لواری پاس کے مقام پر شدید برفباری میں ٹاور گرنے کے باعث اپرچترال کو وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق آج یکم فروری کو بجلی دینے کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہوسکی۔پیسکو ذرایع
لواری پاس کے مقام پر شدید برفباری میں ٹاور گرنے کے باعث اپرچترال کو وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق آج یکم فروری کو بجلی دینے کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہوسکی۔پیسکو ذرایع
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) نیشنل گرڈ سے چترال کو ملنے والی بجلی لواری پاس کے مقام پر گزشتہ دن کی شدید برفباری میں ٹاور گرنے کی وجہ سے معطل ہے جس کے باعث اپرچترال کو وزیراعظم کی ہدایت اور پیسکو و پیڈو کی معاہدے کے مطابق آج یکم فروری کو بجلی دینے کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہوسکی ۔ پیسکو ذرایع کے مطابق گولین گول بجلی گھر کی پروڈکشن صرف آٹھ میگاواٹ رہ گئی ہے جو دونوں اضلاع کیلئے ناکافی ہے ،جبکہ لوئر چترال کیلئے کم از کم سات میگاواٹ اور اپر چترال کیلئے پانچ میگاواٹ بجلی درکار ہے ۔ جس کے باعث جب تک نیشنل گرڈ سے بجلی کی ترسیل دوبارہ شروع نہیں ہوتی تب تک اپر چترال کو مکمل بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہے تاہم سابقہ طریقہ کار کے مطابق بجلی سپلائی جاری رہے گی ۔
اس سلسلے میں چترال سے سابق ممبر قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین جو اپر چترال اور کوہ ایریا کو بجلی بلاناغہ فراہمی کیلئے کوشان ہے اور انکی قیادت میں وزیراعظم پھر گورنر خیبرپختونخوا سے نشست کے بعد پیسکو اور پیڈو کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا سے رابطہ کیا گیا توانھوں نے چترال ٹایمز ڈاٹ کام کو بتایا کہ جب تک اپر چترال اور کوہ کو معاہدے کے مطابق بجلی نہیں دی جاتی تب تک وہ وزیراعظم کو اُوکے رپورٹ نہیں دیں گے۔ جبکہ وزیراعظم کی پرسنل سیکریٹری اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر ان سے رابطہ میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آج معاہدے اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اپر چترال وکوہ ایریا کو بجلی کی فراہمی ہونی تھی مگر گزشتہ دن کی شدید برفباری کی بنا پر نیشنل گرڈ کی بجلی منقطع ہے جس کی دوبارہ بحالی کیلئے وہ پیسکو اور این ٹی ڈی سی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ جوں ہی لواری پاس میں ٹاور اور ٹرانسمیشن لائن کو بحال کیا گیا اُسی دن اپرچترال اور کوہ کو بجلی کی فراہمی شروع ہوگی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ اپر چترال کیلیے کوغذی سویچ یارڈ میں الگ ہیوی ٹرنسفرمیر دومہینوں کے اندر نصب جایگا جس کے لیے اضافی ٹرانسفرمیر جوٹی لشٹ کے مقام پر موجود ہے۔ جس کے بعد اپرچترال کا ٹرانسمیشن لاین جوٹی لشٹ سے الگ کردیا جایگا۔ شہزادہ افتخار الدین نے اپر چترال اور کوہ کے عوام کو مبارکباد دیتے ہویے کہا ہے کہ مخالفین کو یہ فیصلہ ہضم نہیں ہورہا ہے لہذا عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں کے بجایے پریکٹیکل کام کو دیکھیں بعض افراد سوشل میڈیا میں کریڈٹ لینے کی کوشش میں لگے ہویے جبکہ ہمیں کریڈٹ کے بجایے عوام کیلیے عملی کام کرنا ہے ۔ تاکہ عوامی مسایل میں کمی آیے ۔
ایک اور سوال کےجواب میں انھوں نے بتایا کہ میں اُس وقت ان مسایل خصوصا بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے حل کے لیے قدم اُٹھایا جب پی ٹی آیی کی حکومت صوبے سے ختم ہوچکی تھی جبکہ پی ٹی آیی حکومت میں یہ مسلہ حل ہونا ممکن نہیں تھا۔انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آیی حکمران چترال کے عوام کے لیے مخلص تھے تو گیس کے تیار پلانٹس چترال سے ختم نہیں کراتے ۔ مرکز اور صوبے میں چارسال انکی حکومت تھی ، پیسکو اور پیڈ و کے درمیان یہ مسلہ حل کرکے لوگوں کو ریلیف دینی چاہییے تھی مگر انھوں نے نہیں کیا لہذا اب جو کام کرنا چاہتے ہیں ان کو کام کرنے دیں۔
شہزادہ افتخارالدین نے مذید بتایا کہ بجلی کا بل لویر چترال کے مطابق لیا جایگا اور جو صارف پچاس یونٹ تک خرچ کریگا اس کو فی یونٹ 3.95 روپے پڑیگا۔ اسی طرح 100یونٹ تک 7.74روپے فی یونٹ بل آییگا۔


