The Voice of Chitral since 2004
Monday, 4 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ریپ کی وجہ – طاقت کا اظہاریا بھٹکی ہوئی جنسیت؟ – غزالی فاروق

ریپ کی وجہ – طاقت کا اظہاریا بھٹکی ہوئی جنسیت؟ – غزالی فاروق


ریپ کے واقعات میں اضافہ  ایک بڑھتا ہوا معاشرتی مسئلہ ہے ، جس کی روک تھام  کےمتعلق   میڈیا پر بحث صرف  اُس وقت جنم لیتی ہی جب ایساا ندوہ ناک واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہوتا ہے ۔ پھرجب سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر اس مسئلے کے حل کے متعلق آراء کےمابین بحث بہت  شدت اختیار کرلیتی ہے تو حکمرانوں کی طرف سے کچھ بیانات جاری کئے جاتے ہیں اور پھر حکومتی عہدیدار اور حکمران اس سے یوں غافل ہو جاتے ہیں کہ گویا کوئی مسئلہ موجود ہی نہیں ۔

پاکستان کے ایک مختصر مگر اس نظام میں اثر رسوخ رکھنے والے گروہ  کے مطابق ریپ کی وجہ معاشرے میں مردوں کی بالادستی اور عورتوں کو معاشرے میں برابری کا مقام حاصل نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے جنسی بھوک کے حامل مرد ،عورتوں  کو کمزور اور حقیر جانتے ہوئے انہیں اپنی  جنسی تسکین  کا نشانہ بناتے  ہیں۔ٍ اس گروہ  کے نزدیک ریپ کا تعلق عریانی یا کسی مخصوص  تصورات  سے بالکل نہیں ہے، بلکہ یہ ٹولہ اس بات میں کو ئی حرج نہیں سمجھتا کہ مرد و عورت اپنی رضامندی و اختیار سے  نکاح کے بغیر تعلق قائم کریں۔ لہذا جب کوئی عریانی کی روک تھام یا مغرب زدہ عورتوں  کے لباس  کی بات کرتا ہے تو وہ اس شخص کو ریپسٹ کا ہمدرد کہہ کر مجرم کے ساتھ کھڑا کردیتے ہیں۔  

جب ہم اس بیانیے کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں  تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ بیانیہ محض  سطحیت پر مبنی ہے اور  اس میں  حقیقت  کا نامکمل احاطہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بیانیہ مغربی نقطۂ نظر سے متاثر ہے جوانسانی فطرت اور  معاشرے کو لبرل ازم کے گمراہ کن تصورات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ 

اگر ہم ریپ سمیت معاشرے میں رونما ہونے والے جرائم اور ان کے سدباب کے متعلق درست فہم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انسانی فطرت اور معاشرے کی  تشکیل کے متعلق درست سمجھ حاصل  کرنا ہو گی ، وہ فطرت کہ جس  پر انسانوں کے خالق نے انہیں تخلیق کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو چاہے مرد ہو یا عورت،  ایک متعین فطرت پر پیدا کیا ہے اور نسل انسانی کی بقا کا دارومدار ان کے ملاپ پر رکھا ہے۔ مردوعورت دونوں میں انسان ہونے کی تمام خصوصیات اور زندگی کے لوازمات موجود ہیں۔  وہ خصوصیات یہ ہیں کہ ہر انسان صاحب ِعقل ہے  اور اس کی سوچ اس کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہ بھی انسان کی فطرت میں سے ہے کہ ہر انسان میں کچھ ایسی حاجات ہیں کہ جنہیں پورانہ کیا جائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ کوئی بھی انسان پیٹ کی بھوک مٹائے بغیر، رفع حاجت کے بغیر اور سانس لیے بغیر زندگی نہیں گزارسکتا۔   ان لازمی حاجات کے علاوہ اللہ نے انسان میں کچھ ایسی جبلتیں بھی رکھی  ہیں کہ جن کے پورا نہ ہونے سے انسان مرتا تو نہیں  مگر بے چین رہتا ہے۔ جنسی جبلت ان جبلتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کی فطرت کے یہ حقائق قطعی ہیں اور کوئی ایک انسان بھی اس سے مختلف نہیں  ہے۔

یہ اللہ ہی ہے کہ جس نے انسان میں جنسی  جبلت رکھی ہے اور اس کے پورا کرنے کے اسباب بھی پیدا کیے  ہیں ۔ ایسا نہیں کہ اللہ نے یہ جبلت تو پیدا کی ہے مگر اسے پورا کرنے کے لوازمات نہیں رکھے۔  اور اللہ تعالیٰ نے اِس امر کے متعلق بھی رہنمائی فرما دی ہے کہ انسانی جبلتوں کو پورا کرنے کا درست طریقہ کیا ہے، خواہ وہ جبلتِ بقاء (survival instinct) ہو یا جنسی جبلت(procreation instinct) یا پھر جبلتِ تدَیُّن(reverence instinct)۔ کسی بھی جبلت کی تسکین کا کوئی بھی طریقہ بذاتِ خود یہ طے نہیں کرتا کہ وہ طریقہ کار لازماً درست ہے۔ مثال کے طور پر ہر انسان میں بقا کی جبلت موجود ہے ۔ اور یہ انسان کو ابھارتی ہے کہ وہ اپنےلیے آرام اور آسائشیں حاصل کرے،جس کےحصول کے لیے ایک شخص دولت کماتا ہے اور پھر اس دولت سے  آسائشیں خریدتا ہے۔ مگر کیا دولت کو کسی بھی طریقے سے حاصل کرنے مثلاً چوری ، ذخیرہ اندازی، منشیات فروشی   وغیرہ کومحض اس وجہ سے درست قرار دیا جا سکتا ہے کہ ایسا اس شخص نے اپنی جبلت کی تسکین کے لیے کیا ہے؟ اگر نہیں ، تو پھر جنسی جبلت کے معاملے میں  کیوں یہ طرزعمل اختیار کیا جائے کہ ایک انسان جیسے چاہے اسے پورا کر لے، خواہ وہ اس کا خونی رشتہ ہو یا کوئی جانور ہو  یا کسی پر جنسی حملہ ہو! 

