The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 16 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

عصری دنیا میں مسئلہ کشمیر کی حیات نو-پروفیسر عبدالشکور شاہ

دہائیوں پر محیط مسئلہ کشمیر علاقائی امن، باہمی تجارت، ہم آہنگی، جمہوریت کی پائیداری، استحکام اور خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔جنوبی ایشیاء میں امن کے بغیر عالمی امن قائم کرنا دنیا کو بند گلی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔اکیسویں صدی نے شعبہ ہائے زندگی کے ہر میدان میں روائیتی طریقوں کو پس پشت ڈال کر انہیں جدید خطوط پر استوار کیا۔ لہذایہ وقت کی عین ضرورت ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو بھی عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کی حیات نو کا فریضہ سر انجام دیں۔ محکوم و مظلوم کشمیریوں کی آواز کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عالمی سطح پر اٹھانے کے لیے ہمیں روائیتی طریقوں کے بجائے غیرروائیتی طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے حصے کا کام سر انجام دینا ہو گا۔ اگر ہم نے اپنی سات دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط روائیتی روش نہ بدلی تو ہم تحریک آزادی کشمیر کو شدید نقصان پہنچانے کے مرتکب ہو ں گے۔

دنیاوی بدلاو کے ساتھ ساتھ نظریات و تفکرات بھی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی آواز کو عالمی دنیا تک موثر انداز میں پہنچائیں۔یہ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے کہ ہم ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عصری تقاضوں کے مطابق جدید سمت کی طرف موڑیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونے کے ساتھ ساتھ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کشمیر پر موجود زیادہ تر مواد بھارتی ورژن پر مشتمل ہے۔ ہمیں جذباتیت  بھنور سے نکل کربھارتی پروپگنڈہ کا ہر رسمی اور غیر رسمی پلیٹ فارم پرمنہ توڑ جواب دینا ہو گا۔ بھارت مسئلہ کشمیر کو خراب کرنے کے لیے متعدد ویب سائیٹس اور پورٹلز چلا رہا ہے جہاں سے غیر محسوس انداز میں نسل نو کے اذہان کو خراب کرنے کی مذموم کوشش میں برسرپیکار ہے۔

ہمیں یہ تلخ سچائی تسلیم کرنا ہو گی کہ ہم اس ضمن میں بھارت سے کہیں پیچھے ہیں۔ ہم نے کشمیر کے حوالے سے بھارت کے لیے کھلا میدان چھوڑ دیا ہے۔ کشمیر لبریشن سیل جس کا قیام 1987میں عمل میں لایا گیا اور یہ ملک بھر میں مختلف مراکز کی موجودگی کے باوجود سیاست زدہ ہے۔ اسے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے بجائے سیاسی بھرتیوں اور سیاسی رشوت ستانی کے ساتھ ساتھ مل کر عوامی ٹیکسوں کے پیسے سے نوازشات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔کشمیر لبریشن سیل کے تمام مراکز سیاسی نوازشات، اقربہ پروری، من پسند افراد کو نوازنے اور افسران کی چاپلوسی اور خوشامدکے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان مراکز کے قیام سے لیکر اب تک کسی نے اس ادارے کا آڈٹ کرنے کا حکم صادر نہیں کیا۔ یوں شتر بے مہار یہ ادارہ سال میں 22رسمی پروگرامات کے علاوہ عوامی ٹیکسوں کا پیسہ ہڑپ کرنے کا موجب بن چکا ہے۔

