اخوند سالاک اور مسماۃ رام : محبت، دعوت اور انقلاب کی داستان – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
اخوند سالاک اور مسماۃ رام : محبت، دعوت اور انقلاب کی داستان – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
تاریخ صرف جنگوں، معاہدوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال سے نہیں بنتی؛ بعض اوقات ایک خاموش محبت، ایک ذاتی وابستگی اور ایک روحانی کشش وہ کام کر جاتی ہے جو صدیوں کے فلسفے اور خطبے نہیں کر پاتے۔ اخوند سالاک اور براہ کی بیٹی ’’مسماۃ رام‘‘ کی داستان بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے، جس میں محبت، دعوت اور سماجی تبدیلی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر پورے خطے کی فکری سمت متعین کرتے ہیں۔ یہ تعلق محض ازدواجی بندھن نہیں بلکہ ایک فکری حکمت عملی تھی، جس نے قبائلی معاشرے کو نئی مذہبی شناخت عطا کی۔ اِس واقعے کی معنویت صرف شخصی نہیں بلکہ اجتماعی ہے، اور اس کی بازگشت آج بھی ان وادیوں میں سنائی دیتی ہے جہاں عقیدہ، روایت اور وابستگی ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی ہیں۔
اُڈیانہ، جس کا مطلب سنسکرت میں ’’باغ‘‘ ہے، ایک قدیم ریاست تھی جو موجودہ پاکستان کے علاقوں سوات، دیر، بونیر ، شانگلہ اور شمالی کوہستان سمیت مالاکنڈ کے کچھ علاقوں پر مشتمل تھی۔ یہ خطہ صدیوں تک بدھ مت، ہندو مت اور بعد ازاں اسلام کے اثرات کا مرکز رہا۔ یہاں کی سرزمین مذہبی، فکری اور تجارتی تبادلوں کی آماجگاہ تھی۔ اِسی تہذیبی تناظر میں محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاک کی دعوتی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں، جنہوں نے اِس خطے کے قبائل کو اسلام کی طرف مائل کیا۔ اُن کی شخصیت نہ صرف روحانی وقار کی حامل تھی بلکہ سماجی بصیرت، فکری گہرائی اور دعوتی حکمت عملی کا نمونہ بھی۔ اُن کی دعوت میں وہ نرمی، حکمت اور اثر پذیری تھی جو دِلوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی تھی، اور جس نے قبائلی معاشرے میں فکری انقلاب کی بنیاد رکھی۔
وادیٔ براہ، جو آج کل گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے میں واقع ہے، اپنی وجہ تسمیۂ شاید اِسی براہ نامی سردار یا براہ قبیلے سے اخذ کرتی ہے، جس کی بیٹی ’’مسماۃ رام‘‘ اخوند سالاک کی محبت میں جکڑی ہوئی تھیں۔ مقامی روایات کے مطابق، یہ تعلق صرف ذاتی وابستگی نہیں بلکہ ایک دعوتی محرک بھی تھا، جس نے قبائلی سطح پر مذہبی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ اخوند سالاک نے پہلے مسماۃ رام کو اسلام میں داخل کیا اور پھر اُن سے نکاح کیا، جس کے نتیجے میں ان کے اثر و رسوخ سے پورے قبیلے نے اسلام قبول کیا۔ اِس رشتے کے ذریعے بشغار، کوہستان، اور گرد و نواح کے کئی غیر مسلم قبائل اسلام میں داخل ہوئے۔ یہ واقعہ اِس بات کا مظہر ہے کہ جب محبت اور عقیدہ ایک دُوسرے کے معاون بن جائیں تو تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے۔
اِس تاریخی واقعے کی تفصیل دو معتبر علمی جریدوں میں محفوظ ہے، جو اِس داستان کو محض روایت نہیں بلکہ تحقیق کی بنیاد پر بیان کرتے ہیں۔ پہلا جریدہ ’’جرنل آف دی رائل ایشیاٹک سوسائٹی آف گریٹ برٹین اینڈ آئرلینڈ‘‘ ہے، جو ایشیائی علوم پر علمی مضامین کا اہم ماخذ ہے۔ دُوسرا جریدہ ’’زینٹرلاسیاتیشے اشٹوڈین‘‘ ہے، جو وسطی ایشیا کی زبانوں، ثقافتوں اور تاریخ پر تحقیقاتی مضامین شائع کرتا ہے۔ اِن دونوں حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوند سالاک کی دعوتی سرگرمیاں محض مذہبی تبلیغ نہیں بلکہ سماجی اصلاح، روحانی بصیرت اور فکری حکمت عملی کا امتزاج بھی تھیں، جنہوں نے قبائلی معاشرے کو اندر سے بدل کر رکھ دیا۔