پس وہ کیا معیار یا پیمانہ ہو گا جو یہ طے کرے گا کہ کسی جبلت کو فلاں طریقے سے پورا کرنا درست ہے؟ کیا وہ پیمانہ یہ ہے کہ اگر دو انسان باہمی رضامندی سے اپنی جبلت کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں تو انہیں اجازت ہونی چاہئے، مثال کے طور پر اگر دو مرد ہم جنس پرستی کے ذریعے یا ایک مرد اور ایک عورت نکاح کے بغیر  ایک اجرت طے کر کے  یا بوائے گرینڈ اور گرل فرینڈ کے طور پر اپنی جنسی جبلت کو پورا کرنا چاہیں  تو کیا انہیں اس کی اجازت ہونی چاہئے؟   لبرل ازم کا  تصور یہ کہتا ہے کہ اس پر کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم اگر یہ مفروضہ درست تسلیم کر لیا جائے تو  اگر دو مختلف ممالک کے افراداپنی مرضی و رضامندی سے ملکی رازوں کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرنا چاہتے ہوں تو اس کی آزادی ہو سکتی ہے؟  ظاہر ہے نہیں۔

اگر معاشرے کے لیے کچھ معیار اور پیمانے ہی اس بات کو طے کریں گے کہ انسان کا درست اور غلط طرزعمل کیا ہے تو  پھر یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پیمانوں اور معیارات کو کیسے اور کون طے کرے گا؟ اور اگراس کائنات کا کوئی خالق ہے تو کیا اس کا بھی ان معیارات اور پیمانوں کو طے کرنے میں کوئی عمل دخل ہے یا نہیں ؟!

جبلتوں اور انسانی حاجات کا بغور جائزہ لینے سے ہمیں انسانی فطرت کے متعلق یہ بات بھی پتہ  چلتی ہے کہ عضویاتی حاجات  جیسا کہ بھوک پیاس وغیرہ کی صفت یہ ہے کہ یہ کسی بیرونی محرک stimulusکی محتاج نہیں ہوتیں۔ پس ایک شخص کو لازماً بھوک لگتی ہے خواہ اس کے سامنے اچھا کھانا موجود ہو یا نہ ہو جبکہ انسانی جبلتوں کی نوعیت یہ ہے کہ یہ اس وقت بھڑکتی ہیں اور اپنی تسکین چاہتی ہیں جب کوئی بیرونی محرک  stimulus انہیں ابھارتا ہے اور اس وقت سرد پڑ جاتی ہیں جب یہ بیرونی محرک موجود نہیں ہوتا، تاہم جب تک ان جبلتوں کو پورا نہ کیا جائے تو انسان بے چین  اور غیر مطمئن رہتا ہے۔چنانچہ  جب ایک  بے اولاد  شخص کسی ماں کو اپنے بچے سے پیار کرتا دیکھتا تو اس کے اندرجذبات اُبھرتےہیں مگر جب یہ منظر سامنے نہ ہو تو ان جذبات کی شدت کم ہو جاتی ہے،لیکن ایک بے اولاد شخص مستقل طور پر غیر مطمئن رہتا ہے اور اپنے زندگی میں ایک کمی محسوس کرتا رہتا ہے۔  جنسی جبلت کی بھی یہی حقیقت ہے کہ یہ اس وقت بھڑک اٹھتی ہے جب ایک شخص کو جنسی محرک کا سامنا ہوتا ہے خواہ یہ محرک ایک  جنسی تخیل ہی کیوں نہ ہو۔

انسانی فطرت کی دوسری اہم حقیقت یہ ہے  انسان کے تصورات اس کے میلانات و رجحانات پر لازماًاثرانداز ہوتے ہیں اور اس کی جبلتوں کومخصوص شکل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان اپنی بہن یا والدہ کے متعلق کسی قسم کا کوئی جنسی میلان نہیں رکھتا کیونکہ والدہ اور بہن کے متعلق دین اور معاشرہ   اسے خاص تصورات سے روشناس کراتا ہے، جو ان خونی رشتوں کی حرمت سے متعلق اسلام نے دیے ہیں۔  گویامعاشرے کے اندر مرد و عورت کے تعلق کے  بارے میں  درست تصورات کو پروان چڑھانا اور انہیں پختہ کرنا درست جنسی رویوں کو تشکیل دیتا ہے جبکہ  معاشرے میں اس سوچ کو ترویج دینا  کہ ہر انسان آزاد ہے اور اس کی زندگی کا ہدف اپنی خواہشوں کو زیادہ سے زیادہ پورا کرنا ہونا چاہئے، ایک شخص کو اس چیز پر مائل کرتا ہے کہ وہ  جس طرح چاہے بن پڑے جنسی تسکین حاصل کرے۔