پروگرامات کے نام پر پیٹ پوجا اور چند اخباری تراشوں کے علاوہ اس کا کام صفر ہے۔ اگر ہم واقعی تحریک آزادی کشمیر سے مخلص ہیں تو ہمیں کشمیر کے نام پر بننے والے تمام ادارہ جات کو فی الفور غیر سیاسی بنانا ہو گا اور انہیں من پسند اور انفرادی مفادات کے بجائے کشمیری مفادات کے لیے چلانا ہو گا۔ یہ وقت کا عین تقاضہ ہے کہ ہم کشمیر پر بھارتی پروپگنڈہ کا جواب دینے کے لیے خالصتا میرٹ کی بنیاد پر موثر یونٹس قائم کریں نہ کہ اپنے رشتہ داروں اور سیاسی ورکرز کو کشمیریوں کے ٹیکسوں پر نوازیں۔ نئی نسل تاریخ کشمیر اور مسئلہ کشمیر سے مکمل طور پر لا علم ہے۔ کیوں نہ ہو جب کسی قوم کو اس کی تاریخ سے تاریک رکھا جائے گا تو پھر گونگے بہرے کشمیری ہی جنم لیں گے۔ کشمیر کے بہترین مفاد میں تاریخ کشمیر کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے اور کشمیر ی زبانوں کی ترویج کے لیے انہیں بطور مضمون شامل کیا جائے۔ ہم ایک نیم معذورشعبہ کشمیریات قائم کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن نہیں کر سکتے جہاں آٹے میں نمک کے برابر طلبہ کشمیری جذبے کے بجائے نوکری کے جذبے کے تحت داخلہ لیتے ہیں۔ دنیا تیزی کے ساتھ تحقیق کی طرف منتقل ہو رہی ہے جبکہ اس حوالے سے کشمیر پر ہمارا کام ایک سوالیہ نشان ہے۔

کشمیر پر دستیات آن لائن مواد یا تو بھارتی مصنفن کا ہے یا انہوں نے انگریز مصنفین کو معاوضہ دے کر لکھوایا ہوا ہے۔ یوں ہم نے پبلیکیشن کا میدان بھی بھارت کے لیے کھلا چھوڑ اہوا ہے۔ حکومت اور کشمیر کے نام پر بننے والے اداراوں کو چاہیے کہ وہ کشمیر پر تحقیق کرنے والے محقیقین اور مصنفین کے لیے مراعات اور معاوضہ جات کا اعلان کرے۔ یونیورسٹی کی سطح پر کشمیر پر تحقیقی مقالہ جات لکھنے والوں کو اضافی نمبرات دینے کا اعلان کرے۔ جو محقیقین اور مصنفین کشمیر پر لکھ چکے ہیں ان کی تصنیفات اور مقالہ جات کو جمع کر کے انہیں بین لااقومی جرائد میں شائع کروانے کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات کیے جائیں۔ نظریاتی اختلاف سے بلاتر ہو کر کشمیر پر کام کرنے والے ہر فرد کو فوقیت اور اولیت دی جائے۔ یونیورسٹی کی سطح پر مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک مضمون شامل کیا جائے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر سے متعلق سرکاری سرپرستی میں مختلف مقابلہ جات کے، سیمینار اور پروگرامات کا تسلسل سے اہتمام کیا جائے۔

مسئلہ کشمیر صرف کشمیریوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ساری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے اور مسئلہ کشمیر حل ہونے تک ایشیاء میں امن ممکن نہیں ہے۔ اس لیے امن اور انصاف کا ساتھ دینے والے ہر فرد کو کشمیریوں کی آواز میں آواز ملانا ہو گی۔ پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ ایک صفحہ یا ایک پروگرام مسئلہ کشمیر کے لیے مختص کرے اور روائیتی دنوں کے علاوہ بھی مسئلہ کشمیر کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے۔ حکومت آزادکشمیر و پاکستان کشمیر کی صورتحال پر کم از کم سہہ ماہی رپورٹ شائع کرے جس میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ سرکاری سطح پر شہید، زخمی، معذور، اغواء، جنسی درندگی کے ان گنت واقعات، غیر قانونی نظر بندی، اور گم شدہ افراد کی کہانیوں کو حقائق، اعدادوشمار اور مکمل کوائف کے ساتھ شائع کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کاپردہ فاش کیا جائے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کاکم از کم سالانہ تقابلی جائزہ شائع کیا جائے تا کہ اقوام عالم کو کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا علم ہو۔ کشمیریوں کو عالمی سطح پر نمائندگی دی جائے، کشمیری سفارت کار تعینات کیے جائیں، تمام کھیلوں کی کشمیری ٹیم بنائی جائیں تاکہ وہ مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر ہر میدان میں اجاگر کریں۔ حکومت پاکستان کشمیری ائیر لائن کا آغاز کرے چاہیے وہ وفاقی کنٹرول میں ہی کیوں نہ ہو اس سے مسئلہ کشمیر کو تقویت ملے گی۔ ششماہی بنیادی پر کشمیر سے متعلق تصاویری کہانیاں شائع کی جائیں اور تمام بڑے سرکاری اداروں میں کشمیر گیلری قائم کی جائے تاکہ غیر ملکی مندوبین مسئلہ کشمیر کی نوعیت سے آگاہ ہوں۔

