The Voice of Chitral since 2004
Friday, 5 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

غریب کا دشمن غریب – میری بات/روہیل اکبر

Posted on

غریب کا دشمن غریب – میری بات/روہیل اکبر

شیخ رشید پرانے اور عوامی سیاستدان ہیں انکا ایک جملہ بہت ہی خوبصورت ہے کہ پاکستان میں غریب ہی غریب کا دشمن ہے اوپر والے تو سبھی ایک دوسرے کا نہ صرف بھر پور خیال رکھتے ہیں بلکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بھی بن جاتے ہیں جبکہ ملک کا غریب طبقہ ایک دوسرے کا جانی دشمن جہاں موقعہ ملتا ہے ایسے ایسے تشد کے طریقے سامنے آتے ہیں کہ دل دھک دھک کرنا شروع کردیتا ہے اس وقت پنجاب میں ٹریفک پولیس کی طرف سے چالان کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں نے شہریوں کوشدید پریشان کررکھا ہے عوام پہلے ہی بدترین معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کا شکار ہے اس وقت شہری مہنگائی، بدامنی، بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز اور لاقانونیت کی لپیٹ میں ہیں روز بروز بڑھتی ہوئی اشیاء خوردونوش اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عوام کی قوت خرید کو متاثر کر رکھی ہیں اوپر سے بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ اور بجلی کی غیر یقینی دستیابی نے عوام کے لئے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور اب رہی سہی کسر ٹریفک پولیس نے پوری کردی ہے

بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت وقت کی ترجیحات میں عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی بجائے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنا نظر آتا ہے اس ضمن میں حکومت کی جانب سے مخالف سیاسی جماعتوں خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کے خلاف اقدامات کو انتقامی سیاست کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے حکومت سیاسی میدان میں اپنے مخالفین کو دبانے میں مصروف ہے اس سے نہ صرف عوام میں مایوسی اور بے اعتمادی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے بلکہ معاشرتی توازن بھی بگڑ رہا ہے اسکے ساتھ ساتھ سرحدی صورتحال کی نازک صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کو مسلسل چوکنا رہنا پڑ رہا ہے ایسی صورتحال میں اگر ملک کی داخلی صورتحال غیر مستحکم ہو تو بیرونی خطرات کا سامنا کرنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں معاشی عدم استحکام کے اثرات براہ راست عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہے ہیں

پاکستان کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی معیشت پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں جس کے نتیجے میں بے روزگاری اور مہنگائی مزید بڑھ رہی ہے ان مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے کہ حکومت عوام کے مسائل کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہوئے پولیس کے نظام میں اصلاحات ضروری ہیں ورنہ حالات بگڑ بھی سکتے ہیں کیونکہ اس وقت مہنگائی کا طوفان ہر گھر کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے، مزدور کی اجرت دو وقت کی روٹی کے لیے ناکافی ہے، پیٹرول، آٹا، بجلی، گیس سب کچھ عوام کی پہنچ سے باہر ہو رہا ہے اور ایسے میں ٹریفک پولیس کا چالانوں کی بھر مار کرنا غربت کی ماری اس قوم پر ظلم سے کم نہیں لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں آج کل ہر موٹر سائیکل سوار، ہر رکشہ ڈرائیور اور ہر پرائیویٹ گاڑی والا ایک ہی فقرہ دہراتا ہے “اب تو سانس لینے پر بھی چالان ہو جائے گا!” شائد اسی لیے سڑکوں پر وردی پہنے، ہاتھ میں چالان بک لیے کھڑے ٹریفک وارڈن اکثر ایک مخصوص ہدف کے تحت شہریوں کو روک روک کر چالان کر رہے ہیں یہ “یومیہ ٹارگٹ” سسٹم درحقیقت عوام سے زبردستی پیسے نکلوانے کا ایک نیا ہتھکنڈہ بن چکا ہے تصور کریں کہ ایک مزدور جو روزانہ 1000 روپے کماتا ہے اگر وہ بغیر ہیلمٹ کے پکڑا جائے اور اس پر 2000 روپے کا چالان ہو جائے تو وہ کیا کھائے گا؟ بچے کو سکول کیسے بھیجے گا؟

