The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

لیکشن بی بی کی طرف سے بھیجی گئی کتابوں پر جمعیت علمائے اسلام کی طرف سےتشویش کا اظہار، کتابوں کی ڈونیشن چترال کی مذہبی، تہذیب، ثقافت اور پرامن ماحول کے لئے خطرناک قرار 

Posted on

لیکشن بی بی کی طرف سے بھیجی گئی کتابوں پر جمعیت علمائے اسلام کی طرف سےتشویش کا اظہار، کتابوں کی ڈونیشن چترال کی مذہبی، تہذیب، ثقافت اور پرامن ماحول کے لئے خطرناک قرار۔ پریس ریلیز

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) جمعیت علماء اسلام تحصیل لوئیر چترال،کیلاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون لیکشن بی بی کی زیرگردش ایک ویڈیوپیغام جس میں موصوفہ ضلع چترال کے لئے کتابوں سے بھرا ہوا ایک کنٹینر بقول موصوفہ تقریباََ ایک لاکھ کتابیں وقف کرنے کا اعلان کر رہی ہے، جمعیت علماء اسلام تحصیل لوئر چترال اس پر اپنی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس ڈونیشن کو چترال کی مذہبی، تہذیب، ثقافت اور پرامن ماحول کے لئے خطرناک قرار دے رہی ہے۔

جمعیت علماء اسلام تحصیل چترال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ موصوفہ خود اپنی جاری کردہ ویڈیو پیغام میں ان کتابوں کی ایک تہائی حصے کی بابت یہ اعتراف کر رہی ہے کہ ان کے موا د او ر لٹریچر کے بارے میں خود ان کو بھی کوئی علم نہیں ہے
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ کتابیں نیویارک کے نصاب کے مطابق ترتیب و تشکیل دی گئی ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نیو یارک اور ضلع چترال کے مابین مذہبی، تہذیبی،معاشرتی اور ثقافتی اعتبار سے زمین و آسمان کا فرق ہے۔

چترال کے معروضی حالات کو پیش نظر رکھ کر جمعیت علماء اسلام تحصیل لوئیر چترال کا دو ٹوک موقف یہ ہے کہ ان جیسے نا معلوم مواد اور لٹریچرکا چترال کی دھرتی کوچنداں ضرورت نہیں۔

اور عین ممکن ہے کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارنہ امور کے ارتکاب سے چترال کے امن، ثقافت، اور تعلیمی ماحول کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
لہذا جمعیت علماء اسلام تحصیل لوئیر چترال اس بابت انتظامیہ اور چترالی عوام کی نوٹس میں یہ بات لانا چاہتا ہے کہ ضلع چترال کے معروضی حالات کو پیش نظر رکھ کران جیسے امور کا فی الفور نوٹس لیا جائے،تاکہ چترال جیسے پر امن علاقے کے امن کو کوئی گزند نہ پہنچے۔
ان کی روشنی میں انتظامیہ سے گزارش ہے کہ۔۔!
۔ عطیہ کردہ کتابوں کے مواد غیر چھان بین شدہ ہیں

۔ مقامی اقدار اور نصاب کے معیارات کے ساتھ ان کی کوئی مطابقت نہیں ہے

۔ اس سے تعلیم پر یہ اثر پڑسکتا ہے کہ یہ کتابیں اور مواد متعارف کرانے سے متنوع نقطہ نظر سامنے آسکتے ہیں، بلکہ موجودہ نصاب میں بھی ممکنہ طور پر خلل پڑ سکتا ہے۔ یہ طلباء اور اساتذہ کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

اسلئے چترال کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
کیونکہ ہمیں دین اسلام اور چترال کے امن وثقافت سے بڑھ کر کوئی شے عزیز نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام تحصیل لوئر چترال خطے کے تعلیمی نظام پر بیرونی اثرات پر محتاط غور و فکر اور جانچ پڑتال کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ چترال میں امن اور ہم آہنگی سب سے اہم ہے اور ان اقدار کو لاحق کسی بھی ممکنہ خطرات سے فوری طور پر نمٹا جانا چاہیے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
101238