کشمیر کے تاریخی واقعات اور شخصیات پر ٹکٹ جاری کیے جائیں۔ سب سے اہم نقطہ کشمیری قوم کونظریاتی تصادم سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اس کا واحد حل مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے یر اتفاق میں مضمر ہے۔ الحاق پاکستان یا خودمختاریت دونوں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ان کا کہیں بھی تذکرہ نہیں ہے۔کشمیریوں کو الحاقیت یا مختاریت کے نظریاتی تصادم سے بچانے کے لیے مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اجاگر کیا جائے۔ ہم نے سب سے پہلے متحد ہو کر آزادی کشمیر کے لیے جدوجہد کرنی ہے جب کشمیر آزاد ہو جائے گا تو یہ کشمیریوں کا حق ہے وہ فیصلہ کریں گے وہ الحاق چاہتے یا خودمختاری۔ ہمیں مسئلہ کشمیر پر سنجیدگی دکھانا ہو گی اور مسلم امہ کو ایک پیج پر لاتے ہوئے مسلم ممالک کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔ اگر ہم افغانستان پر او آئی سی کا اجلاس کروا سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر کیوں نہیں کرواتے؟ 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
57437

کشمیر پریمئیر لیگ اور مسئلہ کشمیر – پروفیسر عبدالشکورشاہ

کھیلوں نے مجھے اہداف طے کرنا سکھایا ہے، یقینا کھیل نے مجھے ایک آواز اور شناخت دی ہے۔ مایا ہیم۔ تمام تر مشکلات کے باوجود کشمیر پریمیئرلیگ کے انعقادسے ملک میں خوشی کی ایک لہر دوڑ چکی ہے۔ خاص طور پر دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کا جوش و ولولہ دیدنی ہے۔ شکریہ کے احساسات کا اظہار نہ کرنا ایسے تحفے کی طرح ہے جسے ہم انتہائی خوبصورت گفٹ پیپر میں لپیٹ کر دینے کے بجائے رکھ لیتے ہیں۔ کشمیر پریمئیر لیگ کی اہمیت کا اندازہ اس کی مخالفت، اس کے خلاف سازشوں اور اس کے انعقاد پرموجود خوف اور خوشی سے لگایا جا سکتا ہے۔

یہ لیگ پوری کشمیری قوم کے لیے ظلم کی تاریک رات میں ا مید کرن ہے جو کھیل کے پرامن زریعے سے پوری دنیا میں کشمیریوں کی آزادی، شناخت اور حقوق کا پیغام سنا رہی ہے۔اس لیگ سے خوفزدہ ہو کر، اسے رکوانے کے لیے کشمیریوں کے ازلی دشمن بھارت نے بین الاقوامی کر کٹ کونسل سے بھی رابطے کیے اور اسے تسلیم نہ کرنے کی درخواست کی۔ صرف یہی نہیں، بھارت نے اپنا مکرہ چہرہ انگلش اور جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کو خط لکھ کر بھی بے نقاب کر لیا ہے۔

