The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 25 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ لوٹ مار ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ لوٹ مار ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں جیسے ہی حاجی صاحب کے دفتر میں داخل ہوا وہ سفید لٹھے کے مائع شدہ لباس سر سبز موتیوں سے سجی سنہری ٹوپی چہرے پر چاندی کی طرح سفید داڑھی چہرے پر چالاک خوشامدی مسکراہٹ سجائے اپنی کرسی سے اٹھ کر گرم جوشی سے میری طرف بڑھے۔گرم جوشی سے جپھی ڈا ل کر مجھے چوما پھر اپنی جیب سے عطر کی خوبصورت چھوٹی سی شیشی نکال کر میرے ہاتھ پر عطر لگا کر مجھے معطر کیا پھر میری راہنمائی کر تے ہوئے مجھے اپنی میز کے سامنے آرام دہ مہنگی کرسی پر بٹھا کر پھر دل آویز پیار بھری مسکراہٹ سے میری طرف دیکھا اور جاکر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔حاجی صاحب اپنے شاندار مشفقانہ روئیے سے بھر پور تاثر چھوڑ نے میں کامیاب ہو چکے تھے

اپنے اِس تاثر کے سلسلے کو دراز کر تے ہوئے شاندار صحت مند لذت سے بھر پور سعودی عرب کی عجوہ امبر مبروم شکری کھجوروں کی بھری ہوئی چمک دار طشتری میرے سامنے رکھتے ہوئے بولے جناب آپ کے لیے خاص طور پر سعودی عرب سے منگوائی ہیں اِس کے ساتھ ہی چھوٹے سے بلوری جام نما شیشے کے گلاس میں آب زم زم انڈیلا بھرپور مسکراہٹ شہد جیسے میٹھے لہجے جناب آپ کے لیے آب زم زم حاضر ہے اِس کو اٹھ کر قبلہ شریف کی طرف منہ کر کے نوش فرمائیں آب زم زم کا سنتے ہی میری رگوں میں عقیدت کے جذبات دوڑنے لگے۔میں نے مشکور نظروں سے حاجی صاحب کی طرف دیکھا اور ان کی ہدایت کے مطابق کھڑے ہو کر اپنے حلق کو آب زمزم سے تر کرنے لگا آب زم زم کے کرشماتی اثرات سے میرے جسم کا انگ انگ جھومنے لگا ابھی میں آب زم زم کے سحر سے نکلا نہیں تھا کہ حاجی صاحب نے اپنی میزبانی اور محبت کا ایک اور خوبصورت حملہ قہوے کی صورت میں کر دیا۔

مہنگے ترین چینی کے کپوں سے گرما گرم معطر قہوے کی بھاپ میرے مشام جان کو کیف اور سرور کی نعمت سے سرفراز کر نے لگی گرما گرم سنہرے قہوے کے درمیان خاص جڑی بوٹیوں کے پتے تیر رہے تھے ان جڑی بوٹیوں کی افادیت پر حاجی صاحب سیر حاصل روشنی ڈال کر ہمیں قہوے کے فوائد بتا رہے تھے۔میں قہوے کا گرما گرم بھاپ اڑاتا کپ اٹھانے لگا تو حاجی صاحب نے شیشے کا چھوٹا سا جار آگے سرکایا جس کے اندر سنہرے رنگ کا چھوٹا سا چمچہ رکھا ہوا تھا حاجی صاحب بولے یہ شہد بھی وادی سوات سے خاص طور پر منگوایا گیا ہے جو جسم کے ہر بال سے بیماری نکال کر انسان کو جوان زندہ اور تازہ دم کر دیتا ہے یہ شہد سو بیماریوں کا خاص علاج ہے پھر دو چمچے بھر کر قہوے کے کپ میں ڈال کر اس کو تابعداری سے ہلاتے ہوئے بولے جناب یہ خاص طور پر آپ کے لیے نکالا ہے خاص شہد خاص لوگوں کے لیے ہے۔عام لوگ اِس کے کرشماتی اثرات سے واقف نہیں ہیں

