The Voice of Chitral since 2004
Monday, 24 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

محکمہ خوراک کے گوداموں میں گزشتہ دو سالوں سے اسٹاک کردہ 2لاکھ بوری گندم کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے اسے کم قیمت پر عوام کو فروخت کیا جائے۔ پریس کانفرنس 

محکمہ خوراک کے گوداموں میں گزشتہ دو سالوں سے اسٹاک کردہ 2لاکھ بوری گندم کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے اسے کم قیمت پر عوام کو فروخت کیا جائے۔ پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) اپر اور لویر چترال کے اضلاع کی سول سوسائٹی کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی اور چیف سیکرٹری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ خوراک کے گوداموں میں گزشتہ دو سالوں سے اسٹاک کردہ 2لاکھ بوری گندم کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے اسے کم قیمت پر عوام کو فروخت کیا جائے ورنہ حکومت کی خزانے کو اربوں روپے کا ناقابل تلافی نقصان لاحق ہوسکتا ہے۔ ہفتے کے روز چترال پریس کلب میں ایون کے معروف سماجی کارکن فاروق احمد نے سابق یونین ناظم عبدالمجید قریشی، سابق تحصیل نائب ناظم مستوج فخر الدین اور ریٹائرڈ ایس ڈی پی او محمد صابر کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو سالوں سے بازار میں سستا آٹا کی دستیابی اور سرکاری گودام میں گندم کی مہنگی نرخ کی وجہ سے بڑی مقدار میں گودام اپر اور لویر چترال کے اضلاع کے 18سے ذیادہ گوداموں میں پڑے پڑے خراب ہورہے ہیں جبکہ دروش اور دوسرے مقامات میں واقع گوداموں میں اسٹاک شدہ گندم میں کیڑے پڑنے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں جوکہ تشویشناک بات ہے۔

محمد فاروق نے کہاکہ حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے نہ صرف گندم بلکہ ان گوداموں میں موجود کروڑوں روپے کی خالی بوریاں بھی خراب اور ناقابل استعمال ہورہے ہیں جبکہ ان کی نیلامی سے حکومتی خزانے میں کروڑوں روپے جمع ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا جب بڑی مقدار میں خراب گندم کو چند سال پہلے دریا بردکردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ موسم سرما کی آمد آمد ہے اور بازار میں آٹا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے اورسستے داموں گندم کی فراہمی نہیں ہوئی تو وادی میں برفباری کے بعد سخت غذائی قلت کے خطرات ابھی سے سر منڈلا رہے ہیں۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے چیف جسٹس آف پشاور ہائی کورٹ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا آز خود نوٹس لے لے۔

chitraltimes press confrence against Wheat pest infestation 2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
114938