فیسوں میں اضافہ کرنے پر سیکرٹری ہیلتھ اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی پر جرمانہ، جواب طلب
فیسوں میں اضافہ کرنے پر سیکرٹری ہیلتھ اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی پر جرمانہ، جواب طلب
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) پشاور ہائی کورٹ نے بغیر وجہ فیس بڑھانے پر سیکرٹری ہیلتھ اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ پبلک سیکٹر کے میڈیکل کالج کی فیسوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔وکیل درخواست گزار حمیرہ گل ایڈوکیٹ نے کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیز نے فیسوں میں بغیر کوئی وجہ بتائے اضافہ کیا، 2021،2022 میں فیسوں میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا، 2023/24 میں پھر اضافہ کیا گیا، اس بار 200 سے 300 فیصد اضافہ کیا گیا۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پبلک سیکٹر میڈیکل کالجز کی فیسیں دیگر صوبے کے مقابلے میں زیادہ ہیں، خیبرپختونخوا کے طلباء کے ساتھ یہ امتیازی سلوک ہے۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ فیسیں خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے خود بڑھائی ہیں، محکمہ ہیلتھ کی جانب سے ہم نے کمنٹس جمع کرائے ہیں۔عدالت نے کہا کہ ہم نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے تفصیلی جواب مانگا تھا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ محکمہ صحت سے رابطہ کیا ہے، تفصیلی جواب آئندہ سماعت پر جمع کرائیں گے۔بعدازاں عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ اور کے ایم یو پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا اور آئندہ سماعت پر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات کو یو این واٹر کانفرنس میں شامل کرنیکی تجویز
اسلام آباد(سی ایم لنکس)پاکستان نے سرحد پار آبی تعاون اور پانی، ماحول اور موسمیاتی تبدیلی کے تعلق کو 2026ء کے اقوام متحدہ واٹر کانفرنس کے مکالمے میں شامل کرنے کے لیے کلیدی موضوعات کے طور پر تجویز کیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ای سی او ایس او سی (ECOSOC) چیمبر میں ہونے والے 2026ء اقوام متحدہ واٹر کانفرنس کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ کانفرنس ایس ڈی جی 6 کے ہدف ”سب کے لیے صاف پانی اور نکاسی آب کی فراہمی“ کے حصول کے لیے عالمی کوششوں کو تیز کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔سفیر عاصم افتخار نے اس بحث کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ براہ راست آئندہ نسلوں کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عمل درآمد بدستور ایک بنیادی چیلنج بنا ہوا ہے۔پاکستانی متبادل مندوب نے کہا کہ پاکستان کی تجویز کردہ اضافی موضوعات ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ یہ علاقائی یکجہتی، امن، اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان موضوعات پر زیادہ توجہ دینے سے ممالک کو مشترکہ چیلنجز، بہترین طریقہ کار، اور مربوط حل پیش کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمارے ’لیونگ انڈس‘ (Living Indus) اور ’ری چارج پاکستان‘ (Recharge Pakistan) منصوبے ماحولیاتی تحفظ، موافقت، پانی کے معیار میں بہتری، سیلابی خطرات سے نمٹنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سمیت کئی فوائد فراہم کرتے ہیں۔