کے پی ایل کے خلاف سازشوں پر ہرشل گبز پھٹ پڑے اور بھارتی دھکمیوں کا انکشاف کر کے بین الاقومی سطح پر بھارت کے مذموم عزائم کا پردہ چاک کر دیا۔ گبزکو بھارتی کرکٹ بورڈ نے کے پی ایل میں شرکت کرنے پربھارت میں داخلے پر پابندی اوردیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔دیگر کئی ممالک کے کھلاڑیوں کو بھی کے پی ایل میں شمولیت سے دور رکھنے کے لیے بھارت کی جانب سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جار ہے ہیں۔ بی سی سی آئی نے ایک بار پھر آئی سی سی کے ممبران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے بین الاقوامی اصولوں کے ساتھ کھیل کے جذبوں اور دنیا میں امن کے پیغا م کو روکنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

بھارت کی جانب سے اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو کے پی ایل میں شرکت سے زبردستی روکنا اور دھمکیوں نے عالمی سطح پر کھیل کے جذبے اور فروغ کو شدید ٹھیس پہنچانے کے علاوہ ا پنی نازی سوچ کا اظہار کیا ہے۔ کشمیریوں کے خون کے پیاسے ڈریکولا بھارت کو یہ ہر گز برداشت نہیں کہ کشمیریوں کی شاخت اور آواز دنیا بھر میں دیکھی اور سنی جائے۔ کشمیری نوجوانو ں کا قاتل بھارت یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ کشمیری نوجوان عالمی سطح کے بڑے ناموں کے ساتھ بیٹھیں۔کے پی ایل سے نہ صرف کشمیری ثقافت اجاگر ہو گی بلکہ سیاست کو بھی فروغ ملے گا۔

بھارت اس لیگ سے اتنا خائف ہے کہ اس نے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ کمنٹیٹرز اور براڈ کاسٹرز کو بھی طاقت کے زریعے روک دیا ہے۔بھارت نے پاکستان دشمنی میں کے پی ایل کی مخالفت کر کے پوری دنیا کو اپنی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے۔انتہا پسند بھارت پرامن کھیل سے بھی خوفزدہ ہے کیونکہ اسے اس بات کا یقین ہے یہ لیگ کشمیریوں کی پرامن آزادی کی جدوجہد میں ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔ کے پی ایل میں شامل بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت سے مسلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہو گا۔کشمیر پریمیئر لیگ سے کشمیری نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقعہ ملے گا اور انہیں ملکی اور عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ بھی ہو گا۔ اس لیگ سے نوجوانوں کو کھیل کے میدان میں آگے نکلنے کے بیشمار مواقع ملیں گے۔

کے پی ایل کے انعقاد سے کشمیریوں کے جذبہ جدوجہد آزادی کو تقویت ملے گی۔ اس لیگ کے زریعے کشمیری عالمی سطح پر یہ پیغام دینے میں کامیاب ہونگے کہ وہ پرامن قوم ہیں اور عالمی قرادادوں کے مطابق اپنی آزادی کے حصول کے متمنی ہیں۔ کے پی ایل کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی، ملکی او ر بین الاقوامی کھیلوں کو فروغ ملے گا بلکے اس کے زریعے کھیلوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ کشمیر پریمئیر لیگ صحافت کے میدان میں سپورٹس جرنلزم کو پروان چڑھانے میں مدد دے گی۔ حکومت آزادکشمیر، پاکستان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی یہ لیگ خطے میں امن کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے مواقع کی وسعت کے اعتبار سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