لہٰذا  وہ  بنیادی محرکات  جو ریپ جیسے قبیح جرم  میں اضافے کا باعث   بنتے ہیں   ان میں سے ایک  وہ بیرونی  عوامل ہیں جو انسان کی جنسی جبلت کو ممکنہ طور پر بھڑکاتے  ہیں۔ جبکہ اس جرم  میں اضافے کا دوسرا بنیادی   محرک      معاشرے میں ایک انسان کے دوسرے انسانوں کے ساتھ  تعلقات   کو  منظم کرنے کے حوالے سے درست تصورات کا فقدان ہونا    ہے۔  تبھی  ہم دیکھتے ہیں  کہ اس مسٔلہ کی اصل آماجگاہ مغربی معاشرے ہیں  جہاں پر ” شخصی آزادی” کے تصور کے  پیش نظر،   یہ دونوں محرکات اپنے جوبن پر ہوتے ہیں۔

لیکن اگر یہ سوال کیا جائے کہ پھر پاکستان کے معاشرے میں ان واقعات  میں کیوں اضافہ ہو رہا    ہے جہاں پر اکثریت میں مسلمان آباد  ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ   چونکہ ان معاشروں میں بھی اسلام کے نظام کا ہماگیر نفاذ نہیں بلکہ انگریز کا چھوڑا ہوا نظام چند ترامیم کے ساتھ آج بھی   نافذ   ہے ، اس لیے  اس  جرم  کو تقویت دینے والے  بیان کردہ دونوں بنیادی محرکات یہاں بھی موجود ہیں۔  لیکن چونکہ ان کی  شدت یہاں  نسبتاً  کم ہے  اس لیے  مغربی معاشروں کی نسبت  ہمارے  معاشروں میں اس جرم کی شرح  بھی کم  ہے۔  البتہ پوری دنیا کی طرح ہمارے  یہاں بھی اس کی شرح  میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن  مسلمانوں کے معاشروں میں بھی اس کا حل محض عورتوں کو شرعی لباس کا پابند بنا دینے  یا محض شرعی سزاؤں کو متعارف کرا دینے میں  نہیں، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔ اسلام کے احکامات  ایک دوسرے سے علیحدگی میں کام نہیں کرتے کہ اسلام کے جزوی یا ادھورے نفاذ کو مسٔلہ کا حل سمجھ لیا  جائے۔ بلکہ اسلام کے احکامات    باہم  مربوط ہیں اور ان کا  صرف    جامع اور ہمہ گیرنفاذ ہی مطلوبہ نتائج پیدا کرنے  اور شریعت کے مقاصد کو پورا کرنے کا ضامن  ہے ۔ لہٰذا  یہ مسئلہ صرف  اس وقت حل ہو گا جب  پاکستان میں رائج مغربی سرمایہ دارانہ نظام کو ہر جگہ سے کرید کر مٹا نہ دیا جائے اور اس  کی جگہ پر ہر شعبے مثلاً  سیاست، معاشرت، معیشت، عدالت اور تعلیم میں   مکمل طور پر اسلام کا نفاذ نہ کر دیا جائے ۔یوں ایک ایسے  پاکیزہ معاشرے کی تشکیل ہو سکے گی  جو پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہو گا۔

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged , ,
51174

پاکستان کی امریکہ کے لیے سہولت کاری . غزالی فاروق

پاکستان کی امریکہ کے لیے سہولت کاری . غزالی فاروق


 ایک حالیہ  شائع ہونے والی  رپورٹ کے مطابق   امریکی انٹیلی جنس برادری کا اندازہ ہے کہ افغان حکومت مکمل امریکی انخلاء کے بعد زیادہ سے زیادہ چھ ماہ سے ایک سال  کے دوران  طالبان کے ہاتھوں  ختم ہوجائے گی۔ وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے جاری  کردہ یہ  رپورٹ  امریکی انٹیلی جنس برادری  کےپچھلے زیادہ امید افزا اندازوں کے برخلاف ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ افغان حکومت امریکی انخلاء کے بعد دو سال تک برقرار رہ سکے گی۔

افغانستان کی تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی  صورتحال میں  امریکہ کی انٹیلی جنس برادری  نے اپنے پچھلے اندازوں کو تبدیل کردیا ہے،   کیونکہ گزشتہ چند روز  میں  طالبان نے افغانستان میں  اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔   افغان حکومت کی فوج اس وقت طالبان کے خلاف   مختلف مقامات پر محاذ آرا ہیں لیکن  طالبان   ایران، تاجکستان، ترکمانستان، چین اور پاکستان  پر مشتمل   پانچ ممالک  کے ساتھ  قائم مرکزی بارڈر کراسنگ پر  کنٹرول حاصل  کر چکےہیں۔ خود طالبان کا یہ  دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان  کے 85 فیصد علاقے  پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن  بعض ذرائع کے مطابق افغانستان کے تقریباً  400 اضلاع میں سے ابھی تک  ایک تہائی کا کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آیا  ہے۔

آج امریکہ بگرام ائیربیس کو رات کی تاریکی میں اور مکمل خاموشی کے ساتھ  چھوڑ کر  بھاگ  چکا ہے۔ یہ وہ فضائی اڈہ تھا  جو  افغانستان میں امریکا کا بنیادی جنگی مرکز تھا اور دسیوں ہزار امریکی فوجیوں کا گڑھ  بھی تھا۔ لیکن امریکہ کو برسرپیکار جنگجوؤں  کا خوف اس قدرزیادہ  تھا  کہ امریکہ نے اس معاملہ میں افغان حکومت کو بھی اپنے  اعتماد میں لینا  مناسب  نہ  سمجھا کہ کہیں جنگجوؤں کو کان و کان خبر نہ ہو جائے اور وہ بھاگتی ہوئی  امریکی افواج کو نشانہ نہ بنا لیں۔ اور نہ ہی امریکہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی فوج کی ویسی ہی تصویریں میڈیا کی زینت بنیں جو ویتنام سے بھاگتے ہوئے بنیں تھیں!

