2022ء : غذر خاص کی دو شخصیات کی رحلت – شاہ عالم علیمی
2022ء : غذر خاص کی دو شخصیات کی رحلت – شاہ عالم علیمی
خوشی زار چچا اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ اپنے نام کی مثل خوش مزاجی اور خوش مذاقی میں اپنی مثال آپ تھے۔
زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگوں سے بہتر علم اور ادراک رکھتے تھے۔ ہنسی مذاق ان کی شخصیت کا نمایاں حصہ تھا لیکن معاشرتی، سماجی اور سیاسی مسائل کے حل میں نہ صرف سنجیدہ تھے بلکہ بہتر علم اور آگاہی رکھتے تھے اور ان کے حل میں ہمیشہ آگے ہوتے۔
جیب میں ہمیشہ ٹافیاں رکھتے تھے اور ہر ملنے والے کو، چاہیے جاننے والا ہو یا نہ جاننے والا ہو، منہ میٹھا کرواتے تھے۔ خود ہی کہا کرتے تھے کہ میں نے ان غذر والوں کو اتنی میٹھائیاں کھلائی ہے کہ اب ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کو شگر نہ ہوجائے۔
اِن ڈور گیمز کا بڑا شوق رکھتے تھے۔ اکثر تاش کارڑ کھیلنے بیٹھ جاتے تو پورا دن ایک ہی جگہ بیٹھے گزار دیتے۔ ایسا ہی ایک دن ہمارے گاوں آئے اور دکان کے باہر تاش کھیلنے لگے۔ صبح ان کو میں نے چائے پلائی، پھر جاکر دوپہر کو چائے پلائی۔ شاباش دیتے رہے پھر جاکر شام کو چائے لایا تو کہنے لگے؛ ابے لڑکے تم نے ہوٹل تو نہیں کھولا ہے ناں، ایسا نہ ہو کہ ساتھ بل بھی لے آو۔
ایک دفعہ کئ سالوں بعد ملے تو پوچھا ارے لڑکے تم کہاں غائب ہو۔ میں نے کہا چچا ذرا باہر (ملک) گیا ہوا تھا۔ کہنے لگے رہنے دو تمہارے باہر جانے سے میرا اندر ہی رہنا بہتر ہے۔
خوشی زار چاچا کی اکثر باتیں ضرب المثل بن چکی ہیں یا اقوال زرین۔ ان کی گفتگو اور چٹکلوں نے کھوار زبان کی وسعت میں بلامبالغہ اضافہ کردیا ہے۔ یہ ان کی اعلیٰ ذہنیت کا ثبوت ہے۔
ان کی زندگی کے واقعات پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے اور ان کی باتوں اور زندگی کے حادثات کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا بھی چاہیے۔
ان کی زندگی زندہ دلی سے پُر تھی۔ بڑے بڑے حادثات کو بھی اپنے نام کی طرح ہنسی خوشی جھیل لیتے تھے۔
ان کے دو بیٹے یکے بعد دیگرے فوج میں زمہ داریاں نھباتے ہوئے شہید ہوگئے۔ مگر اس سے ان کے استقلال میں کوئی کمی نہیں آئی۔
خوشی زار چاچا یکم اگست 2022ء کو عرضہ قلب سے لڑتے لڑتے اس دنیا سے چلے گئے۔ مجھے یقین ہے مرتے مرتے بھی وہ لوگوں کو ہنسا رہے تھے اور خود مسکرا رہے تھے۔ یا کم از کم اس شعر کی طرح تھے؛ جمع ہیں احباب بالیں پر مرے ، موت کتنی خوبصورت ہوگئی۔
ابھی ان کی عمر ہی کیا تھی لیکن وہی جو کہتے ہیں اچھے لوگ جلدی چلے جاتے ہیں۔
خلیفہ عیسیٰ محمد خان
خلیفہ عیسیٰ محمد خان کی سب بڑی خوبی ان کا عصری، ذہنی، مذہبی اور روحانی شعور تھی۔ وہ دین اور دنیا یا یوں کہنا مناسب ہوگا کہ وہ مذہب اور دنیا کے آدمی تھے۔
کسی ریٹائرڈ فوجی کو ذہنی اور علمی مشقت کرتے میں نے بہت ہی کم دیکھا ہے مگر خلیفہ عیسیٰ خان ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نہ صرف دنیا آباد کی بلکہ علمی جستجو اور اپنی کمیونٹی کی مذہبی خدمت بھی کرتے رہے۔
