Chitraltimes Banner

وزیر اعلی کے زیر صدارت پارلیمنٹرینز کا اجلاس، رستم امبیلا روڈ، مستوج بروغل روڈ، دیر کیڈٹ کالج، تالاش بائی پاس اور چترال نرسنگ کالج سمیت دیگر اہم منصوبوں سے اصولی اتفاق 

Posted on

وزیر اعلی کے زیر صدارت پارلیمنٹرینز کا اجلاس، رستم امبیلا روڈ، مستوج بروغل روڈ، دیر کیڈٹ کالج، تالاش بائی پاس اور چترال نرسنگ کالج سمیت دیگر اہم منصوبوں سے اصولی اتفاق

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ملاکنڈ ریجن سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرینز کا ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ملاکنڈ ریجن میں جاری میگا ترقیاتی منصوبوں، آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 2026-27 اور علاقے میں نئے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں ملاکنڈ ریجن کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور مواصلاتی رابطوں کے فروغ کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے سوات موٹروے فیز ٹو کے تعمیراتی کام کا باضابطہ آغاز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ملاکنڈ ریجن سمیت پورے خطے کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئے گی اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

وزیر اعلیٰ نے صوبائی ٹرانسمشن لائن کے فیز ٹو میں حائل مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو نتیجہ خیز اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ صوبے میں پن بجلی منصوبوں سے مکمل استفادہ حاصل کرنے کے لیے صوبائی ٹرانسمشن لائن منصوبے کی بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے شہید ارشد شریف یونیورسٹی آف انوسٹی گیٹو اینڈ ماڈرن جرنلزم پر کام کے باقاعدہ افتتاح کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اسی طرح لائیو سٹاک یونیورسٹی پر کام تیز کرنے اور انجینئرنگ یونیورسٹی کو ڈی ایف سی اسکیم کے تحت جلد مکمل کرنے کے لیے بھی متعلقہ حکام کو ہدایات دی گئیں۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ملاکنڈ ریجن میں تکمیل کے قریب میگا پراجیکٹس کو ہر صورت بروقت مکمل کیا جائے اور نئی اسکیموں پر عملی طور پر کام کا آغاز یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد میسر آ سکیں۔

اجلاس میں ملاکنڈ ریجن کے مختلف ہسپتالوں کی ضرورت کے مطابق اپگریڈیشن سے اصولی اتفاق کیا گیا اور وزیر اعلیٰ نے صحت عامہ کی بہتری کو حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ رائلٹی کے لیے نامزد اکاونٹس بنائے جائیں گے تاکہ رائلٹی کی مد میں حاصل ہونے والی رقم براہ راست متعلقہ اضلاع پر خرچ کی جا سکے اور مقامی ترقی کو مزید فروغ ملے۔اجلاس میں رستم امبیلا روڈ، مستوج بروغل روڈ، دیر کیڈٹ کالج، تالاش بائی پاس اور چترال نرسنگ کالج سمیت دیگر اہم منصوبوں سے اصولی اتفاق کیا گیا اور انہیں آئندہ نئے ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا عندیہ دیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں شریک پارلیمنٹرینز کو ہدایت کی کہ وہ 15 مارچ تک اپنے اپنے حلقوں کے لیے ترقیاتی اسکیموں کی نشاندہی کریں جبکہ اس سلسلے میں آئندہ ہفتے سے فالو اپ اجلاس شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت منصوبہ بندی اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
118433