اب ہم خوشبودار خالص شہد اور جڑی بوٹیوں والے قہوے کے ساتھ عجوہ امبر مبروم کھجوروں کے ساتھ ذائقوں کی دنیا دنیا سے متعارف ہونے لگے کھجوریں واقعی بہت لذیذ صحت مند رس بھری تھیں ہر کھجور اپنا ہی الگ ذائقہ خوشبو رکھتی تھی حاجی صاحب کی کولیکشن واقعی لاجواب تھی اِسی دوران حاجی صاحب نے اپنی دراز کھول کر شیشے کے ڈبے کو سامنے رکھ کر اس کا ڈھکن کھول دیا جس میں کاجو بر فی کے ترتیب سے جڑے ٹکڑے دعوت نظارہ کے ساتھ دعوت طعا م بھی دے رہے تھے اب حاجی صاحب نے کاجو برفی کے قصیدے پڑھنا شروع کر دئیے۔اب ہمارے ہاتھ کاجو برفی کے ساتھ بھی انصاف کر نے لگے اِس دوران حاجی صاحب محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کبھی کوئی کھجور کبھی برفی کا ٹکڑا نہایت خلوص سے اپنے ہاتھ سے پیش کر تے جارہے تھے ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ حاجی صاحب تھوڑا آگے جھکے اور بولے جناب یہاں پاس ہی بریانی بہت اعلی تیار ہوتی ہے

اگر اجازت دیں تو بریانی منگواں یا پھر مٹن قہوی منگواں تو میں نے سختی سے منع کر دیا تو انہوں نے چند مو سمی پھلوں کا ذکر کیا کہ آج کل یہ پھل بازار میں آئے ہو ئے ہیں جو میں نے سختی سے منع کر دیا۔حاجی صاحب پیار محبت میزبانی کے سارے ریکارڈ توڑنے پر تلے ہوئے تھے یہ میری حاجی صاحب سے پہلی ملاقات تھی میرا ایک جاننے والا بہت دنوں سے میرے پیچھے پڑا ہوا تھا کہ اس کے جاننے والے حاجی صاحب ہیں بہت نیک ہیں کئی حج اور بے شمار عمرے کر چکے ہیں اللہ نے بہت رزق دے رکھا ہے سخاوت بھی بہت کر تے ہیں آجکل اپنے بیٹے کے ہاتھوں بہت تنگ آچکے ہیں بیٹے کے سدھار کے لیے آپ سے ملنا چاہتے ہیں دو دفعہ مجھ سے ملنے میرے گھر آچکے ہیں لیکن میری ملاقات نہیں ہوئی میں نے حاجی صاحب کو آپ کے بارے میں بتا یا تو وہ دو بار آپ کے گھر بھی گئے لیکن ملاقات نہیں ہوئی ایک بار دفتر بھی گئے لیکن لوگوں کا ہجوم دیکھ کر چلے گئے

اب میرے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ کسی طرح ایک بار پروفیسر صاحب کو میرے دفتر لے کر آ تو اِس بیچارے نے مجھے کہا تو شروع میں تو میں نے انکار کر دیا لیکن اِس کے بار بار کہنے پر میں آج ساتھ چلا آیا یہاں آنے کی وجہ یہ تھی کہ بقول اِس کے حاجی صاحب کی خواہش ہے کہ میں گناہ گار ان کے دفتر میں تشریف لا ں برکت کے لیے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ حاجی صاحب کا دفتر شکار گاہ ہے جہاں پر وہ اپنے گفتگو روئیے میزبانی چرب زبانی سے آنے والے معصوم لوگوں کے خوابو ں سے کھیلتے ہیں یہ ان باتوں کا پتا بعد میں چلا اب میں اور میرا دوست حاجی صاحب کے سامنے بیٹھے تھے۔حاجی صاحب اپنے روئیے اور میزبانی سے اپنی بھرپور دھاک بٹھا چکے تھے اب میں بولا حاجی صاحب حکم کریں آپ نے کس لیے مجھ نا چیز کو یہاں طلب کیا تو اچانک حاجی صاحب اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بولے پروفیسر صاحب یہ دنیا داری تو چلتی رہے گی

