The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 3 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

غزل…………..شاہ عالم علیمی

Posted on

غرور کسی کا نہیں رہتا بادشاہت کسی کی نہیں رہتی

عشق کسی کا نہیں رہتا صورت کسی کی نہیں رہتی

خاک نشینوں کا انجام ہے خاک اور بس

نام کسی کا نہیں رہتا ذات کسی کی نہیں رہتی

جب انسان انسان ہوتا ہے وجود ہی اپنا گراں ہوتا ہے

مال کسی کا نہیں رہتا جاں کسی کی نہیں رہتی

ایک ہی بات پر متفق ہیں وعظ اور رند

حسینوں کا وفا نہیں رہتا اور پھر میخانے میں شراب نہیں رہتی

وہ ناز کے گھوڑے پر سوار جب اتراتا اتا ہے

سینے میں دل نہیں رہتا جسم میں جاں نہیں رہتی

کوئل کی کٌو بھی تیری ہے بلبل کی آہ بھی تیری ہے

تجھ بن چمن میں پھول نہیں رہتا پھول میں خوشبو نہیں رہتی

دو ساعت کی مسافت میں کیا مال و متاع

دن کسی کا نہیں رہتا رات کسی کی نہیں رہتی

Posted in شعر و شاعریTagged
18622

غزل………. شاہ عالم علیمی

مرجائے ہوئے پتوں کو اٹھا کر دیکھتا ہوں
میں اج کل خود کو ستا کر دیکھتا ہوں
تو نہیں ہے مگر میں تیری باتیں
خود ہی خود کو سنا کر دیکھتا ہوں
ایک ایک ٹکڑا قلب ناسور کا
میں اپس میں ملا کر دیکھتا ہوں
کرتاہوں میں فرشتوں سے یہ بحث
میں تمھیں خدا کی عدالت میں لاکر دیکھتا ہوں
کچھ لوگوں سے رشتہ تھا دنیا میں
میں اجکل انھیں یاد دلا کر دیکھتاہوں
تم ہی اپنے دشمن تھے عبث
میں دل کو دل سے لڑاکر دیکھتا ہوں
جہاں سے چلا تھا میں کبھی
وہی پر واپس اکر دیکھتا ہوں

Posted in شعر و شاعریTagged
17241