The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مخصوص نشستیں؛ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ نہ کرسکا

مخصوص نشستیں؛ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ نہ کرسکا

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کی وضاحت کے معاملے میں الیکشن کمیشن کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا اور الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ نہ کر سکا۔ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں قانونی ٹیم نے الیکشن کمیشن کو نئے الیکشن ترمیمی ایکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی ٹیم نے کمیشن کو الیکشن ایکٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے بارے میں اپنی تجاویز پیش کیں، قانونی طور پر مخصوص نشستوں کی فہرست فراہم نہ کرنے پر تحریک انصاف ان نشستوں کی اہل نہیں، تنظیمی ڈھانچہ نہ رکھنے والی پارٹی کے ساتھ خط و کتابت کی قانونی اہمیت نہیں، پارٹی سرٹیفیکیٹ کے بغیر کسی جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل نہیں ہوتا۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے قانونی ٹیم سے سپریم کورٹ کے فیصلے اور الیکشن قوانین کی روشنی میں عمل درآمد کی تجاویز طلب کیں، قانونی ٹیم الیکشن ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق تجاویز دے گی اس کے لیے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس کل دوبارہ طلب کرلیا گیا۔

مخصوص نشستیں: الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں ہوسکتا، اسپیکر

اسلام آباد(سی ایم لنکس)اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا اور کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد مخصوص نشستیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمانی بالادستی و خودمختاری اور مخصوص نشستوں کا معاملہ اٹھادیا، انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا جس میں انہوں نے الیکشنز ایکٹ میں ترمیم سے آگاہ کیا۔ انہوں ںے خط کی کاپی الیکشن کمیشن کے تمام ممبران کو بھی ارسال کی ہے۔

اسپیکر ایاز صادق نے چیف الیکشن کمشنر سے خط میں کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد مخصوص نشستیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن ایکٹ میں تبدیلی ہوچکی ہے، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا جس کا اطلاق ماضی سے ہوتا ہے آپکی توجہ کے لیے الیکشن ایکٹ اس وقت نافذ العمل ہے چنانچہ الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کرے، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے اصولوں پر عمل کرے۔اسپیکر نے خط میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی الیکشن ایکٹ میں ترمیم لاگو ہوچکی ہے، سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ وہ آزادارکان کو کسی اور پارٹی میں شمولیت کی اجازت دے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے،

سپریم کورٹ کے فیصلے بعد پارلیمنٹ نے الیکشن ترمیمی ایکٹ سات اگست کو منظور کیا، وہ آزادارکان جو ایک سیاسی جماعت کاحصہ بن گئے انہیں پارٹی تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایکٹ کے تحت جس رکن نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ پارٹی سرٹیفکیٹ نہیں دیا وہ آزاد تصور ہوگا۔انہوں نے مخصوص نشستوں سے متعلق پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کا آئینی فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کا احترام کرے کیوں کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کی قانون سازی کی گئی الیکشن ایکٹ دوسری ترمیم پر الیکشن کمیشن مکمل عمل درآمد یقینی بنائے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
93398

مخصوص نشستیں؛ سپریم کورٹ نے وضاحت کی نہ کاز لسٹ جاری کی نہ ہی نوٹس، ڈپٹی رجسٹرار

Posted on

مخصوص نشستیں؛ سپریم کورٹ نے وضاحت کی نہ کاز لسٹ جاری کی نہ ہی نوٹس، ڈپٹی رجسٹرار

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)  مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے 8 ججز کی وضاحت سے متعلق اہم انکشاف سامنے آگیا۔ڈپٹی رجسٹرار نے اعتراض اٹھایا کہ 14 ستمبر کو 8 ججز کی وضاحت سپریم کورٹ ویب سائٹ پر تو جاری کی گئی، لیکن رات 8 بجے تک سپریم کورٹ کو وصول ہی نہ ہوئی جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے وضاحتی آرڈر جاری کرنے سے پہلے نہ نوٹس جاری کیا نہ ہی کاز لسٹ جاری کی گئی۔ڈپٹی رجسٹرار نے 8 ججز کی جانب سے جاری وضاحت پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو نوٹ لکھ دیا۔ نوٹ پورا معاملہ رجسٹرار سپریم کورٹ کے علم میں لانے کیلئے لکھا گیا۔ڈپٹی رجسٹرار نے نوٹ میں کہا کہ میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں کہ سپریم کورٹ نے 12 جولائی کے فیصلے پر کوئی وضاحت جاری کی ہے، لیکن اس کی نہ تو کاز لسٹ جاری کی گئی اور نہ ہی الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست پر متعلقہ فریقین کو رجسٹرار آفس کی جانب سے کوئی نوٹسز جاری کیے گئے۔ڈپٹی رجسٹرار نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی متفرق درخواست پر وضاحت سپریم کورٹ ویب سائٹ پر تو جاری کی گئی، لیکن یہ وضاحت سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کو رات 8 بجے تک وصول نہیں ہوئی۔ڈپٹی رجسٹرار نے لیٹر 14 ستمبر کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھا۔

یہ سپریم کورٹ سے ڈرے ہوئے ہیں، اس لیے آئینی عدالت بنارہے ہیں، عمران خان

راولپنڈی(سی ایم لنکس) بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کا صرف اور صرف مقصد مجھے جیل میں رکھنا ہے۔اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی ا?ئی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت کا قیام اس لیے عمل میں لایا جا رہا ہے کیونکہ یہ سپریم کورٹ سے ڈرے ہوئے ہیں، نئی ترامیم سے ملک کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کا صرف اور صرف مقصد مجھے جیل میں رکھنا ہے، حکمرانوں نے عدلیہ کا بیڑا غرق کرنے کافیصلہ کیا ہے، الیکشن فراڈ چھپانے کے لیے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے، یہ ڈرے ہوئے ہیں کہ اگر الیکشن کھل گیا تو سب کچھ ریورس ہو جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ ججز کو دھمکیاں،لوگوں کو اغوا کرنا، رول آف لاء کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اس سے بڑا ظلم ملک پر نہیں ہو سکتا، نیب ترامیم میں انہوں نے اپنے اربوں روپے معاف کروا کر اپنی چوری کو تحفظ دیا، یہ سب کچھ ملکی مفاد کے خلاف ہو رہا ہے، ایک سیاسی جماعت کو ختم کرنے سے سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ترمیم لانے والوں کے پیسے باہر پڑے ہوئے ہیں، حکومت میں بیٹھے لوگ عدلیہ کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے، اشرافیہ کا مفاد اور ملکی مفاد آپس میں متضاد ہیں، 6 ماہ میں 4 ہزار پاکستانی کمپنیاں دبئی میں رجسٹرڈ ہوئیں، ان کو تو فرق نہیں پڑنا ان کا پیسہ اور جائیدادیں باہر ہیں، محسن نقوی کی اہلیہ کی 500 ملین ڈالر کی پراپرٹی دبئی لیکس میں سامنے آئی اب ہم قرضے لیکر ملک چلارہے ہیں اسی لئے مہنگائی قابو میں نہیں آرہی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو اپنے حقوق اور عدلیہ کو بچانے کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا، میں ججز، عدلیہ اور صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہوں، یہ قاضی فائز کو دوبارہ لا کر عدلیہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں ہم اسکے خلاف خاموش رہیں گے، ہم اسکے خلاف بھرپوراحتجاج کریں گے، لاہور میں 21 تاریخ کو پرامن جلسہ ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
93259