نماز کا وقت ہے آئیں پہلے نماز پڑھ لیں ان کے عملے نے کرسیاں سائیڈ پر کر کے جائے نماز بچھا دئیے تو حاجی صاحب بولے آپ امامت کرائیں تو میں نے شرمندگی سے کہا میں گناہ گار اِس قابل کہاں تو وہ خود امامت کے لیے کھڑے ہو گئے ہم نے ان کی امامت میں نماز پڑھی نوافل اور سنتیں ادا کر نے کے بعد انہوں نے رقت آمیز لہجے میں خشوع خضوع سے رو رو کر دعا مانگی۔حاجی صاحب کے ماتھے پر نشان ان کے پکے نمازی کی گواہی دے رہا تھا نماز کے بعد ہم پھر آمنے سامنے بیٹھ گئے تو حاجی صاحب نے سچے موتیوں پر مشتمل خوبصورت تسبیح کھجوریں عطر نکال کر مجھے پیش کیا اور بولے آپ کا شکریہ کس طرح ادا کروں۔میری جان حاضر ہے کوئی حکم ہو تو میں حاضر ہوں عمرے حج کاکام کر تا ہوں اِس بار آپ کو عمرے پر بھی بھیجنا ہے وہ لگا تار اپنی میزبانی پر فارمنس سے مجھے ذبح کر نے پر تلے ہو ئے تھے اب جب انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ مجھے متاثر بلکہ گھائل کر چکے ہیں تو بولے جناب میرا ایک ہی بیٹا ہے جو اب جوان ہو کر جوانی کے نشے میں دھت عیاشیوں کے ریکارڈ تو ڑ رہا ہے آجکل کسی طاقتور سیاسی وڈیرے کی بیوی کا عاشق ہو کر اس کے پیچھے پڑ ا ہوا ہے اس عورت نے چند دن اِس کو ورغلایا جھوٹے وعدے کئے جب اس کے خاوند کو پتہ چلا تو وہ بھاگ گئی

اب وہ اِس کا فون نہیں اٹھاتی نہ ہی کوئی بات کر تی ہے یہ پاگل اس کے پیچھے ہر خوف سے آزاد ہو چکا ہے ہم نے بہت سمجھایا لیکن یہ باز نہیں آرہا خدا کے لیے اِس کے سر سے عشق کا بھوت تو اتاریں پھر وہ دیر تک اپنی بے بسی پریشانی سناتے رہے میں نے ذکر اذکار دئیے اور واپس آگیا اِس کے بعد بیٹے کی پریشانی کے لیے حاجی صاحب میرے پاس آتے رہے میں نے چند ملاقاتوں میں ہی جان لیا تھا کہ وہ نماز میزبانی اپنے ذاتی مفاد کاروبار گاہک پھنسانے کے لیے کرتے ہیں لوگ ان کی عبادت حاجی پن اور نمازوں سے متاثر ہو کر ان پر اعتباار کر تے ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر یہ امیر لوگوں کو پھنسا کر ان کو عمرہ حج کراتے ہیں ساتھ میں کر نسی تبدیل کرنے کا دھندہ بھی کرتے ہیں میں نے ایک دن اِن کو سمجھایا کہ آپ حاجی نمازی اپنے کاروبار کے لیے نہیں خدا کے لیے یہ عبادت خدا کے لیے کریں اور دل سے سچی تو بہ کریں نہیں تو آپ کی چالاکیاں سب ایک دن پکڑی جائیں گی لیکن حاجی صاحب توبہ کی طرف نہ آئے چند ملاقاتوں کے بعد دوسرے پروفیشنل بابوں پر اپنی دولت لٹانے لگے