یہ بات بہت عرصے سے واضح ہو چکی تھی کہ امریکہ افغانستان میں اپنے قبضے کے خلاف جاری مزاحمت کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، جسے افغان قبائلی آبادی کی حمایت اور شمولیت حاصل تھی۔ امریکہ نے خود  بھی یہ  تسلیم کر لیا تھا  کہ اس کی کابل میں قائم کٹھ پتلی  حکومت بھی  ملک کے کئی علاقوں پر اپنا کنٹرول اور اختیار لاگو کرنے میں ناکام ہے۔ لہٰذا امریکہ نےطالبان کے ساتھ  اِس امید پر سفارتی حل کا رستہ اختیار کیا کہ جو مقصد وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کرسکا تھا  وہ اس طرح سے حاصل کرلے گا۔ لیکن امریکہ  مذاکرات کے ذریعے بھی مکمل سفارتی کامیابی اور اپنی مرضی کا سیٹ اپ حاصل نہیں کرسکا کیونکہ مذاکرات کرنے والے افغان مجاہدین کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے بلکہ اس کے ایک  حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ بات امریکہ کو گوارا نہیں کہ وہ  افغانستان سے ایسے انخلاء کرے کہ خطے میں اس کا عمل دخل ہی ختم ہو جائے۔ امریکہ یہ خواہش رکھتا  ہے کہ طالبان  کابل حکومت کے اہم مراکز پر قبضہ نہ کرسکیں۔  امریکہ کو اس بات میں کوئی تامل نہیں اگر وہ افغانستان میں بھی عراق والی صورتحال کو دہراتا ہے، جہاں امریکہ نے عراق سے ایسی صورتحال میں انخلاء کیا تھا کہ ملک افراتفری کا شکار تھا،  اور کسی بھی گروہ کو ملک پر مکمل کنٹرول حاصل نہ تھا، مخلص لوگ اقتدار سے باہر تھے اور بغداد کی کٹھ پتلی  حکومت امریکی مفادات کا تحفظ کررہی تھی۔ عراق کی حکومت نے یہ کوشش نہیں کی تھی کہ اس کا اقتدار پورے ملک پر قائم ہوجائے، لیکن وہ اس قابل تھی کہ تیل کے کنوؤں کی حفاظت کرسکے جنہیں امریکی کمپنیاں لوٹ رہی تھیں۔ حکومت اس قابل بھی تھی کہ وہ عراق میں امریکہ مخالف لوگوں، چاہے وہ مسلمانوں میں سےہوں یا بعث پارٹی سے، مکمل اقتدارحاصل کرنے سے  روک سکے۔لہٰذا   اگر افغانستان  کی صورتحال  بھی عراق کی سی   شکل اختیار کر  لیتی ہے اور خونریزی جاری رہتی ہے تو   ایسا  امریکہ کے لیے قابل قبول ہو گا۔ اور امریکہ اس صورت حال کو چین اور روس کی راہ روکنے کے لیے بھی استعمال کر سکے گا جو افغانستان کے لیے اپنے منصوبے بنائے بیٹھے ہیں۔

لہٰذا  امریکہ کی یہ خواہش ہے  کہ طالبان افغانستان کے حساس علاقوں جیسا کہ کابل کا گرین زون، ائر پورٹ، سپلائی روٹس  اور دیگر اہم تنصیبات پر قبضہ نہ کرسکیں اور ایسا وہ  پاکستان اور ترکی جیسے ممالک  کے تعاون اور  ان کے  اثر و رسوخ  کو استعمال میں لا کر ممکن بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ  امریکہ پاکستان پر  Financial Action Task Force (FATF) کے ذریعے دباؤ کو  برقرار رکھے ہوئے ہے جس نے پاکستان کو مزید ایک اور سال کے لیے ‘گرے لسٹ’ سے نکالنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستانی حکومت اس وقت  اعلانیہ طور پر تو امریکی دباؤ کے خلاف ردعمل ظاہر کر رہی ہے اور امریکی اڈوں کی اجازت دینے سے بھی  انکار کر رہی ہے مگر دوسری طرف  پاکستان  نے  امریکہ کے ساتھ 2001 ءمیں  طے پائے جانے   والے ” ایئر لائن آف کمیونیکشن (اے ایل او سی) اور گراؤنڈ لائن آف کمیونیکشن (جی ایل او سی)” کی تجدید کر دی ہے بلکہ ان کے بارے میں برملا اعلان کیا جا رہا ہے کہ وہ معاہدے  اب بھی اپنی جگہ   برقرار  ہیں!