جرنل آف دی رائل ایشیاٹک سوسائٹی میں میجر ہیرالڈ ڈین نے 1896ء میں اُڈیانہ اور گندھارا پر لکھے گئے اپنے مقالے میں اِس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اُن کے مطابق دیر اور اُس کے آس پاس کے قبائل نے تقریباً اڑھائی سے تین سو سال قبل اسلام قبول کیا، اور اِس تبدیلی کا محرک ایک خاتون ’’مسماۃ رام‘‘ تھیں جو براہ نامی شخص کی بیٹی تھیں۔ وہ اخوند سالاک کی محبت میں اِس طرح مبتلا تھیں کہ اُن کی وابستگی نے دعوتی عمل کو مہمیز دی۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ آیا ان کا نکاح ہوا یا نہیں، لیکن یہ ضرور درج ہے کہ ’’کہا جاتا ہے کہ اس لڑکی اور اس کے خاندان کے ذریعے ان لوگوں کو اسلام کی طرف لایا گیا‘‘۔ اِس بیان سے اخوند سالاک کی اس حکمت عملی کا اندازہ ہوتا ہے جس میں ذاتی تعلق کو روحانی تبدیلی کا ذریعہ بنایا گیا۔
’’زینٹرلاسیاتیشے اشٹوڈین (1991ء )‘‘ کے مقالہ نگار لکھتے ہیں کہ اخوند سالاک کو براہ کی طرف دعوت دی گئی تاکہ وہ وہاں پرامن طریقے سے اسلام کی تبلیغ کریں۔ یہ دعوت انہیں دو نو مسلم بھائیوں نے دی تھی، جنہوں نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ مقالے میں ایک نہایت اہم اور جذباتی پہلو یوں بیان ہوتا ہے: اخوند سالاک کی شخصیت نہ صرف فکری و روحانی اعتبار سے مؤثر تھی بلکہ ان کی ظاہری وجاہت، اندرونی وقار اور دعوتی بصیرت نے براہ کی بیٹی کو بھی اپنی طرف مائل کر لیا تھا۔ مقالہ نگار کے مطابق، ’’اخوند سالاک پہلے اُس لڑکی کو اسلام میں داخل کرنا اور پھر اُس سے شادی کرنا چاہتے تھے۔‘‘ یہ جملہ صرف ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک روحانی حکمت عملی کی جھلک ہے، جو محبت اور دعوت کو ہم آہنگ کر کے ایک بڑے سماجی و مذہبی انقلاب کی بنیاد رکھتی ہے۔
یہ واقعہ ’’دی ویوو فرام مالاکنڈ‘‘ نامی کتاب میں بھی محفوظ ہے، جو 1888ء سے 1897ء کے درمیان ہیرالڈ ڈین کی جانب سے لکھے گئے خطوط پر مبنی ہے۔ ہیرالڈ ڈین ایک برطانوی فوجی افسر کے طور پر مالاکنڈ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اُن کے مشاہدات تاریخی و سماجی اہمیت کے حامل ہیں اور اخوند سالاک بابا کی دعوتی بصیرت کو اُجاگر کرتے ہیں۔ اُن کی تحریروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اخوند سالاک بابا اور مسماۃ رام کی وابستگی نے دو مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک روحانی پل تعمیر کیا، جس نے خطے میں فکری ہم آہنگی اور مذہبی شعور کو فروغ دیا۔
یہ داستان صرف کتابوں یا مقالات میں محفوظ نہیں بلکہ مقامی روایات میں بھی زندہ ہے، جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ وابستگی، عقیدہ اور تاریخ کا سنگم ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اخوند سالاک اور مسماۃ رام کی قربت نے صرف دو افراد کو نہیں بلکہ دو مختلف ثقافتوں، مذاہب اور قبائلی شناختوں کو قریب لا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ یہ تعلق ایک دعوتی حکمت عملی بھی تھا اور ایک جذباتی وابستگی بھی، جس نے محبت کو عقیدے کا ذریعہ بنا کر ایک پورے خطے کی روحانی سمت متعین کی۔
یہ داستان ہمیں سکھاتی ہے کہ تاریخ کے دھارے کو بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑی جنگیں یا سیاسی انقلاب ضروری نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ایک شخص کی بصیرت، ایک عورت کی وابستگی اور ایک رشتے کی روحانیت وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر نسلیں اپنی شناخت تعمیر کرتی ہیں۔ اخوند سالاک اور مسماۃ رام کا تعلق اِسی بنیاد کی ایک روشن مثال ہے، جو آج بھی ان پہاڑی وادیوں میں گونجتا ہے، اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ محبت اور عقیدہ جب ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جائیں، تو تاریخ کا رُخ بدلنا ممکن ہو جاتا ہے۔
