چترال اپر اور لوئیر میں گزشتہ تین دنوں کے اندر چار افراد کی مبینہ خودکشی ، خودکشی کے مرتکب افراد میں تین خواتین اور ایک نوجوان شامل
چترال اپر اور لوئیر میں گزشتہ تین دنوں کے اندر چار افراد کی مبینہ خودکشی ، خودکشی کے مرتکب افراد میں تین خواتین اور ایک نوجوان شامل
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) جمعہ کے روز اپر چترال میں ایک مرد اور لویر چترال میں ایک نو عمر خاتون نے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا جس کے ساتھ گزشتہ تین دنوں کے اندر خود کشیوں کی تعداد چار تک پہنچ گئی۔
پہلے واقعہ میں چیو بازار کے علاقے میں نوعمر لڑکی نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی جہاں اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی جس کی لاش بعد میں ریسکیو ۱۱۲۲ کی ٹیم نے اورغوچ لشٹ سے دریا سے نکال کر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردی، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد والدین کے حوالے کر دی گئی۔
سب ڈویژنل پولیس آفیسر سٹی سرکل سجاد حسین نے چترال ٹائمز کو بتایا خود کشی کرنے والی خاتون کا تعلق سنگور گاؤں سے تھا جس کے والدین نے اپر چترال سے نقل مکانی کی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دوشیزہ کی شناخت زینت دختر عبدلحسین سکنہ موڑکھو حال سنگور کے نام سے ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی خودکشی کی فوری وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے جبکہ پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ اس واقعہ کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
خودکشی کا دوسرا واقعہ اپر چترال کی وادی لاسپور کے گاؤں رامان میں زار نبی نامی نو بیاہتا نوجوان نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا جس نے مقامی پیدل چلنے والے پل سے دریا میں چھلانگ لگا دی۔متوفی سکندر شاہ (ریٹائرڈ پولیس ) کا بیٹا تھا۔
سب ڈویژنل پولیس آفیسر مستوج سرکل شیر راجہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متوفی کی شادی تین روز قبل ہوئی تھی جبکہ اس کی لاش دریا سے برآمد کرنے کے لیے تلاش جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں مستوج سرکل میں خودکشی کے ایک اور واقعے میں نصر گول کی ایک شادی شدہ خاتون نے پرکوسپ پل سے مبینہ طور پر دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی جہاں وہ چوئنچ میں اپنے میکے گئی ہوئی تھی، خاتون کی شناخت فدائی قبول ساکن نصرگول سے ہوئی ہے ۔ جس کی لاش بعد میں دریا سے برآمد ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے دونوں واقعات کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری شروع کر دی ہے۔
اسی طرح گزشتہ دنوں تھانہ موڑکھو کی حدود میں خودکشی کا ایک اور واقعہ پیش آیا، گاؤں کوشٹ میں نویں جماعت کی طالبہ نے کوشٹ کے پل سے مبینہ طور پر چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا جبکہ لاش کی برآمدگی ابھی باقی ہے۔
ان واقعات کی وجوہات گھریلو ناچاقی، ذہنی دباؤ اور بعض ذاتی تنازعات بتائی جا رہی ہیں