ایک طالبعلم جس کے پاس رجسٹریشن نہیں یا ایک غریب رکشہ ڈرائیور جو سگنل کراس کر جائے ان سب پر ہزاروں کے چالان کر دینا انصاف نہیں بلکہ “ریاستی زیادتی” ہے اس وقت لاہور میں سیف سٹی کیمرے اور اے این پی آر سسٹم نے چالانوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے ایک شخص کو مہینے کے آخر میں پتا چلتا ہے کہ اس پر 5، 6 یا 10 چالان لگ چکے ہیں وہ بھی بغیر کسی اطلاع، وارننگ یا موقع فراہم کیے یہ عمل نہ صرف غیر شفاف ہے بلکہ عوام کے لیے باعثِ ذہنی اذیت بھی ہے جس پر عوام کی شکایات ہے کہ ہمیں آگاہی نہیں دی جاتی بلکہ جرمانہ کر دیا جاتا ہے شکایات سننے کے لیے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں چھوٹی چھوٹی خلاف ورزیوں کو بھی سنگین جرم بنا کر جرمانے تھوپے جاتے ہیں جس سے شہریوں میں بے چینی پاء جارہی ہے اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے اگر حکومت سنجیدگی سے سوچے کہ جرمانے کی شرح آمدنی کے مطابق ہو ایک مزدور، ایک رکشہ ڈرائیور اور ایک لگژری کار والے پر ایک ہی رقم کا چالان سمجھ سے بالاتر ہے پہلی بار خلاف ورزی پر وارننگ سسٹم ہو چالان کے بجائے شہری کو خبردار کیا جائے ٹریفک قوانین کی عملی تربیت دی جائے قانون صرف سزا نہیں بلکہ رہنمائی بھی ہونی چاہیے ٹارگٹ بیسڈ چالان سسٹم ختم کیا جائے ورنہ قانون ایک “ریاستی بھتہ” بن جائے گا

اس لیے شہریوں کی شکایات کے لیے آزاد فورم بنایا جائے جہاں شہری اپنی بات بغیر خوف کے رکھ سکیں کیونکہ ریاست اگر واقعی ماں کی مانند ہے تو اْسے اپنی اولاد کو سڑکوں پر تنگ نہیں کرنا چاہیے غریب عوام پر جرمانے ٹھونس کر ان کی غربت اور بے بسی کا مذاق نہ اْڑایا جائے چالان اگر اصلاح کے لیے ہوں تو قابلِ قبول ہیں اگر وہ صرف خزانے بھرنے کا ذریعہ بن جائیں تو پھر یہ انصاف نہیں جبر ہے یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ٹریفک پولیس والوں کا چالان کرنے کا مقابلہ ہورہا ہے اسی لیے تو 2025 میں پنجاب پولیس نے 6.75 ملین سے زائد چالانز جاری کیے جن سے تقریباً 4 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں

ڈیڑھ ارب سے زائد روپوں کے e چالان ہدف کے بعد لاہور کے لئے علیحدہ سے11 ارب روپے کی آمدن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے لاہور میں 6 ارب روپے سے زائد کے چالانز تھے جن میں سے کچھ کو عدالت کے ذریعے ضبط شدہ گاڑی نیلام کرنے تک کارروائی کی گئی آن لائن فورمز پر شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ہر ٹریفک وارڈن کو روزانہ چالان کا ہدف دیا گیا ہے (مثلاً 25 چالان روزانہ) تاکہ ادارے اپنی ریونیو ٹارگٹ پورا کر سکیں اس دباؤ کی وجہ سے بعض اوقات غیر سنجیدہ یا معمولی خلاف ورزیوں پر بھی چالان کیے جا رہے ہیں پنجاب میں ٹریفک چالانوں کی “بھرمار” دراصل نئے قانونی، تکنیکی اور ریونیو اہداف کی وجہ سے ہے اس لیے شہریوں کو بھی چاہیے کہ مناسب احتیاطیں اختیار کریں اور قواعد کی پابندی کریں تو چالان کا خطرہ کم ہو سکتا ہے ورنہ غریب ٹریفک وارڈن اپنی نوکری بچانے کے لیے اپنے سے بھی غریب لوگوں کے چالان کرتا رہے گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
112455