چند ماہ گزر گئے کہ اچانک حاجی صاحب میرے پاس آئے تو اجڑے ہوئے ویران خزاں زدہ پرانے سلوٹوں والے کپڑوں میں ہارے ہوئے جواری کی طرح آتے ہیں بولے پروفیسر صاحب کاش میں آپ کی بات مان کر سچی توبہ کر لیتا اور خدا کو مجھ چالاک عیار پر ترس آجاتا میں دولت چالاکی میں مست تھا کہ بیٹا اس عورت کے گھر چلا گیا جا کر اس کو اغوا کر نے کی کو شش کی تو انہوں نے گولیاں مار کر ختم کر دیا میرا سب کچھ لٹ گیا میں ساری زندگی اپنی چرب زبانی چالاکی سے لوگوں سے کھیلتا رہا آخر میں تقدیر نے ایک ہی وار کر کے مجھ سے سب کچھ چھین لیا پروفیسر صاحب مجھے توبہ کا طریقہ بتا ئیں تو میں بولا انسانوں کو لوٹنا بند کریں اور عبادت نمازیں صرف خدا کے لیے شروع کردیں وہ ماں سے زیادہ شفیق رب تم کو معاف کر دے گا اور تمہاری آخرت سنور جائے گی پھر حاجی صاحب تو بہ کا وعدہ کر کے چلے گئے اور میں سوچنے لگا انسان اپنی چالاکی عیاری کے وقت یہ بھول جاتا ہے کہ اِس کائنات کا مالک خدا بھی ہے جو حرکت میں آجاتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
116787

بزمِ درویش ۔ لوٹ مار۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ لوٹ مار۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ستر سالہ بوڑھی ماں اپنی بیٹی کے ساتھ دو سال بعد میرے پاس آئی دونوں کے چہروں پر خوف و ہراس چھا یا ہوا تھا خوف سے زبان بھی لرز رہی تھی بار بار ایک ہی شکوہ کر رہی تھیں کہ کرونا کی وبا پھوٹنے سے پہلے آپ کے آستانہ پر ریگولر حاضری ہو تی تھی تو زندگی آسان تھی لیکن جب کرونا کے بعد کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا تو ہم بھی گھر میں دبک کر بیٹھ گئیں آج میرے آفس کا پتہ کر کے دوبارہ مجھ سے ملنے آئیں دونوں کی حالت زار پریشانی اورخوف سے لگ رہا تھا کسی بڑی پریشانی یا ایمرجنسی میں آئی ہیں کیونکہ میں جب مختلف لوگوں سے مل رہا تھا تو بیٹی بار بار مجھ سے آکر کہتی امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہم کو جلدی مل لیں بوڑھی ماں کچھ فاصلے پر ایک بینچ پر حسرت و یاس کی تصویر بنی بیٹھی تھی مجھے دونوں کا کیس یاد آگیا کرونا سے پہلے بوڑھی ماں اپنی تیس سالہ بیٹی کے رشتے کے لیے میرے پاس آیا کرتی تھیں بائیس سال کی عمر میں بیٹی کی شادی کی لیکن لوگ لالچی نکلے لڑکے کی پہلے بھی شادی تھی لہذا ماں نے طلاق لے لی کیونکہ سسرالیوں کی نظر بوڑھی ماں اور دو مہنگے گھروں پر تھی بوڑھی ماں کا دنیا میں صرف ایک بیٹا جو سالوں سے امریکہ میں جا کر گورا بن گیا تھا

اس نے کبھی مڑ کر ماں کی خبر نہ لی کبھی بھولے سے فون یا کچھ پیسے بھیج دیتا۔بوڑھی ماں کے خاوند نے اپنی زندگی میں دو گھر بنائے تھے اور کچھ پیسہ سیونگ بچت میں رکھوا دیا تھا اب بوڑھی ماں سیونگ کے پیسوں کے ساتھ ایک گھر کے کرائے اور دوسرے گھر کے ایک پورشن پر گزار ا کر رہی تھی اِس طرح مالی تنگی نہیں تھی دونوں گھروں کا معقول کرایہ آنے کی وجہ سے زندگی کی گاڑی آسانی سے رواں دواں تھی بیٹی خوب پڑھی لکھی تھی اس کی جاب بھی اچھی تھی دونوں نے اچھی کار رکھی ہوئی تھی گھر کا خرچہ چلانے کے بعد بھی اچھی خاصی رقم بچ جاتی جس کو بوڑھی ماں خیرات وغیرہ یا عاملوں کو نذ نیاز میں دے دیتی میرے پاس جب آئی تو ایک تو بیٹی کا دوبارہ رشتہ ہو جائے دوسرا کسی لالچی عامل نے شک میں ڈال دیا کہ بیٹی کے پہلے سسرالیوں نے آپ دونوں پر بہت زیادہ جادو ٹونہ بلکہ جنات چھوڑ دئیے ہیں

