The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

احاطہء عدالت سے عمران خان کی گرفتاری سے عدالت کا تقدس کہاں گیا؟۔ نیب کے وارنٹ کی قانونی حیثیت نہیں ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان 

Posted on

احاطہء عدالت سے عمران خان کی گرفتاری سے عدالت کا تقدس کہاں گیا؟۔ نیب کے وارنٹ کی قانونی حیثیت نہیں ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان

اسلام ا ٓباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ درخواست کی سماعت کی۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کے علاوہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی بینچ میں شامل ہیں۔سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ آئے تھے، وہ بائیو میٹرک کرا رہے تھے جب رینجرز اہلکار کمرے کا دروزاہ توڑ کر داخل ہوئے، رینجرز نے عمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی اور عمران خان کو گرفتار کر لیا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ میں کس کیس میں پیش ہوئے تھے؟ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کہ کیا بائیو میٹرک سے پہلے درخواست دائر ہو جاتی ہے؟عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بائیو میٹرک کے بغیر درخواست دائر نہیں ہوتی اس لیے عمران خان پہلے بائیو میٹرک کرانے گئے۔جس پر جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ یہی سوال ہے کہ کیا کسی کو انصاف کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟ کیا مناسب نہ ہوتا کہ نیب ہائی کورٹ کے رجسٹرار سے اجازت لیتا، نیب نے قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟ سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے بہت افسوس ناک ہے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ احاطہء عدالت سے گرفتاری سے عدالت کا تقدس کہاں گیا؟ ریکارڈ کے مطابق جو مقدمہ مقرر تھا وہ شاید کوئی اور تھا، عدالتی حکم کے مطابق درخواستِ ضمانت دائر ہوئی تھی لیکن مقرر نہیں تھی، عمران خان کو نیب کے کتنے افراد نے گرفتار کیا؟ 90 افراد عدالت کے احاطے میں داخل ہوئے تو عدالت کی کیا توقیر رہی؟ نیب نے عدالت کی توہین کی ہے، کوئی بھی شخص خود کو آئندہ عدالت میں محفوظ تصور نہیں کرے گا، کسی کو ہائی کورٹ، سپریم کورٹ یا احتساب عدالت سے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، عمران خان کی گرفتاری سے عدالتی وقار مجروح کیا گیا، کتنے لوگوں نے عمران خان کو گرفتار کیا؟وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے 80 سے 100 لوگ تھے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر 80 سے 100 لوگ احاطے میں آئیں گے تو عدالت کا کیا ہو گا؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ اگر ایسے گرفتاریاں ہونے لگیں تو مستقبل میں کوئی عدالتوں پر اعتبار نہیں کرے گا، جب ایک شخص نے عدالت میں سرینڈر کر دیا تھا تو اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عدالتی عملے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نیب کے وارنٹ کی قانونی حیثیت نہیں اس کی تعمیل کا جائزہ لیں گے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کے حق کو سبوتاڑ نہیں کیا جا سکتا۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان دہشت گردوں کے نشانے پر تھے، ان کی سیکیورٹی بھی لے لی گئی تھی، رینجرز نے عمران خان کو جیسے گرفتار کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، گرفتاری کے وقت نیب کا تفتیشی افسر بھی موجود نہیں تھا۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ نیب کئی سال سے مختلف افراد کے ساتھ یہی حرکتیں کر رہا ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پتہ چلا کہ یکم مئی کو وارنٹ جاری ہوئے تھے، سیکریٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ وارنٹ عمران خان کو نہیں ملے تھے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ سیاسی قیادت کی عدالت میں پیشی پر اچھے ردِ عمل کی توقع کرتے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو ہوا وہ رکنا چاہیے تھا۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے عمران خان کے وکلاء سے سوال کیا کہ آپ لوگ سپریم کورٹ سے کیا چاہتے ہیں؟وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ عمران خان کی رہائی کا حکم دے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ غیر قانونی کام سے نظر نہیں چرائی جا سکتی، آپ جو فیصلہ چاہتے ہیں اس کا اطلاق ہر شہری پر ہو گا، انصاف تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، میانوالی میں ضلعی عدلیہ پر حملہ ہوا، معلوم کریں میانوالی میں ضلعی عدلیہ پر حملہ کس نے کیا؟ ضلعی عدلیہ پر حملے کا سن کر بہت افسوس ہوا۔وکیل حامد خان نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ 9 مئی کو کوئی کارکن یا جتھہ عدالت نہیں آیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے نیب کے نوٹسز کا جواب دیا تھا؟عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ عمران خان نے نیب کے نوٹسز کا جواب دیا تھا، قانون کے مطابق انکوائری کے دوران ملزم کی گرفتاری نہیں ہو سکتی، نیب کی انکوائری مکمل ہونیکے بعد رپورٹ ملزم کو دینا ضروری ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے پھر استفسار کیا کہ عمران خان شاملِ تفتیش ہوئے یا نہیں؟وکیل شعیب شاہین نیجواب دیا کہ عمران خان نے نیب کے نوٹس کا جواب بھجوانا تھا، نیب کا وارنٹ غیر قانونی ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ سوال غیر قانونی وارنٹ کا نہیں، وارنٹ کی تعمیل کرانے کے طریقہ کار کا سوال ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ نیب کے وارنٹ عمران خان نے چیلنج نہیں کیے؟جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ نیب کے وارنٹ عمران خان نے چیلنج نہیں کیے؟ عمران خان نیب میں شاملِ تفتیش کیوں نہیں ہوئے؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب کے نوٹس میں عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا، نیب دوسروں سے قانون پر عمل کرانا چاہتا ہے مگر خود نہیں کرتا، نیب کی خواہش ہے کہ بس دوسرے قانون پر عمل کرتے رہیں، واضح ہے کہ عمران خان نے بھی نیب کے نوٹس پر عمل نہیں کیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نیب کے نوٹس کا مطلب ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص ملزم تصور ہو گا، کئی لوگ نیب کے نوٹس پر ہی ضمانت کرا لیتے ہیں، ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے مارچ میں موصول ہونے والے نیب کے نوٹس کا جواب مئی میں دیا۔

عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ عمران خان کو ایک ہی نیب کا نوٹس ملا۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ جسٹس محمد علی مظہر قانون پر عمل درا?مد کی بات کر رہے ہیں، اصل معاملہ انصاف تک رسائی کے حق کا ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کیا نیب نے رجسٹرار ہائی کورٹ سے گرفتاری سے قبل اجازت لی تھی؟پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے وارنٹ کی تعمیل وزارتِ داخلہ سے کرائی تھی۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی احاطے میں وارنٹ پر عمل درآمد وزارتِ داخلہ نے کیا؟پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ نیب نے کئی سال سے سبق نہیں سیکھا، نیب پر سیاسی انجینئرنگ سمیت کئی الزامات ہیں، نیب نے ملک کو بہت تباہ کیا ہے۔نیب کے وکیل سردار مظفر نے کہا کہ عمران خان کا کنڈکٹ بھی دیکھیں کہ ماضی میں مزاحمت کرتے رہے ہیں، نیب کو جانوں کے ضیاع کا خطرہ تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کے مطابق تو نیب کے وارنٹ کی تعمیل کا طریقہ کار وفاقی حکومت نے طے کیا، کیا گرفتاری کے وقت نیب کا کوئی افسر موجود تھا؟اس موقع پر نیب حکام عدالت کے سوال کا جواب نہ دے سکے۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ مجھے تمام حقائق معلوم نہیں ابھی کچھ دیر پہلے ہی تعینات ہوا ہوں، وارنٹس پر تو کوئی نجی شخص بھی عمل کرا سکتا ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ نیب خود بھی اپنے وارنٹس پر عمل درا?مد کراتا رہتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ یکم کو وارنٹ جاری ہوئے 9 کو گرفتاری ہوئی، 8 دن نیب نے خود گرفتاری کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کیا نیب عمران خان کو عدالت سے ہی گرفتار کرنا چاہتا تھا؟ وزارتِ داخلہ کو 8 مئی کو خط کیوں لکھا گیا؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کیا نیب نے عمران خان کو عدالت کے اندر سے گرفتاری کا کہا تھا؟ عمران خان کو کتنے نوٹسز موصول ہوئے؟پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ عمران خان کو صرف ایک نوٹس دیا گیا تھا۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ بظاہر نیب وارنٹس قانون کے مطابق نہیں تھے، کیا وارنٹس جاری ہونے کے بعد گرفتاری کی کوشش کی گئی؟ عمران خان لاہور میں تھے، نیب نے پنجاب حکومت کو وارنٹ کی تعمیل کا کیوں نہیں کہا؟چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ عمران خان کو گرفتار کس نے کیا تھا؟نیب کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ آئی جی اسلام آباد کے مطابق انہوں نے وارنٹ کی تعمیل کرائی، عدالتی حکم کے مطابق پولیس نے وارنٹ کی تعمیل کرائی تھی۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کے مطابق پولیس کارروائی کی نگرانی کر رہی تھی؟ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ رینجرز نے پولیس کے ماتحت گرفتاری کی تھی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ رینجرز کے کتنے اہلکار گرفتاری کے لیے موجود تھے؟ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ رینجرز اہلکار عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے موجود تھے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نیب نے وارنٹ کی تعمیل سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کسی قانون کے تحت رجسٹرار سے اجازت لینے کی پابندی نہیں تھی۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کیا شیشے اور دروازے توڑے گئے؟ ضابطہء فوجداری کی دفعات 47 سے 50 تک پڑھیں، بائیو میٹرک برانچ کی اجازت کے بغیر بھی شیشے نہیں توڑے جا سکتے۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ عمران خان کو کہیں اور گرفتار کرنا ممکن نہیں تھا، عمران خان ہر پیشی پر ہزاروں افراد کو کال دیتے تھے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ تو واضح ہو گیا کہ کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی، ملزم عدالت میں سرینڈر کر دے اور وہاں سے گرفتاری ہو تو احاطہ? عدالت گرفتاریوں کے لیے آسان مقام بن جائے گا، ایسے تو ملزمان کے ذہن میں عدالتیں گرفتاریوں کی سہولت کار بن جائیں گی۔سپریم کورٹ نے عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد عمران خان کو ساڑھے 4 بجے پیش کریں۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ شیشے توڑ کر غلط کام کیا گیا تھا، عمران خان کی درخواستِ ضمانت ابھی دائر ہی نہیں ہوئی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ حکومت سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ بھی یہ کرے گی۔اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ نیب آزاد ادارہ ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ نیب نے سارا الزام وفاقی حکومت پر ڈال دیا ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ نیب نے رینجرز تعینات کرنے کی درخواست 8 مئی کو کی تھی، نیب کی رینجرز تعینات کرنے کی درخواست وارنٹس پر عمل درآمد کے لیے نہیں تھی، احتساب عدالت ریمانڈ دے چکی ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ بنیاد غیر قانونی ہو تو عمارت قائم نہیں رہ سکتی، وقت آ گیا ہے کہ مستقبل کے لیے مثال قائم کی جائے، جس انداز میں گرفتاری کی گئی برداشت نہیں کی جا سکتی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت معاملے پر بہت سنجیدہ ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اٹارنی جنرل کی کل تک کی مہلت کی استدعا مسترد کر دی۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ چھوڑ دیں عمران خان کو، کوئی عام شہری بھی ہوتا تب بھی یہ اقدام ناقابلِ برداشت ہوتا، وارنٹِ گرفتاری کی قانونی حیثیت پر بات نہیں کرنا چاہتے، دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی برا سلوک ہوتا رہا ہے، ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وقت آ گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم ہو۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے۔درخواست میں عمران خان کی رہائی اور گرفتاری کی تحقیقات کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کی حفاظت یقینی بنانے کا حکم بھی دیا جائے۔درخواست گزار کی جانب سے مو قف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاری اختیارات کا ناجائز استعمال اور سیاسی انتقام ہے۔درخواست میں مو قف اپنایا گیا ہے کہ حکومت کا رویہ بنیادی حقوق اور آئین کے آرٹیکل 9، 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار کا مو قف ہے کہ بنیادی حقوق کی اس خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کی مداخلت ناگزیر ہے۔درخواست میں وفاقی حکومت، وزارتِ دفاع اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو فریق بنایا گیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74342

