قبائلی عظمت کی داستان: یوسف زئی قبائل ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
قبائلی عظمت کی داستان: یوسف زئی قبائل ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
پشتون قبائل کی تاریخ میں یوسف زئی قبیلہ ایک ایسی تابندہ مثال ہے جس نے نہ صرف صدیوں پر محیط ہجرت کا بوجھ سہا بلکہ اپنی قبائلی شناخت، سماجی ڈھانچے اور خودداری کو بھی باقی رکھا۔ ان کی داستان صرف جغرافیائی نقل مکانی تک محدود نہیں بلکہ یہ قربانی، قیادت، شعور اور اجتماعی بقا کی ایک طویل اور سبق آموز روداد ہے۔ ابتدا میں یہ قبیلہ قندھار کے آس پاس کے علاقوں میں آباد تھا، جہاں ان کی زمینوں کی تقسیم ایک منظم طریقہ کار کے تحت قرعہ اندازی سے کی جاتی تھی، جو ان کی سماجی ہم آہنگی اور نظم و ضبط کی علامت تھی۔
یوسف زئی قبیلے کو پہلا شدید جھٹکا اُس وقت لگا جب ارغنداب دریا نے اپنی قدرتی روش بدلی اور زمینوں کی ملکیت پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ اس تنازع میں ترین قبیلہ غالب آیا اور یوسف زئیوں کو اُن کی آبائی زمینوں سے محروم ہونا پڑا۔ اس بے دخلی کے بعد اُنہوں نے غوریا خیل قبیلے سے پناہ لی، جنہوں نے دریائے ترنک کے کنارے ایک عارضی ٹھکانہ فراہم کیا۔ لیکن فطرت نے بھی ان کے صبر کا امتحان لیا۔ مسلسل بارشوں اور سیلاب نے ان کی بستیاں ملیا میٹ کر دیں، جس کے بعد میزبان قبیلے نے اپنی زمینیں واپس لے لیں اور یوسف زئی ایک بار پھر بے یار و مددگار ہو گئے۔
نوشکی کی طرف اُن کا اگلا پڑاؤ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔ دشمن قبائل کی عددی برتری اور مالی وسائل کی کمی نے اُنہیں اس علاقے سے بھی کوچ پر مجبور کر دیا۔ چودھویں صدی عیسوی کے وسط میں اُنہوں نے شمال کا رُخ کیا اور کابل کے پہاڑی علاقوں کی طرف نقل مکانی کی۔ اس سفر میں عثمان خیل، گیگیانی، ترکلانی اور محمد زئی جیسے قریبی قبائل بھی اُن کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ان کے درمیان رشتہ داری، مفادات اور مشترکہ دشمنی نے ایک اجتماعی طاقت پیدا کر دی۔ کابل کے نواحی میدانوں پر قابض ہو کر اُنہوں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔
اس وقت کابل پر تیموری خاندان کی حکومت تھی اور مرزا اُلغ بیگ حکمران تھا۔ یوسف زئی قیادت نے سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے دربار سے تعلقات مضبوط کیے۔ سردار ملک سلیمان شاہ نے اپنی بیٹی کی شادی اُلغ بیگ سے کر دی، جس کے نتیجے میں قبیلے کو سیاسی تحفظ حاصل ہوا۔ تاہم جلد ہی نوجوان یوسف زئیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویئے، بازاروں میں بدمزگی، تاجروں سے زبردستی خریداری اور قافلوں پر حملوں کی شکایات نے دربار میں بے چینی پیدا کر دی۔ یوں وہی تعلقات جو تحفظ کا ذریعہ بنے تھے، مخالفت میں ڈھلنے لگے۔
اُلغ بیگ نے گیگیانی قبیلے کو ساتھ ملا کر یوسف زئیوں کے خلاف کارروائی کی، لیکن ’’غوارہ مرغہ‘‘ کی جنگ میں اُسے منہ کی کھانی پڑی۔ شکست کے باوجود اُس نے سازشوں کا سلسلہ جاری رکھا اور یوسف زئی قبائل کے سات سو سرکردہ افراد کو دعوت کے بہانے کابل بلایا۔ اُن سے ہتھیار لے کر اُنہیں گرفتار کر لیا گیا اور صبح ہوتے ہی گیگیانی قبیلے کے حوالے کر دیا گیا۔ نتیجتاً 694 افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ صرف ملک احمد اور چند افراد اس خونی سازش سے بچ نکلے۔ یہ قتلِ عام کابل کے شمال مشرق میں ’’سیاہ سنگ‘‘ کے مقام پر ہوا، جو آج بھی ’’شہیدان‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس سانحے نے یوسف زئی قبیلے کو شدید زخم دیے اور اُنہیں کابل سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ کچھ عرصہ وہ ننگرہار کے علاقوں میں بھٹکتے رہے، مگر یہاں بھی دیگر قبائل خصوصاً ترکلانیوں سے اختلافات نے اُن کی مشکلات بڑھا دیں۔ بعد ازاں محمد زئی قبیلے سے بھی ایک جھڑپ ہوئی جس میں یوسف زئی غالب آئے۔ اس فتح کے بعد ملک احمد کی قیادت میں قبیلے نے ایک بڑی اجتماعی ہجرت کا فیصلہ کیا۔ خیبر درے کے دہانے پر ایک درخت کے نیچے ان کا اجتماع اس ہجرت کی علامت بن گیا، جو آج بھی ان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔
پشاور کی وادی میں اس وقت دلا زاک قبیلہ آباد تھا۔ یوسف زئیوں نے سفید سنگ میں قیام کیا اور دلازاکوں سے زمین کی درخواست کی، جو فیاضی سے قبول کر لی گئی۔ ابتدا میں دونوں قبائل میں خوشگوار تعلقات قائم رہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یوسف زئیوں نے اپنی طاقت کو مجتمع کرنا شروع کیا اور آس پاس کے علاقوں جیسے ہشت نگر، دوآبہ اور باجوڑ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔ طاقت کے اس ارتکاز نے دلازاکوں کو چوکنا کر دیا اور دونوں قبائل کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں جو بالآخر ایک فیصلہ کن جنگ پر منتج ہوئیں۔
ملک احمد کی قیادت میں یوسف زئیوں نے دلازاکوں کو شکست دی اور انہیں دریائے سندھ کے پار دھکیل دیا۔ اس فتح کے بعد وادی پشاور میں ان کی حکمرانی کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں یوسف زئیوں نے سولہویں صدی کے اوائل میں سوات کی جانب پیشقدمی شروع کر دی۔ سواتیوں کے ساتھ ہونیوالی جنگ میں سلطان اویس سواتی کو شکست دیکر یوسف زئی قبیلے نے سوات پر قبضہ جما لیا۔ یہ داستان محض ایک قبائلی برتری کی کہانی نہیں، بلکہ اجتماعی شعور، قربانی اور قیادت کی عظمت کا استعارہ ہے۔
