The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے پر 7 ستمبر کو عام تعطیل کی قرارداد منظور

Posted on

قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے پر 7 ستمبر کو عام تعطیل کی قرارداد منظور

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) سینیٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے روز 7 ستمبر کو عام تعطیل کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے پارلیمنٹ کی جانب سے 7 ستمبر 1974 کو متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی یادگاری قرارداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ دن صرف پاکستان نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تاریخی تھا، اس دن مسلمانوں کی ایک طویل جدوجہد کامیاب ہوئی، ایوان بالا حکومت کو تجویز کرتا ہے کہ آج کے دن کو سرکاری سطح پر منایا جائے، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے دن کو قومی تعطیل دی جائے۔سینیٹ نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی جس کے بعد سینٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ اس طرح آئینی ترمیم پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔

سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب کر لی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب کر لی۔عدالت نے وفاق اور چاروں صوبوں میں ترقیاتی فنڈز کے معاملے سے متعلق کیس میں بلاک مختص کردہ سکیمز یا امبریلا سکیمز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔عدالت نے حکم دیا کہ حالیہ منظور شدہ بجٹ کی سالانہ ترقی پلان سمری فنانس سیکرٹری یا چیف سیکرٹری کے دستخط سے پیش کی جائے۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ ہم عوامی پیسے کے تحفظ کے تناظر میں کیس سن رہے ہیں، حکومتیں پیسے ضرور خرچ کریں لیکن شفافیت ہونی چاہیے، شفافیت کا مطلب یہ ہے کہ ترقیاتی سکیمز انفرادی شخصیات کی بنیاد پر نہ چلائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ضیا الحق نے اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کے لیے ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسے دینے کی روایت شروع کی۔جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی کافی مشکلات ہیں، ہم عوامی فنڈز کا ضیاع نہیں ہونے دیں گے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ منصوبے ضرور بنائیں لیکن سب کچھ آئین کے تحت ہونا چاہیے، حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو منصوبے لٹک جاتے ہیں، ترقیاتی منصوبے انفرادی شخصیات کے تحت نہیں ہونے چاہئیں، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں منصوبے کیا بنائے جا رہے ہیں، شفافیت ہونی چاہیے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں تک کے لئے ملتوی کر دی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
93261