اب ان آسیبی اثرات کی وجہ سے بیٹی کا رشتہ نہیں ہو رہا اور آپ دونوں کی صحت بھی ان آسیبی اثرات کی وجہ سے خراب رہتی ہے عاملوں نے بیچاریوں کے دماغ خراب بلکہ نفسیاتی مریض بنا دیا تھا رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ڈپریشن مایوسی کا شکار تھیں اس ڈپریشن مایوسی کو دونوں جادو آسیب کا نام دیتیں کہ پرانے سسرالی ہم پر مسلسل جادو کر رہے ہیں تاکہ ہمارے گھروں پر قبضہ کر سکیں میرے پاس آنے والے پرانے مایوس مریضوں میں اکثریت ایسے بنگالی عاملوں کی ڈسی ہوتی ہیں ایسے پریشان مایوس لوگوں کو اپنے قبضے میں رکھنے اور اِن کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کے لیے عامل حضرات ایسے لوگوں کو مسلسل خوف میں مبتلا رکھتے ہیں کہ آپ لوگوں پر کوئی مسلسل جادو کرا رہا ہے لہذا مجھے اس جادو کے توڑنے کے لیے اتنے پیسے بکرے کڑاہیاں چاھیں تاکہ میں آپ لوگوں کا حصار یا بچا کر سکوں اور یہ مایوس نفسیاتی مریض بیچارے اپنے باطنی خوف اضطراب کی وجہ سے ایسے عاملوں کی جیبیں بھرتے رہتے ہیں میرے پاس آنے والوں میں ایسے بھی لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے دماغوں میں یہ بات پتھر کی لکیر کی طرح نقش ہو چکی ہو تی ہے کہ فلاں رشتے دار یا بندہ نان سٹاپ اس پر جادو کر رہا ہے

آپ ایسے نفسیاتی مریضوں کو جتنا مرضی سمجھا لیں یہ بیچارے نہیں مانیں گے بلکہ خود ہی آکر بولیں گے سر ہم پر کا لا جادو فلاں جادو بندش ہوئی ہے آپ اِس کا جادو بندش کا توڑ علاج کریں اِس کو ہم بڑے سے بڑا معاوضہ ادا کرنے کو تیار ہوں جب میں ایسے معصوم لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ سے کس نے کہا آپ پر جادو ہے تو کسی عامل کا نام لیں گے کہ اس نے ہمارے مخالفین کی نشاندہی کی ہے یا کسی رشتہ دار نے بتایا ہے پھر یہ بیچارے ایک عامل سے دوسرے عامل کے پاس اپنی زندگی کی کمائی لٹاتے نظر آتے ہیں ایسے پریشان لوگوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے کہ وہ دل و دماغ میں بیٹھا چکے ہوتے ہیں کہ ان پر جادو ہو چکا ہے اب اگر میں ایسے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کروں تو یہ کہتے ہیں بھٹی صاحب کو ہمارے کیس کی سمجھ نہیں آتی یا پھر ابھی عامل کامل نہیں ہے اس کو تو کسی بات کا پتہ ہی نہیں ہے لہذا وہ مجھے فیل کر کے کسی نئے عامل کی تلاش میں نکل جاتے ہیں اور اگر میں ان کی ہاں میں ہاں ملا دوں تو بہت خوش ہوتے ہیں کہ سر نے ہماری ٹھیک تشخیص کی ہے اِن کو سب نظر آگیا ہے کہ ہم پر کس قدر زیادہ جادو ہے یا ہمارے گھر پر کتنے جنات کا بسیرا ہے لہذا میں اِن کو عاملوں کی لوٹ مار سے بچانے کے لیے کہتا ہوں ہاں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں

اثرات تو آپ پر ہیں اب آپ پریشان نہ ہو آپ کا بھر پور مکمل علاج کرتے ہیں اور پھر میں علاج بھی وہی کرتا ہوں جو ایسے جناتی آسیبی مریضوں کا ہوتا ہے کہ اگر جادو وغیرہ ہے یا نہیں ہے لیکن میں احتیاط وہی کر دیتا ہوں پھر ایسے لوگوں کو کچھ عرصہ مصروف کر کے ذکر اذکار کرا کے کہہ دیتا ہوں کہ اب آپ کا علاج ہو گیا ہے لیکن کیونکہ ان کو ایسے وہموں کے ساتھ رہنے کی عادت پڑ چکی ہو تی ہے اِس لیے چند دن یا مہینوں کے بعد پھر پریشانی کی مایوس تصویر بنے بیٹھے ہوتے ہیں کہ سر ہم پر پھر جادو ہو گیا ا ور میں پھر سے علاج شروع کر دیتا ہوں یہاں میں اِس بات کا اقرار کر تا چلوں کہ یہ نہیں ہے کہ میرے پاس آنے والے سارے ہی وہم یا نفسیاتی مریض ہوتے ہیں نہیں بلکہ بہت سارے لوگو ں پر جادو آسیب اور بندش ہو تی ہے لہذا ایسے آسیبی لوگوں کا میں دل سے علاج کر تا ہوں تاکہ وہ شفا یاب ہو کر نارمل زندگی گزا ر سکیں اس پس منظر کے بعد قارئین کو ایسے کیسوں کی بخوبی سمجھ آگئی ہو گی

اب ہم اس ماں بیٹی کے کیس کی طرف آتے ہیں جب کرونا کی وجہ سے میری ملاقاتیں بند ہو گئی تو اِن کو اب روحانی مشاورت علاج کی عادت تھی انہوں نے آن لائن قاری صاحب ڈھونڈے جنہوں نے اِن کا علاج شروع کر دیا عامل تیز تھا وہ جان گیا ماں بیٹی اکیلی ہیں جائیداد ہے لہذا اس نے اِن کو اِس طرح شکا رکیا کہ آپ کا ہر ماہ علاج ہو گا جس کے لیے آپ مجھے پچاس ہزار ہر ماہ دیں گے عامل اب روحانی لٹیرا بن کر اِن کو لوٹ رہا تھا یہ ہر ماہ باقاعدگی سے پچاس ہزار دے رہی تھیں اب اس نے کچھ عرصے سے مطالبہ کیا کہ علاج بہت مشکل ہے اِس لیے میری رقم ایک لاکھ کر دیں جو اِن بیچاروں کے لیے مشکل تھا اب انہوں نے بہانے بنانے شروع کر دیے تو اس نے دھمکیاں دینی شروع کر دیں

یہ بیچاری زیورات وغیرہ بیچ کر کچھ عرصہ تو دیتی رہیں لیکن جب عامل باز نہ آیا تو مجھے ڈھونڈ کر میرے پاس آئیں اور بیٹی نے ساری بات مجھے بتا دی میں نے بیٹی سے عامل کا ایڈریس اور فون نمبر لیا دونوں کو پڑھائی دے کر بھیج دیا بعد میں پولیس میں اپنے دوست کو عامل صاحب کا نمبر دیا دوست نے عامل صاحب کو بلا کر اس کی طبیعت صاف کر دی ایک ماہ گزر گیا تو بوڑھی ماں مٹھائی لے کر آئی پروفیسر صاحب آپ کے عمل کی وجہ سے قاری صاحب نے دھمکیاں دینا بند کر دیں ہیں جبکہ میں جانتا تھا عامل صاحب کس طرح چپ ہوئے ہیں ماں تو خوشی سے چلی گئی لیکن میں سوچنے لگا ہماری عوام کی بزدلی کی وجہ سے روحانی لٹیرے لوٹ مار کرتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
99500