حقیقت تو یہ ہے کہ اشد ضرورت کے وقت پاکستان کے فرمانبردار حکمرانوں نے امریکہ کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ پاکستان ہی وہ بڑا سہولت کار  تھا جس کی مدد   سے امریکہ افغانستان پر اپنے قبضے کو  ممکن بنا پایا   تھا۔ اور یہ پاکستان ہی تھا جس نے مزاحمت کاروں کے ساتھ مذاکرات کی بساط بچھانے میں امریکہ کی بھرپور مدد کی۔  اور  اس وقت بھی  امریکی افواج کے  افغانستان  سے انخلاء کے موقع پر اور اس کے نتیجہ میں  افغانستان  میں پیدا ہونے والی  اندرونی صورتحال سے  متعلق   پاکستان کی جانب سے امریکہ کے لیے سہولت کاری  زور و شور سے      کے ساتھ  جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا ازبکستان کا دورہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، جبکہ اس سے کچھ ہی دن قبل ازبکستان کے وزیر خارجہ امریکہ کا دورہ کر واپس لوٹے ہیں۔ 

ہم نے ستر سال امریکی علاقائی منصوبوں کا ایندھن بن کر دیکھ لیا،  اور ان منصوبوں میں اپنی ریاستی طاقت کا مشاہدہ بھی کر لیا کہ ہماری طاقت کے بل بوتے پر ہی امریکہ سوویت یونین کو شکست دینے میں کامیاب ہوا،  پاکستان کے ذریعے ہی امریکہ نے دہائیوں تک بھارت کے ناک میں دم کیے رکھا اور پھر اسے اپنے کیمپ میں کھینچنے پر قادر ہوا۔ امریکہ وسطی ایشیا تک ہماری طاقت کو استعمال کرتا رہا۔ لیکن اس سب سے ہمیں کیا حاصل ہوا، سوائے یہ کہ ہمارا ملک دولخت ہوا، سیاچن اور تین دریا بھارت نے چھین لئے، اکسائی چن  چین نے لے لیا، ہمارے قبائلی علاقے اور پھر پورا ملک  انتشار کا شکار ہوا اور آج مقبوضہ کشمیر پر ہندو ریاست کے جبری قبضے پر ہم چپ سادھے بیٹھے  ہیں، اور اسے سرکاری طور پر سرنڈر کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔  تو جب امریکہ ہماری طاقت کے بل بوتے پر پورے خطے میں اپنا کھیل کھیل کر اپنے  استعماری مفادات حاصل کر سکتا ہے، تو ہم اس طاقت کی بنیاد پر اللہ کی رضا حاصل کرتے ہوئے  اسے خطے کے مسلمانوں کے مفاد کے لیے کیوں استعمال نہیں کر سکتے؟ افغانستان میں ذلت آمیز شکست کے بعد یہ تصور کرنا محال ہے کہ امریکہ اب دوبارا اپنی فوجیں لے کے اس خطے پر حملہ آور ہو گا تو کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ پاکستان جرات مندانہ قدم اٹھا کر خطے سے امریکی اثرورسوخ کا جڑ سے خاتمہ کردے؟

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
50653

ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟…..غزالی فاروق

ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

20 جون 2021 کو   ایچ بی او (HBO) پر ایکسی او ز (Axios) کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے   کہا کہ “جیسے ہی کشمیر کا تصفیہ ہوجاتاہے دونوں پڑوسی ممالک ( یعنی بھارت اور پاکستان) مہذب لوگوں کی طرح رہنے لگیں گے۔ اس کے بعد ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہوگی”۔ وزیر اعظم عمران خان  کی جانب سے اس  نوعیت کا یہ کوئی پہلا  بیان نہیں۔اس سے پہلے  24 جولائی 2019 کو فوکس نیوز کی اینکر پرسن برٹ بائر نے جب عمران خان صاحب  سے دریافت کیا تھا   کہ “اگر بھارت یہ کہہ دے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے گا تو کیا پاکستان بھی ایسا کرے گا؟” ،تو  خان صاحب  نےبغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ جواب دیا تھا  کہ، “جی ہاں، کیونکہ ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ اور پاکستان اور بھارت کےدرمیان ایٹمی جنگ خود کو تباہ کرنا ہے”۔ ایسے ہی  پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے متعلق امریکی خدشات پر خان صاحب  نے  امریکا کو یہ کہہ کر یقین دہانی کرائی تھی  کہ، “ہم اپنے ایٹمی پروگرام کے حفاظتی اقدامات کے حوالےسے امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرتے  رہتےہیں”۔

بجائے اس کے کہ حکومت دنیا  کو یہ پیغام دے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام کس قدر مضبوط اور طاقتور ہے تا کہ پاکستان یا امت مسلمہ کی جانب کوئی میلی آنکھ سے  دیکھنے کی جسارت بھی نہ کر پائے ، حکومت  بار بار  یہ  اعلان کر رہی  ہےکہ وہ  خود ایٹمی ہتھیاروں   سے دستبردار ہونے  کے لیے  مکمل تیار ہے ۔جبکہ اس کے بالکل  برعکس   پوری دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں  کو  جدید سے جدید  تر بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔

اسی طرح ہم نے دیکھا تھا  کہ ا س سال 28 مئی کو ، پاکستان کے ایٹمی تجربات کی یادگار کے موقع پر، بجائے اس  کے کہ حکومت کی جانب سے  ایک طاقتور پیغام جاری کیا جاتا جس میں پاکستان کے یوم تکبیر پر، “قابل اعتبار ڈیٹرینس”(Credible deterrence) یا “ہمہ جہتی  ڈیٹیرینس “(Full spectrum deterrence)کے مضبوط موقف کا اعادہ کیا جاتا،  حکومت نے ایک نہایت   کمزور موقف اپنایا۔ لہٰذا   29 مئی،2021 کو عمران خان صاحب کے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا دورہ کرنے کے بعد  وزیر اعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے   فقط ایک کمزور سی پریس ریلیز جاری  کی گئی  ۔  پھر  اس سلسلے میں حکومت کی  جانب سے اس سے بڑھ کر لاپرواہی اور غفلت  اور کیا  برتی جا  سکتی ہے کہ خان صاحب، جو نیوکلئیر کمانڈ اتھارٹی کے سربراہ بھی  ہیں، 2018 میں وزیراعظم بننے کے بعد یہ ان کا  کسی  جوہری مقام کا پہلا   دورہ  تھا  اور اس میں انہوں نے  پہلی بار اس اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کی، حالانکہ یہ ہتھیار پاکستانی سائنسدانوں، انجینئروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی دہائیوں کی  انتھک اجتمائی  کاوشوں  کا ثمر ہیں۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پاکستان کی موجودہ اور گزشتہ  حکومتوں  کی  لاپرواہی جوہری میزائلوں کے تجربات کی خطرناک حد تک کم تعداد سے بھی عیاں ہے جبکہ مضبوط ڈیٹیرنس کیلئے مسلسل تجربات اور بھرپور سائنسی تحقیق و ترقی کلیدی نوعیت کی حامل ہے۔

 پاکستان کی  حکومت کی  ان سنگین غفلتوں  کے برعکس  مودی کی قیادت تلے   بھارت کی ہندو ریاست، امریکہ، فرانس اور روس سے جدید ترین  ہتھیاروں کی مسلسل خریداری کر رہی ہے، جبکہ بار بار اور بڑے پیمانے پر میزائل تجربات کے ذریعے پاکستان اور چین دونوں کو دھمکی آمیز ایٹمی ڈیٹیرینس کے مضبوط سگنل بھی  بھیج رہی ہے۔لہٰذا ان سنجیدہ  حالات میں   امریکہ میں  وزیر اعظم عمران خان صاحب   کی جانب سے    پاکستان کے  ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق  دیا گیا بیان انتہائی خطرناک    ہے۔  درحقیقت یہ بیان پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر کمپرومائز  سے متعلق  عوام کے جذبات کو پرکھنے   کی ایک کوشش ہے۔ اس لیے اس  کی بھرپور مذمت  کی ضرورت ہے تاکہ ایسے کسی امکان کو ہی  خارج از بحث  قرار   دے دیا جائے، بالکل  ویسے جس طرح   ماضی میں سابق صدر  زرداری نے”  ایٹمی ہتھیار کے  استعمال میں پہل  نہ کرنے” (No First Strike Agreement) کی بات کی تھی اور جس پر شدید ردعمل نے انہیں  اپنی بات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔

پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا دعوی  رکھنے  والے  وزیر اعظم عمران خان صاحب کی  جانب سے اس قسم کا بیان افسوس ناک ہونے کے ساتھ اسلام کے خلاف  اور  اس دنیا کی روایات سے بھی ناواقفیت کا ثبوت بھی ہے۔ کمزوری ہمیشہ ظالم کو مزید ظلم کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ طاقت  ظلم کو روکنے میں مدد گار ثابت ہوتی  ہے۔ کیا  بھارت  نے 1971  کی جنگ میں پاکستان کو دولخت نہیں کر دیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ کشمیر کا  حل نکلنے کے بعد ایٹمی ہتھیاروں  کی ضرورت نہ ہو گی؟ کیا اس  جنگ کا تعلق کشمیر سے تھا؟ کیا بھارت  نے سیاچن پر قبضہ نہیں کیا؟ کیا  پاکستان کے تین دریا بھارت سے گزر کر نہیں آتے  جس پر پاکستان آئے دن بھارت سے بلیک میل ہوتا رہتا ہے ؟  کیا اس  کا تعلق بھی محض  کشمیر سے  ہے؟ کیا بھارت ہمیشہ   پاکستان کو نیچا دکھانے  یا کمزور سے کمزور تر  کرنے کے مواقع  تلاش  نہیں کرتا رہتا ؟ یہ ہندو ریاست تو ہندوستان کے ان مسلمانوں کو برداشت نہیں کرتی جو اس کے اپنے شہری ہیں۔پھر  پاکستان کے ایٹمی ہتھیار رکھنے  کے باوجود بھارت کولڈ اسٹارٹ(Cold Start) اور اس جیسے دیگر جارحانہ جنگی منصوبے(ملٹری ڈاکٹرائین)  تشکیل  دینے سے باز نہیں آیا۔ او ر  بھارت اپنے اسلحے کے ذخائر میں زبردست اضافہ امریکا کی مکمل آشیر باد سے کررہا  ہے کیونکہ اس طرح بھارت خطے میں چین کی مخالفت کرنے  اور مسلمانوں کو کچلنے میں امریکا کا معاون ومددگار بن  سکے گا۔ تو آخر خان صاحب کس  بنیاد  پر اس قسم کے  بیانات  دے رہے ہیں؟!!