کشمیر پریمئیر لیگ کے زریعے مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں ایک نئی جہت اور سمت ملے گی۔کشمیر پریمیئر لیگ کانام دراصل کشمیریوں کی شناخت،ثقافت ان کی پرامن جدوجہد آزادی اور ان کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم جنگ نہیں امن چاہتے، ہم گولی کا جواب گیند سے دینا چاہتے ہیں۔ اس لیگ سے عالمی دنیا کو یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ ایک طرف بھارتی مقبوضہ کشمیر ہے جہاں لاشیں گرتی ہیں،بھارت نے کشمیر کودنیا کی سب سے بڑی جیل بنا رکھا ہے، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جہاں بچوں کی بینائی چھینی جاتی ہے، جہاں عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے، جہاں والدین کو ان کے بچوں کے سامنے گولیاں ماد دی جاتی ہیں، جہاں گھر راکھ بنا دیے جاتے ہیں، جہاں ننے پھول مسل دیے جاتے ہیں، جہاں بوڑھوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے، جہاں لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کھیلوں کو فروغ دیا جاتا ہے، نوجوانوں کے لیے گولی کے بجائے گیند کا انتخاب کیا جاتا ہے، ظلم کے بجائے امن کا پیغام دیا جاتا ہے۔

کشمیر پریمیئر لیگ مستقبل میں کشمیری کرکٹ ٹیم کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو پوری دنیا میں مسلہ کشمیر کو اجاگر کرے گی۔ کشمیر پریمیئرلیگ پوری دنیا کی توجہ ایک بار پھر مسلہ کشمیر کی طرف گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کر ے گی۔ عام آدمی ا س لیگ کو محض ایک کھیل تک محدود سمجھتا ہے جبکہ ایسا ہے نہیں۔ یہ لیگ کسی بھی کھیل سے بڑا کھیل ہے جس کے نتائج ہمیں مستقبل قریب میں ملیں گے۔ یہ کھیل کرکٹ سٹیڈیم کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی کھیلا جارہا ہے۔ ہارجیت کھیل کا حصہ ہے مگر اس لیگ کے کے مقاصد میں ہار نہیں بلکہ جیت ہی جیت ہے۔ اس لیے اس لیگ کو محض ایک کھیل تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔کے پی ایل بین الاقوامی میڈیا میں بھر پور پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کے پی ایل کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوشش بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ہمیں مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلہ کشمیر پر کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو محض کرکٹ کے زریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہر صوبے کی طرح پاکستانی بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں میں کشمیر کی نمائندگی کو یقینی بنائے۔ یہ ہمارا حق ہے اگر پاکستان کے باقی صوبوں کے کھلاڑی پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں تو پھر کشمیر اور گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں کو بھی یکساں مواقع ملنے چاہیے تاکہ وہ بھی اپنے خطے کی شناخت اور پہچان کا زریعہ بن سکیں۔ کشمیر پریمئیر لیگ کا تسلسل جاری رہنا چاہیے تاکہ خطے میں کھیل، سیاحت، سرمایہ کاری اور امن کو فروغ ملے۔

کھیل کی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی میں کشمیریوں کو نمائندگی دی جائے تاکہ ہم ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر اپنا مقدمہ لڑسکیں۔ پاکستان کو دوست ممالک کے ساتھ ملکر بین الاقوامی سطح کی تنظیموں میں کشمیریوں کو نمائندگی دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

کشمیری کھیل کے میدان کے ساتھ ہر میدان میں اپنی شناخت چاہتے ہیں۔ کرکٹ کی طرح زبان وادب، تاریخ و ثقافت اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کے متقاضی ہیں۔ کشمیر پریمئیر لیگ کی طرح دیگر شعبہ جات کی طرف بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ مسلہ کشمیر کو نئی جہت اور جدید تقاضوں کے مطابق اجاگر کرنے پر ہم کے پی ایل کے منتظمین کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں اگلی مرتبہ کے پی ایل پہلے سے کہیں زیادہ تناور پودے کی شکل اختیار کر چکا ہو گا اور ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ہم آئیندہ کے لیے زیادہ بہتر اقدامات اور انتظامات کو یقینی بنائیں گے۔ ہم ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور آزادی کشمیر کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
51214