عمران خان کی گرفتاری سپریم کورٹ میں چیلنج

Posted on

عمران خان کی گرفتاری سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرا دی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 9 مئی کا حکم آرٹیکل 10 اے کے خلاف ہے اور عدالت کا فیصلہ تضادات سے بھرپور ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ غیر قانونی حراست سے نکالنے میں ناکام رہی۔سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کے جاری کردہ وارنٹ غیر قانونی ہیں، انکوائری کو تحقیقات میں بدلنے کے بعد نیب نے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جس 190 ملین پاؤنڈ کی کرپشن کا الزام ہے وہ سپریم کورٹ میں پہلے ہی جمع ہو چکے ہیں، حکومت جب چاہے 190 ملین پاؤنڈ کو کہیں بھی منتقل کر سکتی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی حدود سے گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں، میری زندگی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست جمع کرائی ہے۔واضح رہے کہ کل دوپہر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بائیو میٹرک کروانے کے لیے جیسے ہی اسلام ا?باد ہائی کورٹ کے متعلقہ آفس جانے لگے تو راستے میں انہیں رینجرز نے حراست میں لے لیا تھا۔

عمران خان گرفتاری کیس، جلد سماعت کیلئے درخواست پر اعتراضات دور

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان گرفتاری کیس کی جلد سماعت کے لیے درخواست پر اعتراضات دور کر دیے۔عمران خان کے وکیل راجا عامر عباس نے کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے کے لیے درخواست دائر کی۔اعتراضات دور ہونے کے بعد رجسٹرار آفس نے عمران خان کی اپیل کو نمبر الاٹ کر دیا۔اس سے قبل سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے۔رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواست پر اعتراض عائد کر کے واپس کر دی تھی۔رجسٹرار آفس نے اعتراض لگاتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر سکتے تھے۔اعتراض میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عمران خان کی درخواست کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات مکمل نہیں ہیں اور عمران خان کا وکالت نامہ دستخط شدہ نہیں۔واضح رہے کہ عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف متفرق درخواست دائر کی گئی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74299

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف چترال شہر سمیت متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے، چترال کے دونوں اضلاع میں دفعہ 144 نافذ

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف چترال شہر سمیت متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے، ڈپٹی کمشنرز نے دفعہ 144 نافذ کردی

چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف چترال شہر سمیت متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گیے ۔ تحصیل کونسل کے چیرمین شہزادہ امان الرحمن نے گرفتاری کی خبر ملتے ہی جاری اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ۔ اور اتالیق پل پر ٹایر جلاکر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اسی طرح دروش ، بونی ، مستوج ودیگر مقاما ت پر بھی سابق وزیراعظم کی گرفتاری پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا،
دریں اثناء ڈی سی لویر چترال محمد علی خان نے فوری طور پر ضابطہ فوجداری کے دفعہ 144 نافذ کرکے جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے ۔جو دو مہینے کے لیے نافذ العمل رہیگا۔اسی طرح ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے بھی دفعہ ۱۴۴کے تحت ضلع بھر میں جلسہ جلوسوں پر پابندی عاید کردی۔

chitraltimes pti protest chitral chitraltimes pti protest chitral drosh

chitraltimes dc 144 imposed in chitral lower

chitraltimes dc 144 imposed in chitral upper

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
74267