9 مئی لندن پلان کا حصہ تھا، عمران خان
9 مئی لندن پلان کا حصہ تھا، عمران خان
راولپنڈی( چترال ٹائمزرپورٹ) سابق چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ قسم اٹھاسکتا ہوں بشری کا چہرہ نکاح والے دن دیکھا۔اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے نہ کوئی ملا نہ مذاکرات کئے، طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑا تو بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا میں تو جان دینے کو تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ لندن پلان نواز شریف کو لانے ہمیں جیلوں میں ڈالنے اور پی ٹی آئی کو ختم کرنے کیلئے تھا، 9 مئی لندن پلان کا حصہ تھا مجھے غیر آئینی طور پر پکڑاگیا، 48 گھنٹوں میں ہمارے دس ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا، یاسمین راشد واضح طور پر کہہ رہی ہے کہ لوگ کور کمانڈر ہاؤس کے اندر نہ جائیں، سی سی ٹی وی دیکھ لیں انکو کون اندر لے کر گیا، آج تک نو مئی کا کمیشن کیوں نہیں بنا۔سابق چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جو بشری بی بی کیساتھ کیا دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی، جو انہوں نے بشریٰ بی بی کے سابقہ خاوند کے ذریعے کرایا اور جھوٹا الزام لگایا ہے، یہ انتہائی اخلاق سے گرے ہوئے لوگ ہیں، میں قسم اٹھانے اور قرآن پر ہاتھ رکھنے کیلئے تیار ہوں بشری کو اس دن دیکھا جس دن میرا نکاح ہوا۔انہوں نے کہا کہ قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ کا کپتان آخری سانس تک لڑنے کیلئے تیار ہے، میں آج آپ کو واضح کر رہا ہوں الیکشن پی ٹی آئی جیتے گی، شیخ مجیب الرحمٰن کیخلاف انہوں نے کیا کیا مگر اس نے 162 سیٹیں جیتیں تھیں،سابق چیرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ 6.17 کی گروتھ کو صفر پر لے آئے ہیں، حالات دیکھ کر خدشہ ہے کہیں یہ الیکشن سے بھاگ ہی نہ جائیں، عوام کیا پاگل ہیں انہیں نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔
سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنیکا فیصلہ
اسلام آباد(سی ایم لنکس) آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔عدالت نے 12 دسمبر کو فرد جرم کی تاریخ مقرر کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کی ڈائریکشن ہے ایک ماہ میں ٹرائل مکمل کرنا ہے۔سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی میں چالان کی نقول تقسیم کر دی گئی، آئندہ تاریخ پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ فرد جرم نئی تحریر ہوگی، نقول میں سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ کو سائفر کیس میں قصوروار قرار دیا گیا۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی۔ سائفر کیس کی سماعت ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