وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی کا لائف انشورنس کو صحت کارڈ میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں جلد از جلد با ضابطہ پلان تیار کرنے کی ہدایت
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی کا لائف انشورنس کو صحت کارڈ میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں جلد از جلد با ضابطہ پلان تیار کرنے کی ہدایت
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے صوبے کے عوام کے لئے ایک اہم فلاحی اقدام کے طور پر لائف انشورنس کو صحت کارڈ میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں جلد از جلد با ضابطہ پلان تیار کرکے منظوری کےلئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عوامی حکومت ہے اور عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ ہوگا۔ یہ فیصلہ انہوں نے پیر کے روز صحت کارڈ پلس سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت احتشام علی اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کے علاو¿ہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اکرام اللہ خان ، سیکرٹری صحت عدیل شاہ ، سی ای او صحت کارڈ پلس ڈاکٹر ریاض تنولی اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں صحت کارڈ کے تحت ریٹس کم ہونے کی وجہ سے دل کے مریضوں کے آپریشنز نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو دل کے مریضوں کے آپریشنز صحت کارڈ کے تحت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ دل کے آپریشنز پر آنے والے تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی، مریضوں پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صحت کارڈ کے تحت مریضوں کو علاج معالجے کے حصول میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ نے صحت کارڈ پلس کو پاکستان تحریک انصاف حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ سماجی تحفظ کا ایک مکمل پیکج ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اسے جامع بنانے کےساتھ ساتھ شفافیت کو بھی یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے، مزید بیماریوں کے علاج کو بھی صحت کارڈ میں شامل کرنے پر کام جاری ہے تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت کارڈ کی افادیت اور شہریوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اچھی شہرت کے حامل مزید اسپتالوں کو بھی صحت کارڈ میں شامل کیا جائے گا تاکہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اپنے گھر کی دہلیز پر مفت صحت کی سہولیات کی دستیابی یقینی ہو۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت شروع دن سے صحت کارڈ کی مد میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو ادائیگیاں ترجیحی بنیادوں پر کر رہی ہے،صحت کارڈ کے تحت عوام کو مفت علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں کوئی روکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپورکا ضلع کرم میں امن و امان کے مسئلے کا نوٹس
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ضلع کرم میں امن و امان کے مسئلے کا نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے کمشنر کوہاٹ ڈویژن اور ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کردیا ہے جس میں مسئلے کے پر امن حل کے لئے فوری طور پر جرگہ منعقد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال سے ضلع کرم میں امن و امان کے مسائل جنم لے رہے ہیں جنہیں جرگوں اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی کارروائیوں سے وقتی طور پر حل کیا جا رہا ہے لیکن یہ مسئلے مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہورہے۔ مسئلے کے مستقل حل کے لئے علاقے کے عمائدین، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، منتخب بلدیاتی نمائندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل جرگہ بلایا جائے اور جرگہ منعقد کرکے فریقین کے مطالبات صوبائی حکومت کو پیش کئے جائیں۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازعے کے مستقل بنیادوں پر حل کے لئے صوبائی حکومت کو تجاویز بھی پیش کی جائیں۔ مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ جرگے کے انعقاد کے سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس سلسے میں جاری اپنے ایک بیان میں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن و امان کے قیام کے سلسلے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ انہوں نے علاقہ عمائدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ تنازعے کے پر امن حل کے لئے اپنا اہم کردار ادا کریں۔