The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مخصوص نشست کیس: فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست تاخیری حربہ ہے، سپریم کورٹ

Posted on

مخصوص نشست کیس: فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست تاخیری حربہ ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں عمل درآمد نہ ہونے اور الیکشن کمیشن کی متفرق درخواست کو تاخیری حربہ قرار دے دیا، آٹھ اکثریتی ججز نے کہا ہے کہ درخواست دائر کرنا نہ صرف فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیری حربے اختیار کرنا ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کو ناکام بنانا کے مترادف ہے۔ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس میں فیصلہ آنے پر اس پر عمل درآمد میں دشواریوں کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی تھی۔الیکشن کمیشن کی درخواست پر کیس کا فیصلہ دینے والے آٹھ اکثریتی ججز نے وضاحتی بیان جاری کردیا جس میں انہوں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کی دشواریوں کی درخواست تاخیری حربہ ہے۔چار صفحات پر مشتمل وضاحتی بیان میں ججز نے لکھا ہے کہ انتخابی نشان نہ ہونے کے باعث سیاسی جماعت کا آئینی و قانونی اختیار ختم نہیں کیا جاسکتا، پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی اور ہے اس نے عام انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنا نہ صرف فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیری حربے اختیار کرنا ہے بلکہ فیصلے پر عمل درآمد کو ناکام بنانا یا اس میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ججز نے لکھا ہے کہ تمام نکات کی وضاحت تفصیلی فیصلے میں دی جائے گی ہم نے کیس کے مختصر فیصلے میں وضاحت کی تھی کہ انتخابی نشان ہونے یا نہ ہونے کے سبب کسی سیاسی جماعت کا آئینی یا قانونی اختیار ختم نہیں کیا جاسکتا۔ججز کی اس وضاحت میں اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی دشواریوں کی سماعت نہیں کی گئی اور یہ وضاحتی بیان جاری ہوا ہے، اب دیکھنا ہے کہ مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ کب جاری ہوگا۔واضح رہے کہ مخصوص نشست کیس کے فیصلے کے بعد 39 ارکان سے متعلق فیصلے پر عمل ہوگیا تھا مگر 41 ارکان رہ گئے تھے۔

سپریم کورٹ وضاحت کے بعد آئینی ترمیم کا مستقبل دھندلا گیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس)مخصوص سیٹوں کے حوالے سے 12 جولائی کے فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کی درخواست سے متعلق وضاحت کے بعد مجوزہ آئینی ترمیم کا معاملہ بھی لٹک گیا ہے کیونکہ اس کو بھی سپریم کورٹ قانونی سقم کی وجہ سے ختم کر سکتی ہے۔اگرچہ حکومت نے آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی پوری تیار ی کرلی ہے لیکن حکومت کو اس معاملہ میں ابھی کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے ہی الیکشن کمیشن بھی مخصوص سیٹوں پر عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے کے باعث مشکلات میں ہے۔جنرل الیکشن 90 دن کی مدت کے اندر نہ کرانے کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح 8 فروری کے الیکشن کی شفافیت سے متعلق بھی الیکشن کمیشن تنقید کی زد میں ہے، پی ٹی آئی دھاندلی کا الزام الیکشن کمیشن پر ہی لگا رہی ہے۔ایڈووکیٹ عبد المعیز جعفری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سمجھا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت کہا اور پھر بھی وہ کوشش کر رہا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن کی کوتاہی کے تحت ہی پارٹی کے ارکان کو شناخت سے محروم رکھا جا سکے۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن عدالت میں اپنا کامیابی سے پیش نہیں کر سکا۔سپریم کورٹ نے سمجھا کہ غیر مصدقہ وجوہات کی بنا پر عدالت کے احکامات پر عمل میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر جمعیت علمائے اسلام کے قانون ساز بھی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے دیں تو پھر بھی حکومت کے پاس دونوں ایوانوں میں تین ارکان کی کمی موجود ہے۔سابق ایڈیشنل جنرل طارق محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ یہ مکمل استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے والے الیکشن کمیشن کو عدالت کی سرزنش ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم نے الیکشن کمیشن کو اس کی غیر قانونی چالوں اور اس کے نتائج کی یاد دہانی کرائی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
93243