جہاں تک امریکا کے ساتھ ہمارے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے  انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی بات ہے تو یہ  یقیناً اسلام، پاکستان اور خطے کے مسلمانوں کے ساتھ وفاداری نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ” اور جہاں تک ہوسکے  بھرپور قوت اور گھوڑوں کو تیار کرنے کے ذریعے  ان کے مقابلے کی تیاری کرو جس کے ذریعے تم  اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں اور ان کے علاوہ اور لوگوں کو بھی جن کو تم نہیں جانتے  اللہ جانتا ہے، خوفزدہ کرسکو “(الانفال 8:60)۔

 ہمارا عظیم دین ہم پر لازم کرتا ہے کہ ہم جدید ترین فوجی صلاحیت حاصل کریں جس میں ایٹمی ہتھیار، سٹیلتھ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلائی  ٹیکنالوجی کی صلاحیت بھی شامل ہے تا کہ ہمارے دشمن ہم سے خوفزدہ رہیں۔ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کا  مقصد صرف ہندو ریاست  ہی کو خوفزدہ رکھنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پروگرام کا مقصد امریکا اور اسرائیل  سمیت تمام  اسلام دشمنوں کو خوفزدہ کرناہونا چاہیے۔ ہماری فوجی برتری کا مقصد صرف ایک دشمن کا مقابلہ کرنانہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا مقصد دنیا میں ظلم کی بالادستی کو ختم کر کے اسلام کی بالادستی کا قیام  ہونا چاہیے۔ آج ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری  کی بات کرنے کی بجائے  ہمیں ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے  جو ہماری زبردست فوجی صلاحیتوں کوامریکی راج  سے چھٹکارا حاصل کرنے،  مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں  کو آزاد کرنے،امت کو یکجا کرنے اور اس ریاست کودنیا کی صف اول کی ریاست بنانےکے لیے استعمال کرے ۔   

ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged ,
50054

اس بجٹ میں نیا کیا ہے؟…..غزالی فاروق

اس بجٹ میں نیا کیا ہے؟

11جون 2021ءکو بجٹ تقریر میں پاکستان کے حکمرانوں نے کچھ مخصوص شعبوں پر ٹیکس میں کمی اور حکومتی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کو بہت نمایاں کر کے بیان کیا۔اور پھر ہر میسرپلیٹ فارم   پراس بجٹ کی تعریفوں کے پل باندھے گئے۔   لیکن اسی بجٹ میں پاکستان کے حکمرانوں نے مجموعی طور پر ٹیکس محصولات کو تقریباً 6 ہزار ارب روپے تک  بڑھا کرٹیکس ہدف کا ایک نیا ریکارڈ  قائم کردیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے  کہ یہ ایک ایسا بجٹ  ہے جس میں ایک جیب میں کچھ اس لیے ڈالا جارہا ہے تاکہ دوسری جیب سے اس سے کہیں زیادہ نکال لیا جائے۔ ہمیشہ کی طرح اس بجٹ میں بھی غریبوں اور قرضداروں سمیت    ہر ایک  پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے  حالانکہ ان پر ٹیکس عائد  کرنے کی بجائے  انہیں زکوٰۃ میں سے مال ادا کیا جانا چاہیئے  جو اُن کا حق ہے۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ 6 ہزار ارب روپےکی ٹیکس رقم میں سے 3 ہزار ارب روپے سود ی  ادائیگیوں پر خرچ کیے جائیں گے ۔ جہاں ایک طرف سود اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے  کے مترادف ہے، تو  دوسری جانب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر وہ پیسہ واپس  عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں  پر لگائے جانے کی بجائے، لوگوں کی جیبوں سے  پیسہ کھینچ کھینچ کر سود خوروں کی جیبوں میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔ تو پھر آخر کس بات پر خوشی کے شادیانے بجائے   گئے  ہیں؟ !

پھر   اس   3 ہزار ارب روپے کی  سود کی ادائیگی  کے ساتھ ساتھ  اس بجٹ میں  بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید 3500 ارب روپے کے سودی قرضے حاصل کیے جائیں گے ۔ لہٰذا  ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی  پاکستان کو سودی قرضوں کی دلدل میں مزید دھکیل رہی ہے ۔ 1971ءمیں پاکستان پر 30 ارب روپے کا قرض تھا جو 1991ءتک بڑھ کر 825 ارب روپے ہوگیا ۔  جبکہ 2011 ءتک قرضوں کا یہ بوجھ   10 ہزار ارب روپے  ہوگیا ، جو صرف دس سال کے عرصے میں، تین گنا بڑھ کر، اب تقریباً 40 ہزار ارب روپے کی حد کو چھُو رہا ہے!  تو پھر آخر کس بات پر خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں!

پھر اس سب کے باوجود دعوے یہ کیے جا رہے ہیں   کہ عوام کی مشکلات کے دن بس اب گنے جا چکے  ہیں اور خوشحالی ان کے گھروں پر دستک دینے والی ہے۔ جبکہ  ہو یہ رہا ہے کہ عوام پر ٹیکس کے بوجھ کو  مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ چنانچہ09-2008 کے مالی سال میں ایک ہزار ارب روپے ٹیکس وصول کیاگیا اور پھر مالی سال  14-2013 تک اسے دُگنا کرتے ہوئے 2 ہزار ارب روپے سے زیادہ کردیا گیا۔ پھر 19-2018 کے مالی سال تک ٹیکس کو مزید دگنا کرتے ہوئے 4 ہزار ارب روپے کردیا گیا  اور اب پاکستان کے حکمران 22-2021 کے مالی سال میں تقریباً 6 ہزار ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف رکھ رہے ہیں۔  ان حکمرانوں کا اگلا ہدف آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق ٹیکس وصولی کو 25-2024 کے مالی سال تک 10 ہزار ارب روپے تک لے کر جانا ہے۔  اگر ٹیکسوں میں یہ اضافہ اس لیے کیا جارہا ہوتا،کہ رسول اللہﷺ کی ناموس کی حفاظت کرنی ہے ، یا مسجد الاقصیٰ اور مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانا ہے، تو پاکستان کے مسلمان اپنے گھروں کو خالی کردیتے اور اپنے پیٹ سے پتھر باندھ لیتے۔ لیکن ہمارے غریبوں اور قرضداروں کا پیچھا اس لیے کیا جارہا ہے کہ اُن سے حاصل ہونے والی رقم کو سود جیسے سنگین گناہ پر خرچ کیا جائے۔

