیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جو کہ بعد کے ادوار میں بھی محسوس کی گئے۔
دوسری قومیں علم کی طرف بڑھنے لگیں، جبکہ ہم فرقہ پرستی اور داخلی تنازعات میں الجھ کر رہ گئے۔ وہ قومیں اسکول، کالج، اور یونیورسٹیاں قائم کر رہی تھیں، جبکہ ہم اپنے مفکرین کو دبا رہے تھے۔ مسلمانوں میں غربت، خودغرضی، اور لالچ کی وبا پھیل گئی، جبکہ حکمران عیاش ہوگئے۔ اس کا ایک واضح ثبوت اس وقت کے حکمرانوں کی عیش و عشرت کی زندگی ہے، جو عوام کی حالت زار سے بےخبر تھے۔ عوام میں غداری کا عنصر بڑھتا گیا، جس کی مثال 18ویں صدی میں ہونے والے داخلی جنگوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ہماری تاریخی نااہلی اور علم سے دوری نے ہمیں ایک ہی چکر میں گھومنے پر مجبور کر دیا۔ خون ریزی اور غداری کی وبا بڑھتی رہی، اور ہمیں اپنی غلطیوں پر غور کرنے کی بجائے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا آسان لگا۔ آج مسلمان دو ارب کی تعداد میں ہونے کے باوجود کفار کے قدموں تلے روندے جا رہے ہیں، اور ہم اپنی غلطیوں کو چھپانے میں مصروف ہیں۔ہمیں اپنے مستقبل کی خاطر کمپرومائز کیوں کرنا ہے؟ کیا یہ نہیں کہ ہمیں اپنے کردار پر سوال اٹھانے کی ضرورت ہے؟ کیا ہم واقعی اپنے ملک و قوم کے ساتھ وفادار ہیں؟ کیا ہم اس سرزمین کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں؟یہ سوالات ہمیں اپنی شناخت اور ذمہ داریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب ہم اپنی ذات اور اجتماعی مفادات کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر ایک کی شمولیت، محنت، اور عزم ہی ہمیں ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی قوم کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے صرف تنقید کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں، یا پھر ہم عملی اقدامات کے ذریعے تبدیلی کا باعث بننے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اپنے علم و ہنر کو اس قوم کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم ایک بہتر معاشرتی ڈھانچے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟ یہ سوالات ہمیں اپنی راہوں کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور ہمیں عزم و ہمت کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہیں اور عزم و استقلال کے ساتھ اپنے کردار کو نبھاتے ہیں، تو ہم یقیناً ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں تربیت پا رہے ہیں جہاں موٹیویشنل اسپیکرز ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ صرف دعا کریں اور کچھ نہ کریں۔ علم حاصل کرنے کے لیے چین جانے کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اپنے وطن کی لائبریریوں کو دیکھنے اور پڑھنے پر زور نہیں دی جاتی۔ایسی بے اصولی کے باوجود اگر ہم ترقی کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ محض ایک احمقانہ سوچ ہے۔ ترقی تب ممکن ہے جب ہم اپنی کوششوں کے ساتھ علم و ہنر کو بروئے کار لائیں۔ انقلاب تب ہوتا ہے جب ہماری سوچ میں انقلاب آتا ہے، جو فرد سے معاشرہ اور پھر قوم کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اگر سوچنے پر پابندیاں ہوں تو زوال لازم ہے، اور اسی طرح ہم اپنی ترقی کے مواقع کھو دیں گے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دعا کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ علم کی روشنی میں خود کو منور کرنا اور معاشرے میں تبدیلی لانا ہی اصل کامیابی ہے۔
وماعلینا الاالبلاغ۔
صوفی محمد اسلم