اس کے پیچھے ان کا شوق جستجو اور ساتھ ساتھ کسب و نسب کے علاوہ خاندانی روایات بھی ہوسکتی ہیں۔
وہ متجسس لوگوں میں سے تھے۔ دو چیزوں میں ان کو خصوصیت کے ساتھ دلچسپی تھی؛ اول کتاب دوم زمین۔ نجانے کہاں کہاں سے کتابیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ڈھیروں ساری کتابیں الماریوں میں بھردیا تھا۔ ان میں کچھ نایاب کتب بھی شامل تھیں۔ جہاں تک زمین کی بات ہے کہا کرتے تھے کہ میری دلی خواہش ہے کہ اللَّه تعالی مجھے اتنی زمین عنایت کرے کہ میرے ‘گلے کے اوپر سے نکل جائے’۔
زمین آباد کرنے والے اور ذہنی و علمی مشقت اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے پسندیدہ ہوتے ہیں۔ اس پہلو سے دیکھیں تو خلیفہ صاحب دو قسم کے لوگوں کے لیے ایک نمایاں مثال تھے؛ اول تو وہ جو کام چور، کاہل، صبح کا شام شام کا صبح کرنے والے لوگ جن کے بارے میں کہاوت مشہور ہے کہ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے، دوم وہ لوگ جو کام تو کرتے ہیں لیکن علم اگاہی اور شعور کے دشمن ہیں۔ یہ لوگ حیوان کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔
خلیفہ صاب کے ساتھ میرا خصوصی رشتہ تھا۔ وہ رشتے میں تو ہمارے چچا لگتے تھے لیکن علمی اور شعور کے پہلو سے ہمارے دوستانہ تعلقات تھے۔ جب بھی ملتے تو فالتو یا بہودہ باتوں کے بجائے علمی اور تاریخی معاملات پر گفتگو کرتے۔ کئی سال پہلے میں نے ان کے پاس سے ایک نایاب لغت مستعار لیا۔ ایک دو سال میں واپسی کا تقاضا کرنے لگے لیکن میں بضد رہا۔ چلتے چلتے دس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا میں نے واپس نہیں کیا۔
ایک دن ازراہِ مذاق میں نے کہا کہ خلیفہ صاحب وہ لغت کھو گئ۔ آگ بگولہ ہوکر کہنے لگے میں تمہارا بیل لے جاونگا تمہارے گھر پر قبضہ کرلونگا۔ بہرحال پھر اس لغت سے بھرپور استفادے کے بعد میں نے شکریے کے ساتھ ان کو واپس کردیا۔
خلیفہ عیسیٰ خان صاحب کو مولا علی(ع) سے خاص عشق تھا پیر ناصر خسرو کے متعدد عرفانہ کلام زبانی یاد تھے۔ اچھی خاصی فارسی پر عبور تھا۔ بحث و مباحثہ میں کلام ناصر خسرو سمیت فارسی عربی سے خوب استدلال لاتے۔ لیکن ناصر خسرو کے توحید کی تعلیمات سے صیح واقف نہیں تھے، سو کبھی کبھار دروزیوں اور علویوں کے عقائد کو مین سٹریم اسمعیلیہ ڈاکٹرائن سے غلط ملط کرجاتے۔
برجستہ مزاحیہ مگر عبرت انگیز جواب دے دیتے۔ ایک دفعہ ایک مے خوار کی عیادت کو گئے۔ ان صاب نے عرض کیا؛ خلیفہ صاحب میرے لیے دعا فرمائیں۔ اس پر فوراً جواب دیا، “ارے صاب کیا فائدہ، زندگی بھر موج مستیاں کرکے آخری وقت ہاتھ اٹھانے پر خدا بھی ہاتھ اٹھا لیتا ہے”۔
خلیفہ صاحب غذر خاص کے ایک بڑے حصے کے مذہبی خدمت گزار تھے۔ انھوں نے اپنی خاندانی روایات کو بخوبی نبھایا، لوگوں کی خدمت کی۔ اپنے والد مرحوم کی طرح ہر گھرانے کی خوشی غمی میں شریک ہوئے۔ اپنے بچوں کی زبردست تربیت بلکہ ‘عسکری تربیت’ کی۔ زندگی جی بھر کر جیا، دنیا کو ٹھوکروں پر رکھا، علم و جستجو کی تگ ودو کی۔
ابھی تو ان کے جینے کے دن تھے لیکن داغ مغفرت دے گئے اور بھری جوانی میں دنیا چھوڑ گئے۔ اللّٰه مرحومین کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