غریب کا دشمن غریب – میری بات:روہیل اکبر

غریب کا دشمن غریب – میری بات:روہیل اکبر

گذشتہ تقریبا تین دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہو پنجاب اسمبلی کی رپورٹنگ بھی کئی سالوں سے کررہا ہوں سیاستدانوں سے دوستیاں بھی ہیں علماء کرام سے بھی ملاقات رہتی ہے کئی بار سیاسی جماعتوں کا حصہ بھی رہا اندر کی سیاست سے لیکر جلسے جلوس کی سیاست کو بھی سمجھتا ہوں پہلے دن سے لیکر آج تک اسی شعبے کا حصہ رہا مشکل ترین حالات بھی دیکھے اور پھر نہ جانے کیا کیا دیکھ ڈالا میں نے پنجاب اسمبلی کے ٹھنڈے ہال میں گرما گرم تقریریں کرتے ہوئے بہت کم غریب لوگوں کو دیکھا 371اراکین پر مشتمل پنجاب اسمبلی جو ٹوٹی ہوئی ہے اور اس سے پہلے والی اسمبلیوں میں بھی گنتی کے ایک یا دو افراد ہی غربت کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان سے ہٹ کر جتنے بھی معزز اراکین پارلیمنٹ آتے رہے وہ اربوں اور کھربوں کے مالک ہوتے ان میں سے چند بے چارے کروڑ پتی بھی ہوتے تھے جبکہ اکثر نسل در نسل غریب لوگوں کی تقدیر بدلنے اسمبلی میں آئے اور پھر جانے کا نام تک نہ لیاباپ کے بعد بیٹا غریب لوگوں کی خدمت کے لیے موجود رہا

انکے حلقوں کی حالت کا اندازہ لگائیں کہ پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں صفائی جو نصف ایمان ہے وہ نہیں ہے سکولوں کی حالت قابل رحم ہے بچے ہیں تو اساتذہ نہیں ہیں ہسپتال ہیں تو ڈاکٹر نہیں دیہاتوں اور وہ بھی دور دراز کے دیہاتوں میں تو زندگی کسی عذاب سے کم نہیں غریب کا بچہ اپنی چار کنال زمین بیچ کر ماسٹرڈگری بھی کرلے تو پھر بھی بے روزگاری اسکا مقدر بن جاتی ہے اور جو انہی کے ووٹوں سے انکا مستقبل سنہری بنانے کے وعدے کرکے اسمبلیوں میں آتے ہیں پھر انہی کا مستقبل داؤ پر لگائے رکھتے ہیں میں بات کررہا تھا پنجاب اسمبلی کے معزز اراکین کی کہ غریبوں کے نام پر ووٹ کی بھیک مانگنے والے جیتنے کے بعد واپس پلٹ کر غریبوں کی بستی میں نہیں جاتے بلکہ ان کے ڈیروں پر آنے والے غریب لوگ سارا دن وقت ضائع کرنے کے بعد بھی خالی ہاتھ ہی لوٹ جاتے ہیں بڑی بڑی گاڑیوں پر پھرنے والے غریبوں کے پاس سے جب گذرتے ہیں تو اتنی تیزی سے گذرتے ہیں کہ بعد میں انکا ووٹر دھول اور مٹی میں سے رنگین ہوتی ہوئی اپنی شکل بھی نہیں پہچان پاتا پچھلی اسمبلیوں میں پیپلز پارٹی کی سابقہ جیالی ساجدہ میر اور مسلم لیگ ن سے بہاولپور کی حسینہ معین کا تعلق غریب خاندان سے تھا جو اسمبلی بھی رکشے پر آتی تھیں اور واپسی بھی رکشے سے ہی کرتی رہی انکا گھر بھی غریب لوگوں کے درمیان تھا اور اٹھنا بیٹھنا بھی عام لوگوں کے ساتھ تھا یہ بغیر کسی پروٹوکول کے گھومتی پھرتی اپنے علاقے کے غریب لوگوں سے رابطے میں رہتی لیکن بدقسمتی سے پیپلز پارٹی نے ساجدہ میر کو کوئی عہدہ دیا اور نہ ہی مسلم لیگ ن نے حسینہ کو کسی قابل سمجھا یہی ان پر بڑا احسان تھا کہ انہیں مخصوص سیٹ پر اسمبلی کا ممبر بنا دیا