پاکستان کی معیشت کا اصل مسئلہ آئی ایم ایف کی  استعماری پالیسیاں ہیں جو ہمیں کبھی آزاد معیشت قائم نہیں کرنے دیں گی، وہ معیشت جو اس امت کو معاشی بدحالی سے نکالنے کے علاوہ کشمیر، فلسطین  اور  ناموس رسالتﷺ کے تحفظ جیسے کلیدی معاملات پر فنڈز مہیا کر سکے۔ پاکستان ایک مضبوط ملک اور مضبوط معیشت کی بنیاد رکھنے کیلئے تمام وسائل سے مالا مال ہے ۔ محض سود کی ادائیگی سے انکار ہی پاکستان کے وفاقی ترقیاتی بجٹ کو تین گنا جبکہ جنگی بجٹ کو دو گنا سے زائد بڑھا سکتا ہے، اور بجٹ خسارے، مقامی قرضوں یا پیسے چھاپنے کی ضرورت کو ختم کر سکتا ہے۔ بلواسطہ ٹیکسوں کا خاتمہ گھروں کے بجٹ کو واپس کنٹرول میں لا کر معاشی بدحالی اور غربت میں بہت بڑی کمی لا سکتا ہے۔ ایک انقلابی پیمانے پر صنعتی ترقی (انڈسٹریالائزیشن) کے بغیر کوئی نظریاتی ریاست کبھی غیر ملکی انحصار ختم نہیں کر سکتی۔ جس طرح ریاست کے درجے پر پاکستان کا ایٹمی و میزائل پروگرام ایک انقلابی انداز میں مکمل کیا گیا ،یہی سوچ اور طرز عمل  تمام ہیوی انڈسٹریز کی تعمیر کی بنیاد  ہونی چاہیئے جسے ایک ریاست براہ راست کنٹرول کرے  ۔

جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ اسلام نے جو فرائض  ریاست پر عائد کیے ہیں ان  کے لیے درکار وسائل کو بڑی مقدار میں  کیسے جمع کیاجائے گا ، جیسا کہ  غریبوں کو غربت سے  اور قرضدار کو قرض سےنجات دلانا  یا مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے   افواج کو تیار کرنا  وغیرہ؟ تو  اسلام میں  یہ کام غریبوں اور قرضداروں پر بوجھ ڈالے بغیر کیا جاتا ہے۔ ایک اسلامی ریاست  مالی لحاظ سے مستحکم لوگوں سے بڑی تعداد میں محصول جمع کرتی ہے ، جیسا کہ   زرعی زمین کے مالکان سے خراج اور تجارتی مال کے مالکان سے زکوٰۃ جمع کرنا۔ پھر   وہ  ریاست  توانائی اور معدنی وسائل کی نجکاری نہیں کرتی  کیونکہ اسلام میں انہیں عوامی ملکیت قرار دیا گیا ہے ، جن سے حاصل ہونے والا بھاری  منافع پرائیویٹ کمپنیوں کے خزانے نہیں بھرتا بلکہ  ریاست اسے لوگوں کی ضروریات پر خرچ  کرتی ہے۔ مزید یہ کہ  ایک اسلامی ریاست  روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور ڈالر کی بالادستی کا خاتمہ کرتی ہے ، جس نے ہمیں مہنگائی کے سیلاب میں ڈبو دیا ہے۔ اس کے  لیے وہ   کرنسی  کو    سونے اور چاندی پر مبنی کرتی  ہے  اور اسی کی بنیاد پر کرنسی جاری کرتی ہے ، جس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتوں میں استحکام آتا ہے جیسا کہ اس سے پہلے صدیوں تک خلافت کے  کے ادوار میں  قیمتوں میں استحکام موجود رہا۔اسلام کی زرعی پالیسیاں، فوڈ سیکیوریٹی کے علاوہ پاکستان جیسے زرعی ملک کی معاشی کایا پلٹ سکتیں ہیں۔ اسلام کے دولت کی تقسیم سے متعلق  نازل کردہ احکامات  دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کا خاتمہ کر کے سب کو معاشی ترقی کے ثمرات کا متناسب فائدہ پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔  اگر اس  سب کے بعد بھی محاصل کم پڑجائیں تو  ریاست  معاشرے کے امیر افراد سے ہنگامی ٹیکس وصول کرسکتی ہے ۔

لہٰذا موجودہ بجٹ میں بھی گزشتہ حکومتوں کے بجٹ کی طرح کچھ نیا نہیں۔  آئی ایم ایف کی پالیسی کے تحت چل کر کبھی بھی ہم ایک آزاد معیشت کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ صرف اسلام کے معاشی نظام کے ذریعے  ہی پاکستان کو صف اول کی معیشت پر کھڑا کیا جا سکتا ہے،  وہ معیشت جہاں “روٹی یا بندوق “کی بجائے” روٹی اور بندوق “کا انتظام ہو گا، تاکہ کشمیر و فلسطین کی آزادی یا ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ کسی حکمران کی معاشی بلیک میلنگ کے سامنے یرغمال نہ ہو۔

Poverty in Pakistan

اس بجٹ میں نیا کیا ہے؟

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged , , ,
49829