حسینہ نے تو اسمبلی میں آکر بھی کوئی بات نہیں کی لیکن ساجدہ میر نے اپنی تقریروں کے زریعے اپنا حق اداکردیا جبکہ انکے مقابلہ میں جاگیر دار اور سرمایہ دار ممبران اسمبلی بھی غریبوں کے نام پرہی سیاست کرتے اسمبلی میں انکا رونا روتے جلسوں میں غریبوں کے لیے مگر مچھ کے آنسو بہاتے اور پھر بند کمروں میں غریبوں کی ایسی تیسی پھیرتے ہوئے ٹیکسوں کی بھر مار کرتے اور اپنے لیے ڈھیروں مراعات لے آتے عوامی مسلم والے شیخ رشید کی ایک بات کبھی کبھی بہت یاد آتی ہے کہ اس ملک میں غریب ہی غریب کا دشمن ہے جو کبھی بھی غریب کو ووٹ نہیں دیتا وہ ہمیشہ سرمایہ دار کوووٹ دیتا ہے وہ جاگیر دار کو ووٹ دیتا ہے وہ کسی بڑے عہدے سے ریٹائر ہونے والے کو ووٹ دیتا وہ رسہ گیر کو ووٹ دیتا وہ قبضہ گروپ کو ووٹ دیتا ہے وہ بریانی کی پلیٹ دیکھ کر ووٹ دیتا ہے وہ روٹی شوٹی اور مال پانی دیکھ کر ووٹ دیتا ہے اور تو اور وہ الیکشن والے دن اپنے ووٹ کی قیمت لیکر اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لیتے ہیں کبھی کسی ووٹر نے اپنا ووٹ دیتے ہوئے سوچا کہ ہم جنہیں اپنا مستقبل بہتر بنانے کے لیے ووٹ دیتے ہیں انکی کوئی چیز بھی ہم سے نہیں ملتی انکا گھراور رہن سہن ہمارے جیسا نہیں انکا کھانا پینا ہمارے جیسا نہیں انکی سواریاں ہمارے جیسی نہیں انکے بچوں کی تعلیم ہمارے بچوں جیسی نہیں انکے بچوں کے کھلونے ہم نے زندگی میں نہیں دیکھے اورانکے ایک کھلونے کی قیمت ہمارے پورے گھر کے ایک ماہ کے راشن سے بھی زیادہ ہے

انکے علاج کروانے کی سہولتیں ہماری طرح نہیں غریبوں کے نام پر سیاست کرنے والوں کی کوئی ایک عادت بھی غریبوں جیسی نہیں اور ہم پھر بھی انہیں ووٹ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے بلکہ چند انکے مفادات کے تحفظ کے لیے ہم اپنے جیسے ہی غریب لوگوں کو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں ہماری خواتین انکی باندیاں ہمارے بچے انکے مستقبل کے غلام اور ہم تو پیدا ہی ان لوگوں کی خدمت کے لیے ہوئے ہیں یہ سب کیسے بدلے گا کیسے ختم ہو گی غربت اور کیسے ہم لوگ ترقی کرینگے اور مزے کی بات یہ ہے کہ جو یہ سب کچھ برداشت کررہے ہیں انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ننگ دھڑنگ انکے بچے ہوش سنبھالتے ہی کسی نہ کسی کے نوکر بن جاتے ہیں انکی خوبصورت لڑکیاں امیر لوگوں کے گھروں میں نوکرانیاں بن کر زندگی گذار دیتی ہیں انکے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ کبھی کبھی خبروں کی زینت بھی بنتا رہتا ہے 23کروڑ کی آبادی میں اکژیت غلاموں کی ہے جو نسل در نسل غلام ہی پیدا کرتے آرہے ہیں

ہمارے تعلیمی اداروں کا ماحول اور بڑے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کا ماحول دیکھ لیں زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا آپ باقی علاقوں کو چھوڑیں لاہور کے شالامار کالج کو ایک نظر آکر دیکھ لیں بلکہ یہاں کے مقامی اور خاص کر اس کالج کے ارد گرد رہنے والے لوگ اور اس کالج میں پڑھنے والے بچے اپنے کالج کی صفائی ستھرائی کا جائزہ لیکر بتائیں کہ کیاخامی ہے اس کالج میں نہیں پتا چلے گا کیونکہ آپ تو کئی سالوں سے اس کالج میں آرہے ہو میں تو صرف ایک دن گیا تھا اور باتھ رومز کی حالت دیکھ ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ کالج کتنا گندہ ہے اور یہاں پڑھنے والوں پر بھی حیرت ہوئی کہ وہ کیسے مستقبل کے معمار ہیں جو اپنی مادر علمی کو صاف رکھوانے میں ناکام ہیں اور مستقبل میں انکا ملک کے لیے کیا رول ہوگا کیسا وہاں کا بے حس سٹاف ہے اور کیسا پرنسپل ہوگا جو کبھی اپنے دفتر سے باہر نہیں نکلایہ شہر اقتدار کے کالج کا حال ہے اور ملک کے باقی کالجز اور سکولوں کا حشر بھی ہمارے سامنے ہے ہم لوگ اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہوسکتے تو دوسروں کا خیال خاک کرینگے ہم نے اگر پاکستان کو خوشحال بنانا ہے تو پھر غریبوں کو ایک دوسرے کی دشمنی چھوڑکر متحد ہونا پڑے گا تب ہی ہماری قسمت بدلے گی علامہ اقبال شائد ہمارے لیے ہی فرما کرگئے تھے کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
75314